فاروق عادلکالملکھاری

فاروق عادل کا کالم : عمران خان کا مستقبل

ہماری سیاست کی گوٹ 1977 میں جا اٹکی ہے۔ مطلب یہ کہ اس زمانے میں ملک جس قسم کے بحران سے دوچار ہوا تھا، موجودہ بحران بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ اس بحران نے ہم سے ذوالفقار علی بھٹو جیسا سیاست دان چھین لیا۔ بھٹو صاحب کی خوبیوں اور خامیوں پر بحث ہو سکتی ہے لیکن وہ جس انجام سے دوچار ہوئے، وہ بدقسمتی تھی۔ اس افسوس ناک واقعے نے ہمارے جسد قومی میں وہ زخم لگایا جس کی ٹیس ابھی تک محسوس ہوتی ہے۔
یہ ٹیس کس قدر جان لیوا ہے، اس کا اندازہ اس خونی شام کو ہوا جب یہ جان لیوا خبر لاڑکانہ پہنچی کہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا۔ کسی کو کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ لوگ میکانکی انداز میں گھروں سے نکلے اور بغیر کسی ترغیب کے پاکستان نہ کھپے کا نعرہ لگایا۔ اپنی محبوب اہلیہ کی وفات کا صدمہ کس قدر کتنا بھاری ہوتا ہے، یہ اس صدمے سے گزرنے والے ہی جان سکتے ہیں۔ آصف علی زرداری کو داد دینے کو جی چاہتا ہے جنھوں نے اس بھاری صدمے کے باوجود اوسان بحال رکھے اور سختی کے ساتھ کہا: ’پاکستان کھپے’
آصف علی زرداری کا یہ کارنامہ ایسا ہے جس پر ان کی ہزار خطائیں معاف کی جا سکتی ہیں۔ زرداری صاحب کی خدمت کا تذکرہ بھی بار بار کیا جائے تو کوئی ہرج نہیں لیکن سردست کچھ اور زیر بحث ہے۔ بھٹو صاحب کا سانحہ کیوں رونما ہوا، مؤرخ اس کے اسباب کا کھوج لگانے کو اس بحر کی تہہ میں اترے گا تو وجوہات کی طویل فہرست مرتب کر ڈالے گا لیکن سرفہرست ایک ہی وجہ ہوگی، عدم برداشت۔
بھٹو صاحب کی شخصیت کا تجزیہ کرتے ہوئے ان کے تضادات ضرور زیر بحث آتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے جاگیر دارانہ پس منظر نے ان کی جدید تعلیم اور جمہوری انداز فکر کو دھندلا دیا تھا۔ ان کی شخصیت کا تجزیہ فی الحال مطلوب نہیں لیکن اگر یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ ان کے مزاج میں شدت تھی اور وہ کسی دوسرے کو اپنا ہم سر بنانے یا ماننے پر تیار نہیں ہوتے تھے تو اس کے باوجود کچھ معاملات ایسے بھی سامنے آتے ہیں جن سے ان کی شخصیت کی کشادگی ظاہر ہوتی ہے۔
عمومی خیال یہی ہے کہ 1977 کا سیاسی بحران ان کی ضد کی وجہ سے پیدا ہوا۔ اس دعوے کے حق میں بہت سے شواہد میسر آتے ہیں۔ ان شواہد نظر انداز کرنے کے بجائے پیش نظر رکھیں اور ایک مختلف منظر دیکھیں۔ وہ بھٹو جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے تھے، بحران پیدا ہوا تو وہ خود چل کر جیل یا اس مقام پر پہنچے جہاں پاکستان قومی اتحاد کے قائدین یعنی مولانا مفتی محمود اور دیگر کو نظر بند رکھا گیا تھا۔ بھٹو صاحب نے جیلوں میں جاکر اپنی مخالف قیادت سے صرف ملاقاتیں ہی نہیں کیں بلکہ وہ ماحول بنانے میں بھی کامیاب رہے جس میں مذاکرات ہوئے اور فریقین ایک آبرو مندانہ معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ یہ معاہدہ کیوں بروئے کار نہ آ سکا، یہ ایک الگ بحث ہے۔
ہمارے لیے اس واقعے میں سبق یہ ہے کہ کسی کو کبھی خاطر میں نہ لانے والے ایک طاقت ور حکمران نے اپنی انا کو ایک طرف رکھا اور وہ سب کچھ کیا، حالات جس کا تقاضا کرتے تھے لیکن ماضی کی تلخی نے اس کے باوجود پیچھا نہ چھوڑا اور ہم بدقسمتی سے محفوظ نہ رہ سکے۔
