( گزشتہ سے پیوستہ )
ایسے ہی خوش نویسوں میں فیاض احمد کانام بھی نمایاں تھا جو پروفیسر حسین سحر کے جریدے ”اہل قلم“ کی کتابت کرتے تھے۔ اور جب میں اہل قلم کی پیسٹنگ کے لیے سحر صاحب کے گھر جاتاتھا تو فیاض احمد بھی کئی مرتبہ پروف کی غلطیاں لگانے یا صفحات کے اوپر مہینہ اورصفحہ نمبر لکھنے کے لیے وہاں موجودہوتے تھے۔روزنامہ سنگ میل میں مجھے جن خوش نویسوں کے ساتھ کام کرنے کاموقع ملاان میں حافظ سراج، عطاء اللہ درانی،سعید اللہ درانی، طاہر چوہدری،انتظارمحمد، اجمل چوہدری، معراج علیم اور دیگر کے نام قابل ذکر ہیں۔اسی دفتر کے قریب بہت سے چھاپہ خانے تھے جہاں اپنے زمانے کے نامور خوش نویس موجودہوتے تھے جن میں ایک نام سلیم شاہد کابھی تھا۔سلیم شاہد باذوق اور ادب دوست تھے اوران کے پاس عموماً ممتاز اطہر سمیت بہت سے شعراء موجودہوتے تھے۔ روزنامہ قومی آواز میں رحیم طلب خوش نویسی کرتے تھے جو بعدازاں ڈائریکٹر تعلقات عامہ کے عہدے سے ریٹائرہوئے۔وہ خودبھی سرائیکی کے نامور محقق اوردانشور ہیں۔اسی اخبارمیں میری پہلی مرتبہ راشد سیال سے ملاقات ہوئی تھی۔ راشد وہاں شہ سرخیاں لکھتے تھے اوراسی زمانے میں ان کی اٹھان بتاتی تھی کہ وہ مستقبل میں خطاطی میں ملتان کی پہچان بنیں گے۔روزنامہ امروزمیں ہم نے کام تو نہیں کیا لیکن اس اخبار کے ساتھ بہت مضبوط وابستگی تھی کہ امروزمیں ہی ہماری پہلی کہانی،پہلا مضمون اور پہلی غزل شائع ہوئی تھی۔روزنامہ امروز کی شہ سرخی یوسف بٹ کے موئے قلم کانتیجہ ہوتی تھی۔ان کے علاوہ استاد ظہوراحمد آزاد، استاد خلیل الرحمن چشتی اور گاہے گاہے ظہورتابش صاحب بھی امروز کی شہ سرخی لکھتے تھے۔
وہیں خالد محمودوارثی صاحب بھی موجودہوتے تھے جوہمیں بچوں کے صفحے کی اشاعت سے پہلے ہی بتادیتے تھے کہ ہماری کوئی کہانی یا نظم ان کے پاس کتابت کے لیے آگئی ہے یا نہیں؟ گویا ہمیں پہلے ہی معلوم ہوجاتاتھا کہ اس مرتبہ امروز میں ہماری کوئی تحریر شائع ہوگی یا نہیں۔روزنامہ سنگ میل میں حافظ سراج صاحب بلند پایہ خطاط تھے اور انہوں نے میرے کالم ڈرتے ڈرتے کا پہلا لوگو بھی ڈیزائن کیاتھا۔جو بعد میں میرے سکیچ کے ساتھ علی اعجاز نظامی نے مکمل کیا ۔ عطاء اللہ درانی کے ساتھ ایک چھوٹا سا بچہ سعید اللہ بھی اسی اخبار میں تخت پر ٹیک لگا کر خوش نویسی کرتاتھا(خوش نویس اس زمانے میں کرسیوں پرنہیں تخت پر بیٹھتے تھے)۔ بعد کے دنوں میں سعید اللہ نے کمپیوٹرکا کام سیکھ لیا۔اپنا کمپیوٹر سسٹم لگایا اور پھرہماری کئی کتابوں کی کمپوزنگ بھی اسی کے ہاتھوں ہوئی جن میں سب سے اہم کتاب ”پاکستان کے 50سال،14اگست 1947سے 1997تک“ ہے۔اب تو وہ باقاعدہ اخباربھی شائع کرتا ہے۔
ہمارے زمانے میں روزنامہ نوائے ملتان میں ظہور تابش لیڈ لکھتے تھے۔ میری پہلی کتاب ”دن بدلیں گے جاناں“ کی کتابت بھی ظہور تابش نے کی تھی۔ مجھے چونکہ روزانہ کالم بھی لکھنا ہوتاتھا اس لیے خوش نویسوں میں سے بہتر لکھائی یا میرے نخرے برداشت کرنے والے کسی خوش نویس کی میرے ساتھ ڈیوٹی لگا دی جاتی تھی۔سومیرے کالم کی کتابت روزانہ اس کے فرائض میں شامل ہوتی تھی۔روزنامہ نوائے ملتان میں چاچا حیات جاوید میرا کالم لکھتے تھے۔ حیات جاوید ڈرامہ نگار بھی تھے اور ڈائریکٹر بھی۔انہوں نے ادارہ فروغ ثقافت بھی قائم کررکھاتھاجس کے زیراہتمام وہ ڈرامے سٹیج کرتے تھے۔ آج کے نوجوانوں کو شاید دانے دار کتابت کا بھی علم نہ ہو۔ خبروں کے لیے جو تحریر مخصوص تھی اسے ہم ٹھوس کتابت کہتے تھے۔ لیکن کالم عموماً دانے دار کتابت کے ساتھ شائع ہوتے تھے اور دانے دار کتابت یہ تھی کہ خوش نویس لفظوں کو جوڑ کر لکھنے کی بجائے معمولی فاصلے کے ساتھ لکھتاتھااوریوں یہ قدرے کھلی کھلی کتابت کالم کو نمایاں کردیتی تھی۔
