فواد چوہدری کے بھائی اور ان کے وکیل فیصل حسین چوہدری نے بی بی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں دو روز سے بتایا ہی نہیں جا رہا کہ فواد چوہدری کو کہاں رکھا گیا ہے۔
فیصل چوہدری نے دعوی کیا کہ ’فواد چوہدری کو سیاسی انتقام کےتحت اٹھایا گیا ہے اور خدشہ ہے کہ زیر حراست انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ اپنے تحفظات پر مجسٹریٹ افس میں اتوار کے روز درخواست جمع کروائی ہے۔‘
فیصل چوہدری کے مطابق ’ سب سے پہلے یہ بتایا جائے کہ فواد چوہدری کہاں ہیں؟ کبھی کہا جاتا ہے کہ فواد کو لاہور لے جایا جا رہا ہے ، لیکن نہ ہی ملاقات کروائی جا رہی نہ رابطہ کروایا جا رہا۔ اہل خانہ اور وکلا دونوں سے ہی ان کی لوکیشن چھپائی جا رہی ہے۔‘
انھوں نے حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ’ فواد چوہدری کے لیے حکومت اغوا کار کا کردار ادا کر رہی ہے، آئین کے بنیادی حقوق کے تحت لازم ہے کہ ان کی عزت نفس اور وقار کا خیال رکھا جائے۔ ‘
واضح رہے کہ تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کے خلاف الیکشن کمیشن کے خلاف نفرت پھیلانے کے کیس کی سماعت آج ہو گی۔
واضح رہے کہ 28 جنوری کو دوران سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کی درخواست پر پی ٹی آئی رہنما فواد چوہدری کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔
دریں اثناء
اداروں کے خلاف اکسانے کے الزام میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی ائی) کے رہنما فواد چوہدری کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر آج سہ پہر 3 بجے دوبارہ اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
28 جنوری کو جوڈیشل مجسٹریٹ نے پولیس کی درخواست پر سماعت پی ٹی آئی رہنما کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا جب کہ اس سے ایک روز قبل عدالت نے پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے فواد چوہدری کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔
اسلام آباد کچہری کے اوقات کار کا آغاز ہونے کے کچھ دیر قبل جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص احمدراجا کمرہ عدالت میں پہنچے، پی ٹی آئی رہنما خرم شہزاد اور سینیٹر وسیم شہزاد، فواد چوہدری کے وکیل بابراعوان بھی اسلام آباد کچہری پہنچے۔
فواد چوہدری کے وکیل بابراعوان نے جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص احمد راجا سے درخواست کی کہ کیس کی سماعت اگر کچھ جلدی کردیں، جس پر جج نے حکم دیا کہ فوادچوہدری کیس کے لیے ساڑھے 11 کا وقت رکھ لیتےہیں۔
جس کے بعد عدالت نے حکم دیا کہ فوادچوہدری کو کچہری میں ساڑھے 11 بجے پیش کیاجائے۔
بعد ازاں جب کیس کی سماعت ہوئی تو جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے دبئی کے حاکم آ رہے ہیں، روڈز بلاک ہیں، جوڈیشل مجسٹریٹ نے بابر اعوان سے مکالمہ کیا کہ اس وجہ سے فواد چوہدری کو تاخیر سے پیش کیا جائے گا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ نے کہا کہ فواد چوہدری کا تو شاید رات کو میڈیکل ہو چکا ہے، لیکن رپورٹ ابھی تک آئی نہیں، جج نے ریمارکس دیے کہ پروسیکیوشن کنفرم کرکے بتا دیں گے کہ کب پیش کرنا ہے،جج نے نیب کورٹ کو ہدایت کی کہ تفتیشی افسر سے رابطہ کرکے پوچھیں کہ فوادچوہدری کو کب عدالت میں پیش کرنا ہے۔
فواد چوہدری کے وکیل بابراعوان نے کہا کہ ساڑھے 12 بجے کے آس پاس کا وقت بتا دیں، وکیل علی بخاری نے کہا کہ اگر ایک بجے بھی پیش کرنا ہے تو بتا دیں لیکن ٹھیک وقت بتادیں، وکیل بابراعوان نے کہا کہ پروسیکیوشن کو ضمیر کا قیدی بنایاہواہے۔
وکیل بابراعوان نے استدعا کی کہ پروسیکیوشن فواد چوہدری کو وقت پر پیش کرکے ضمیر جگالیں، ان کا ضمیر تو چھٹی پر گیا ہوا ہے، جج نے ریمارکس دیے کہ عدالتی عملہ فوادچودھری کو عدالت پیش کرنے کے حوالے سے پی ٹی آئی وکلا کو آگاہ کرےگا۔
جوڈیشل مجسٹریٹ وقاص احمدراجا کی عدالت میں ڈی ایس پی لیگل پیش ہوئے، انہوں نے کہا کہ فوادچوہدری کو عدالتی اوقات کے اندر ہی پیش کریں گے، جج نے استفسارکیا کہ کوئی ایک وقت بتا دیں تاکہ دیگر کیسز میں خلل نہ پیدا ہو، ڈی ایس پی لیگل نے کہا کہ فوادچودھری کا فوٹو گرامیڑک ٹیسٹ کروا لیاہے، میڈیکل کروانا ہے۔
عدالت نے ڈی ایس پی لیگل کو فوادچوہدری کو عدالت پیش کرنے کے حوالے سے وقت بتانے کی ہدایت کی جس پر ڈی ایس پی لیگل نے کہا کہ فوادچودھری کو تین بجے عدالت پیش کریں گے جس کے بعد عدالت نے فوادچودھری کیس کی سماعت میں وقفہ کردیا۔
فیس بک کمینٹ