تاریخ کو ذرا ایک طرف رکھ کر موجودہ صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو صورت حال مختلف دکھائی دیتی ہے۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ عمران خان برابر کی نشست پر بیٹھے ہوئے قائد حزب اختلاف سے مصافحہ کرنے کے روادار نہ تھے۔ ہماری اخلاقی قدریں اس ضمن میں کیا کہتی ہیں اور کسی اجتماعیت میں بیٹھنے کے طور طریقے کیا ہوتے ہیں، ان باتوں کو ایک طرف رکھ کر یہ جائزہ لیجیے کہ اس ڈیڈ لاک نے ہمارے نظام مملکت کو کہاں لا کھڑا کیا تھا؟
ہمارا الیکشن کمیشن ایک طویل عرصے سے نامکمل ہے۔ دو صوبوں کے اراکین اپنا عرصہ مکمل کر کے سبک دوش ہو چکے ہیں۔ الیکشن کمیشن کی تکمیل ایک آئینی تقاضا ہے۔ اسے مکمل کیے بغیر عام انتخابات نہیں کروائے جا سکتے۔ ہمارا آئین یہ کہتا ہے کہ الیکشن کمیشن کی تکمیل حزب اقتدار اور حزب اختلاف مل کر کرتے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ دو فریق ملیں کیسے؟ ایک فریق یعنی حزب اقتدار تو حزب مخالف کے ساتھ کسی رابطے کی قائل ہی نہ تھی۔
اسی طرح آنے والے دنوں میں چیئرمین نیب کے تقرر کا چیلنج درپیش تھا۔ یہ تقرر بھی الیکشن کمیشن کی طرح ان دونوں فریقین کو مل کر کرنا تھا لیکن ظاہر ہے کہ الیکشن کمیشن کی طرح یہ کام بھی ممکن نہ ہوتا۔ عام انتخابات کی تاریخ کے اعلان کے بعد عبوری حکومت کا قیام بھی اسی طرح عمل میں آتا ہے۔ اس کا بھی کوئی امکان نہیں تھا۔ یوں پورا ریاستی ڈھانچا ڈیڈ لاک کا شکار ہو چکا تھا۔
یہ خبریں اگرچہ پہلے سامنے آ چکی تھیں لیکن اب ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کے بعد تو تصدیق ہو گئی ہے کہ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی یقینی بن جانے کے بعد بحران سے نمٹنے کے لیے اپوزیشن سے خود رابطہ کرنے کے بجائے آرمی چیف سے مدد کی درخواست کی گئی اور وہ عمران خان کے ایک ایلچی بن کر اپوزیشن کے پاس گئے۔ یہاں دو باتیں ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کراتی ہیں۔ اس قسم کا رابطہ کرانے والا اگر یہ سوچنے لگے کہ جس فریق میں معمول کا ایک رابطہ استوار کرنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے، اسے اقتدار میں رہنے کا کیا حق ہے؟
ایسی صورت حال ہی ہوتی جس میں کسی تیسرے فریق کو مداخلت کا موقع ملتا ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ تیسرے فریق نے اس مرحلے پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو ان بکھیڑوں سے دور رکھا ہے۔ یوں کوئی نئی پیچیدگی پیدا نہیں ہوئی ورنہ اس قسم کے حالات میں 1997 ؛جیسی پیچیدگیوں کا پیدا ہو جانا یقینی ہوتا ہے۔ اس صورت حال کا دوسرا پہلو پہلے معاملے سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ غیض و غضب کا شکار عمران خان نے اپنی دشمنی کے دائرے میں توسیع کر دی ہے اور اب وہ ریاستی اداروں کو بھی کٹہرے میں گھسیٹ رہے ہیں اور انھیں الزام دے رہے ہیں کہ انھوں ملک کا دفاع اور ایٹمی پروگرام غداروں کے ہاتھ میں دے دیا ہے۔
بحث کی خاطر کہا جاسکتا ہے کہ عمران خان کا یہ الزام ان کی بے سوچے سمجھے بات کرنے کی عادت کا نتیجہ ہے لیکن ریاستی معاملات میں ایسی باتوں سے صرف نظر نہیں کیا جاتا۔ یہ طرز عمل سنگین نتائج کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ عمران خان کا موجودہ طرز عمل ان کے اپنے سیاسی مستقبل اور پاکستان تحریک انصاف کے وجود کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہا ہے۔ تیزی سے بڑھتی ہوئی اس خلیج کو یہیں پاٹنے کی کوشش نہ کی گئی تو آنے والے چند ہفتے اچھی خبریں نہیں لائیں گے۔
( بشکریہ : ہم سب ۔۔ لاہور )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker