اس معاشرے سے جہاں بہت سی روایات ختم ہوئیں وہیں مختلف شعبوں سے بہت سے ہنر مند بھی اپنی تمام تر خوبصورتیوں کے ساتھ ماضی کا حصہ بن گئے۔ ان خوبصورتیوں کے خاتمے میں ہمارے کردارکے ساتھ ساتھ وقت کی رفتار کابھی بہت عمل دخل ہے جو ہنرمند اور ان سے وابستہ خوبصورتیاں رخصت ہوئیں ان میں ایک خوبصورتی خوش خطی یا خوش نویسی کی بھی تھی۔ ہمارے زمانہ طالب علمی میں خوش خطی کے الگ سے نمبر ہوا کرتے تھے، یہ وہ زمانہ تھا جب بچوں کی تعلیم کاآغازتختیاں لکھنے سے ہوتا تھا اور تختی کے ساتھ ایک گاچی بھی ہوتی تھی جو عرف عام میں گاچنی کہلاتی تھی۔یہ مٹی کا ایک ٹکڑا ہوتا تھا جس کا لیپ تختی پر پہلے سے موجود عبارت کو ختم کر دیتا تھا اور پھر اس پر قلم دوات کے ذریعے بچے لکھنا سیکھتے تھے۔گاچی بوریوں میں مٹی کے بڑے بڑے ٹکڑوں ( ڈھیلوں کی صورت ) میں بھی فروخت ہوتی تھی اور گول سانچوں میں ڈھلی ہوئی بھی سٹیشنری کی دکانوں سے دستیاب ہوتی تھی۔سرکنڈے کے قلم اور سیاہیاں تیار کرنابھی ایک ہنرتھا۔سیاہی ٹکڑیوں کی صورت میں بھی ملتی تھی اور دوات میں بھی فروخت ہوتی تھی، سیاہی کو اس روشن زمانے میں روشنائی کہاجاتاتھا، قلم دوات کے علاوہ کاغذ پر لکھنے کے لیے ہولڈر اورنبیں بھی ہوتی تھیں۔ انگریزی لکھنے کے لیے آئی اور اردو لکھنے کے لیے زیڈ کی نب استعمال کی جاتی تھی، لفظوں کو دائرے بناتے ہوئے کس طرح پھیلانا ہے اوراس کے لیے نب پر کتنا دباؤ ڈالنا ہے یہ بھی ایک ہنر تھا۔ہولڈر اورپین رکھنے کے لئے باقاعدہ ڈبے بھی فروخت ہوتے تھے اور قلم دان بھی جن کے اوپر پین یا قلم رکھنے کے لئے باقاعدہ ایک جگہ بنی ہوتی تھی اوراسی کو ہولڈر کہتے تھے جو قلم کو ”ہولڈ “یعنی قابو کیے رکھتا تھا۔
اس زمانے میں ایگل،ڈالر اور پارکر کے پین لکھنے والوں میں بہت مقبول تھے۔پارکر کا پین اس دور میں بھی آج کی طرح بہت قیمتی ہوتا تھا اور تحفے میں دیا جاتا تھا، اس پین کی بدقسمتی یہ تھی کہ ہم جیسے لوگ اسے گم ہو جانے کے خدشے کے پیش نظر برسوں سنبھال کر رکھتے تھے اور پھر کبھی جب استعمال کی ضرورت پیش آتی تو معلوم ہوتا کہ یا تو سنبھالا گیا پین واقعی گم ہو چکا ہے یا پھر اس کی سیاہی بھی خشک ہو چکی ہے۔اسی دوران بال پوائنٹ کا زمانہ آ گیا۔بال پین نے لوگوں کی لکھائی خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا،بال پوائنٹ دفاتر میں بہت مقبول ہوا جہاں تیزی کے ساتھ کام نپٹنانا ہوتے تھے۔ صحافت میں بال پوائنٹ ضرب المثل کی صورت بھی اختیار کر گیا اور اس کے حوالے سے منو بھائی کا ایک جملہ بہت مقبول ہوا۔ انہوں نے کسی کالم میں لکھا تھا ”کہ افغان مجاہدین نے اتنے روسی فوجی اپنے میزائلوں سے نہیں مارے جتنے ہم صحافیوں نے اپنے بال پوائنٹوں سے مار دیئے“۔
کمپیوٹر آیا تو سب کچھ ماضی کا حصہ بنتا چلا گیا لیکن آج ہم صرف شعبہ صحافت سے وابستہ خوش نویسوں کا ذکر کریں گے اور آج کی صحافت سے منسلک دوستوں کو ان یادوں میں شر یک کریں گے جو ان کی معلومات میں اضافے کا باعث بنیں گی لیکن، اس سے پہلے اخبارات کے دفاتر میں استعمال ہونے والے کاغذوں کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔ابتداء میں ہم نے جن دفاتر میں کام کیا وہاں کاغذ اور قلم وافر تعداد میں دستیاب نہیں تھے۔بال پوائنٹ ہم خود خریدتے تھے اورکاغذ پریس ریلیزوں والا استعمال ہوتا تھا۔ اخباروں کے دفاتر میں چونکہ بہت سے پریس ریلیز آتے تھے سوان کے ایک جانب لکھی ہوئی خبروں کو استعمال کرنے کے بعد ہم ان پر کراس لگا دیتے تھے اور پھر پریس ریلیز کو پلٹ کر ان کے اوپر خبریں بناتے تھے۔نوائے وقت میں آنے کے بعد پہلی بار کاغذ اور قلم وافر تعداد میں میسر آئے۔ کاغذ کے بعد اب سیاہی کا ذکر کرتے ہیں۔
قارئین محترم، اخباری صحافت میں دو طرح کی سیاہی استعمال کی جاتی تھی،جب ہم صحافت میں آئے تواس سے پہلے لیتھو پرنٹنگ اور لیتھو سیاہی کا زمانہ تھا۔ لیتھو طباعت نے ہمارے سامنے دم توڑا اور اس کی جگہ آف سیٹ پرنٹنگ آ گئی جس میں بٹر پیپر پر خوش نویسوں کی ٹیم کتابت کیا کرتی تھی۔ کتابیں بھی اس زمانے میں خوش نویس ہی لکھتے تھے جنہیں عرف عام میں کاتب کہا جاتا تھا۔ کتابت کے ساتھ اخبارات میں پروف ریڈنگ کا ایک شعبہ بھی ہوتا تھا۔ پروف ریڈرکا کام کتابت شدہ مسودے سے غلطیاں نکالنا تھا۔کاتب ختم ہوئے تو پروف ریڈر کی ضرورت بھی نہ رہی اور یہ کام بھی کمپیوٹر کے ذریعے سرانجام پانے لگا۔ کاتب چونکہ اخبار کی ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتے تھے اس لیے ان کی تنخواہیں بھی بسا اوقات ایڈیٹر صاحبان کے برابر اور کبھی کبھار تو ان سے زیادہ بھی ہوتی تھیں۔اخبارات کے دفاتر میں ادارتی عملے سے پہلے کتابت سیکشن کو تنخواہ ملتی تھی کہ ان کی ہڑتال سے سب ڈرتے تھے۔خوش نویسوں کی کئی اقسام تھیں، کچھ لوگ باریک لکھنے والے اور کچھ جلی سرخیاں لکھنے کے ماہر تھے۔شہ سرخی لکھنے والے کو سب سے اہم سمجھا جاتا تھا اور عموماً وہ خوش نویسوں کی ٹیم کا سربراہ ہوتا تھا جیسے نیوز روم میں نیوز ایڈیٹر اداراتی عملے کی قیادت کرتا ہے اسی طرح کتابت سیکشن میں ہیڈ کاتب خوش نویسوں کا سربراہ ہوتا تھا،کس کی ڈیوٹی کب لگانی ہے،کسے چھٹی دینی ہے،تنخواہ کتنی ہو گی، ہفتہ وارچھٹیاں کیسے ہوں گی،صفحہ اول اورآخر پر کون سے خوش نویس ڈیوٹی دیں گے اور اندرونی صفحات پر کون کام کرے گا۔ یہ سب معاملات ہیڈ کاتب ہی دیکھتے تھے۔خوش نویسوں کی ڈیوٹی میں اخبار کے مکمل دو کالم تحریر کرنا شامل ہوتا تھا۔دوکالم کی ڈیوٹی مکمل ہونے کے بعد اگر ضرورت محسوس ہوتی تو ان سے اضافی کام بھی کروایا جاتا تھا جس کی ادائیگی کالموں کی پیمائش کے مطابق کی جاتی تھی۔یہ ایک طرح سے خوش نویسوں کا اوور ٹائم ہوتا تھا۔ ہمیں یہ ساری باتیں گزشتہ ہفتے برادرم لقمان ناصر کے صاحبزادے کی شادی میں اپنے زمانے کے نامور خوش نویس رحمت علی انصاری سے ملاقات کے بعد یاد آئیں۔رحمت علی انصاری کانام ملتان میں کتابیں لکھنے والوں میں بہت نمایاں تھا۔ جو خوش نویس کتابیں لکھتے تھے ان کا ادیبوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بھی رہتا تھا اور وہ شعر وادب کے دلدادہ بھی ہوتے تھے۔قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ بہت سے خوش نویس خود شعر بھی کہتے تھے جن میں تاثیر نقوی،وزیری پانی پتی، ابن کلیم کے نام قابل ذکر ہیں۔ رحمت علی انصاری سمیت اس زمانے کے خوش نویسوں کو آج بھی بہت سے اشعار ازبر ہیں۔
( جاری ہے )
فیس بک کمینٹ