یہیں ایک اور حوالہ بھی مناسب رہے گا اوروہ حوالہ مسطر کاہے۔ مسطر وہ گراف ہوتاتھا جس پر خوش نویس کتابت کرتے تھے یا کاپی جوڑی جاتی تھی۔ مسطر دراصل سطر سے مشتق ہے۔یہ کئی طرح کاہوتاتھا،اخبار کاالگ اور کتابوں اوررسائل کاالگ۔ اخبار کا مسطر آٹھ کالموں کا ہوتاتھا اوراس میں ہر کالم پر سطریں بھی موجودہوتی تھیں۔اسی مسطر پر بٹر پیپر جوڑ کر اخبار کی کاپی تیار کی جاتی تھی۔ بٹر پیپرباریک کاغذ کو کہتے ہیں جسے عرف عام میں گڈی کاغذ بھی کہاجاتا ہے۔ لیکن یہ اس سے قدرے مختلف ہوتاتھا اوراس پر پیلیکن کی سیاہی سے لکھا جاتاتھا۔یہ سیاہی واٹر پروف تھی۔لکیریں لگانے کے لیے پیلیکن کے پوائنٹر استعمال کیے جاتے تھے۔اخبار کے علاوہ آٹھ صفحات اورسولہ صفحات والے مسطر بھی استعمال ہوتے تھے۔کتاب عموماً سولہ صفحات اور رسائل آٹھ صفحات والے مسطر پر جوڑے جاتے تھے۔کاپیاں اس ترتیب سے جڑتی تھیں کہ کتاب کے پہلے صفحے کے پیچھے سولہواں اور دوسرے صفحے کے پیچھے پندرہواں صفحہ جڑتاتھااور یہ صفحات بعدازاں فولڈنگ کے بعد ترتیب میں آجاتے تھے۔اس زمانے میں مجھے کاپی پیسٹنگ بھی آتی تھی اور میں بلیک اینڈوائٹ ہی نہیں رنگین کاپیاں جوڑنے میں بھی مہارت رکھتاتھا۔ مقامی اخبارات میں بہت سے نیوزایڈیٹرکاپی پیسٹر کے طورپر بھی خود ہی کام کرتے تھے اوراس کا انہیں اضافی معاوضہ ملتا تھا۔
یہیں مجھے کچھ اوراخبارات میں کام کرنے والے خوش نویسوں کا ذکر کرنا ہے۔روزنامہ آفتاب میں ہم جب بچوں کی کہانیاں شائع کرواتے تھے تو وہاں ارشد خرم خوش نویس کے طورپر منسلک تھے جوبعدازاں نامور خطاط کے طورپر دنیا بھر میں جانے گئے۔ روزنامہ سنگ میل کے دفترآتے جاتے میں ابن کلیم صاحب کے دبستان خطاطی پربھی کچھ دیر کے لیے رکتاتھا۔ ان کے صاحبزادے مختارعلی اب اپنی منفرد پہچان رکھتے ہیں۔روزنامہ نوائے وقت میں بھا اشرف،تایا نور محمد، منیر بیگ اور اعجازصاحب جیسے خوش نویس موجودتھے۔جس زمانے میں نوائے وقت سے منسلک ہوا وہاں کمپیوٹر رائج ہوچکاتھا اور نوائے وقت نے خوش نویسوں کو گھربھیجنے کی بجائے کمپیوٹر کے ساتھ وابستہ کردیا۔اعجازصاحب اور منیر بیگ آرٹ ایڈیٹر کے طورپر کام کرتے تھے۔جب کاپیاں کمپیوٹر پر منسلک ہوئیں تو یہ دونوں آرٹ ایڈیٹر بھی کمپیوٹر پر کام کرنے لگے۔نوائے وقت میں ہی ناصر قادری کام کرتے تھے جو اپنی بذلہ سنجی اور سیاہ رنگت کی وجہ سے زیربحث رہتے تھے۔ ہم انہیں عر ف عام میں ناصر کالیا کہہ کر پکارتے تھے۔ مجال ہے کہ ان کے ماتھے پر کبھی بل آیا ہو۔ شدید گرمی میں جب انہیں پسینہ آتاتھا تو ہم کہتے تھے ناصر نیوزسلپ سے پسینہ صاف مت کرنا ورنہ تمہاری تصویرسلپ پر چھپ جائے گی۔اورہاں آخر میں یہ بھی بتاتا چلوں کہ سلپ کیا ہوتی تھی۔ نیوز پرنٹ کے کاغذوں کو کٹائی کے بعد رائٹنگ پیڈ کے طورپر استعمال کیاجاتاتھا۔یہ کاغذ اس لکھنے کے لیے ہی نہیں ٹشو پیپر کے طورپر بھی استعمال کیے جاتے تھے۔ کیسا خوبصورت زمانہ تھا اور کیا کیا خوبصورتیاں تھیں جو اب صرف یادوں میں محفوظ ہیں۔
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )
فیس بک کمینٹ

