تجزیےفرخ رضا ترمذیلکھاری

جب فخر امام نے ضیاء مارشل لاء کے خلاف رولنگ دی ۔۔ فرخ رضا ترمذی

قومی سیاسی منظر نامہ پر قتال پور سیاسی مرکز کے اعتبار سے اہم ترین مقام رکھتا ہے یہاں پر آباد سادات قتالپور کا سیاسی سفر ایک روشن تاریخ رکھتا ہے۔سادات قتالپور، پیر اسماعیل شاہ بخاری کی اولاد میں سے ہیں جن کا شجرہ نسب حضرت جلال الدین سرخ بخاری سے ملتا ہے ۔
سادات قتالپور کے نامور سپوت اور قومی سطح پر اپنے اعلیٰ کردار اور شفاف سیاست کی بناء پر نیک نام شخصیت کے طور پر پہچان رکھنے والے سید فخر امام کو آج ایک بار پھر وزات کے منصب پر فائز کیا گیا ہے انہیں نیشنل فوڈ سیکورٹی کے وزیر کاقلمدان سونپا گیا ہے ۔
سید فخر امام 1942میں 18 دسمبر کو سید امام علی شاہ کے گھر پیدا ہوئے۔سید امام علی شاہ علی گڑھ یونیورسٹی سے گریجویٹ تھے اور ان کی شادی سر سید مراتب علی شاہ کی دختر سے ہوئی تھی ۔ سید فخر امام نے ابتدائی تعلیم ایچیسن لاہور سے حاصل کی بعد ازاں اعلی تعلیم کے لئے برطانیہ چلے گئے جہاں کلفٹن کالج میں بھی زیرتعلیم رہے، امریکہ کی کیلیفورنیا یونیورسٹی سے ایگریکلچر میں گریجویشن کی، وطن واپسی پر سی ایس ایس کا امتحان اعلی نمبروں سے پاس کیا،فنانس اکیڈمی میں تربیت مکمل کی تاہم سرکاری ملازمت اختیار نہ کی۔
سید فخر امام کی شادی 6فروری 1969 کو سادات شاہ جیونہ کے کرنل سید عابد حسین کی اکلوتی دختر سیدہ عابدہ حسین سے ہوئی ۔سیدہ عابدہ حسین سید فخر امام کی خالہ زاد ہیں۔
سید فخر امام نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز1979 میں بلدیاتی سیاست سے کیا جہاں حامد رضا گیلانی کے مقابلے میں چیئرمین ضلع کونسل کا الیکشن لڑا اور ضلع کونسل ملتان کے چیئرمین منتخب ہوئے۔1981میں سید فخر امام کو وفاقی وزیر برائے بلدیات کا قلمدان سونپا گیا۔1983 میں انہوں نے دوبارہ ضلع کونسل ملتان کی چیئرمین شپ کا الیکشن لڑا تاہم ایک ووٹ سے شکست کھا گئے سید فخر امام نے اسی وقت چند منٹ میں وزارت بلدیات سے استعفی دے دیا اور یہ پاکستان کی تاریخ کی پہلی مثال تھی۔
1985میں غیر جماعتیں الیکشن میں ایم این اے کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوئے۔ خواجہ صفدر کے مقابلے میں قومی اسمبلی کی اسپیکر شپ کا الیکشن لڑا اور 119ووٹ حاصل کر کے کامیاب ہوئے۔سپیکر شپ کے دوران انہوں نے ضیائی مارشل لاء کے خلاف رولنگ دے کر کہ مارشل لاء غیر قانونی ہے اور کوئی قانونی اتھارٹی نہیں رکھتا ” ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا تو 1986ء میں اُس وقت کے جنرل ضیاءالحق کے ایماء پر سید فخر امام کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی گئی جو کامیاب کروائی گئی۔اور سید فخر امام کو سپیکر شپ سے ہٹادیا گیا۔سید فخر امام نے اس وقت 72ووٹ حاصل کئے تھے۔
1986 تا1988 سید فخر امام قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف رہے۔1988میں وہ عام انتخابات میں الیکشن نہ جیت سکے تاہم 1990میں آئی جے آئی کے پلیٹ فارم سے وہ دوبارہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے،پہلے چند ماہ وہ پارلیمانی افیئرز اور قانون کے وزیر رہے بعد ازاں انہیں تعلیم کی وزارت سونپ دی گئی 1993 کے عام انتخابات میں وہ الیکشن نہ جیت سکے تاہم 1997کے الیکشن میں وہ تیسری بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوگئے اس مرتبہ انہیں چیئرمین ری سٹر یکچرنگ کے طور پر فرائض سر انجام دینے کا موقع ملا وہ ہمیشہ جمہوریت کے استحکام کے لئے جدوجہد کرتے رہے۔1997 تا 1999 کے دوران ان کے مسلم لیگی حکومت سے اختلافات شروع ہوگئے آپ نے ہم خیال گروپ بناکر حکومتی پالیسیوں پر تنقید شروع کردی۔1999میں مسلم لیگی حکومت کو تحلیل کردیا گیا، 2002ء کا الیکشن مسلم لیگ ق 2008ء کا الیکشن پاکستان پیپلز پارٹی اور 2013 کا الیکشن مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر لڑا لیکن تینوں میں کامیاب نہ ہوسکے۔2018کے عام انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر الیکشن لڑا اور فتح ان کا مقدر بنی ۔جیتنے کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت کے اختیار کرلی ہے اور اب PTI کے ایم این اے کے طور پر اسمبلی میں موجود ہیں اور چیئرمین کشمیر کمیٹی کے طور پر فرائض سر انجام دیتے رہے ہیں انہوں نے اس دوران مسئلہ کشمیر کو ایک بار پھر اجاگر کرتے ہوئے بین الااقوامی برادری میں کشمیری مسلمانوں کی وکالت احسن طریقے سے کی ہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker