شکاگو : نامور پشتو شاعرہ اور براڈکاسٹر زینت انجم خٹک برین ٹیومر کے باعث انتقال کرگئیں۔ فوزیہ انجم کے نام سے مشہور زینت انجم خٹک کا انتقال امریکی شہر شکاگو میں ان کی بیٹی کے گھر ہوا۔ ان کی تدفین شکاگو کے ایک قبرستان میں کی گئی، جہاں ان کی تینوں بیٹیوں، قریبی رشتہ داروں اور ساتھیوں نے شرکت کی۔ ادبی حلقوں سے تعلق رکھنے والوں نے ان کے انتقال کو پشتو کے لیے ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا۔ فوزیہ انجم کی پیدائش 5 جون 1939 کو جہانگیری میں ہوئی، انہیں نے ابتدائی تعلیم گاؤں کے ایک اسکول میں حاصل کی، جبکہ نفسیات، اردو اور پشتو ادب میں ماسٹرز پشاور یونیورسٹی سے کیا، وہ اس یونیورسٹی کے پشتو ڈپارٹمنٹ میں استاد بھی رہیں اور 1999 میں انھوں نے ریٹائرمنٹ لے لی۔ انہوں نے متعدد موضوعات پر پشتو جرائد میں مضامین تحریر کیے، وہ پشتو اور اردو میں شاعری بھی کرتی رہیں۔ 2008 میں امریکا منتقل ہونے کے بعد وہ پشتو ریڈیو کا حصہ بنیں اور ایک مشہور شو کی میزبانی کا آغاز کیا، جس کا حصہ وہ گزشتہ سال تک تھیں جس کے بعد انہیں اپنے برین ٹیومر میں مبتلا ہونے کا علم ہوا۔
جمعرات, دسمبر 11, 2025
تازہ خبریں:
- کیا نواز شریف اپنی سیاسی وراثت بچانا چاہتے ہیں؟۔۔ سید مجاہدعلی کا تجزیہ
- صحافت سچائی کا چراغ یا مفاد کی منڈی؟ ڈاکٹر جی ایم قمر کا اختصاریہ
- اتنی اندھیری تھی نہ کبھی پہلے رات : ڈاکٹر اختر علی سید کا کالم
- شاہ محمود قریشی ہسپتال سے ڈسچارج ، کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا
- عمران خان کے پاس کون سا ایک آپشن موجود ہے : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا تجزیہ
- جنگل نہیں، چمن بندی چاہیے : وجاہت مسعود کا کالم
- سابق وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پورکے وارنٹ گرفتاری جاری
- شہباز شریف کی حکومت کیوں ناکام ہے؟ ۔۔۔ سید مجاہد علی کاتجزیہ
- جج آصف کا بیٹا بھی جج بنے گا؟ : عمار مسعود کا کالم
- ادبی انعامات کی کہانی ، مشتاق یوسفی ، قدرت اللہ شہاب اور ممتاز مفتی کی باتیں: کوچہ و بازار سے ۔۔ ڈاکٹر انوار احمد

