تجزیےحبیب خواجہلکھاری

وائرس بانٹنے والے کرنسی نوٹوں سے کیسے بچیں ؟ حبیب خواجہ

اس دور کی متعدی عفریت کورونا کے پیش نظر آدمی سماج بیزار ہو جائے، دوستوں اور احباب سے اجنبی ہو جائے، شناسا و غیر شناساؤں سے معانقہ تو کجا مصافحہ بھی چھوڑ دے، بچوں سے لاڈ پیار ترک کر دے، بیوی کے قریب بیٹھنا چھوڑ دے اور سب سے بڑھ کر کمزور صحت بوڑھے والدین سے بھی دور رہے ۔ یہ کیسا المیہ ہے۔
مگر پھر بھی کرنسی کا یہ موا نوٹ گلے لگا کر رکھنا پڑتا ہے ۔ بلکہ مستقبل قریب میں ممکنہ کلوز ڈاؤن کی صورت میں پیدا ہونے والی مالی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر پیسوں اور ان نوٹوں کی ضرورت پہلے سے بھی کہیں بڑھ گئی ہے . لاک ڈاؤن ہو جانے کے باوجود کرنسی کا محدود استعمال جاری رہیگا . کیونکہ اس حالت میں بھی کھانے ، اشیائے خورد و نوش اور ادویات کی ہوم ڈلیوری جاری رہنے کی امید ہے .
‘کسی سے ہاتھ نہ ملائیں’ ، ‘کہیں ہاتھ لگائیں تو ہاتھ دھوئیں’ ، ‘دروازے کے ہینڈل کو بھی بار بار صاف کریں’ جیسے مشوروں کے بیچ ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ مختلف دھاتوں اور شیشے و پلاسٹک کی اشیاء پر دنوں کی مختلف تعداد تک وائرس اپنا وجود قائم رکھ پاتا ہے . ان کے بقول کاغذ پر بھی یہ وائرس کم از کم چار دن تک زندہ رہ سکتا ہے .
ایسے ہی، خود سے طاری کردہ اجنبیت کے باوجود انسان بار بار بیس بیس سیکنڈ تک ہاتھ بھی دھو لے، بازاروں کا رخ بھی نہ کرے، بچے گیند سے بھی نہ کھیلیں مگر بھلے کم ہی سہی نوٹ کو تو بہرحال ہاتھ لگانا ہی پڑتا ہے . مگر جہاں بھانت بھانت کے مشورے دئے جا رہے ہیں، کسی نے یہ نہیں کہا کہ نوٹ لینے کےبعد اسے صاف کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ بھی سینیٹائز کر لیں . کسی مفکر و دانشور کو نوٹ سے بیزاری یا اسے سینیٹائز و اسٹرلائز کرنے کی بات نہیں سوجھی .
بینکوں کی طرف سے جاری کئے گئے نئے نوٹوں کے برعکس عام طور پر پرانے، گلے سڑے اور میلے کچیلے نوٹوں پر گندی شکنیں اور مسام بن جاتے ہیں جن میں قرار پا کر وائرس چار دن تک اگلے لوگوں تک منتقل ہونے کیلیے تاک میں رہ سکتا ہے . یوں یہ نوٹ وائرس پھیلانے کیلیے ہاتھ ملانے کی نسبت کافی آئیڈیل ہو سکتے ہیں . اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ گلے سڑے نوٹ لیکر نئے نوٹوں کا اجراء کرے جبکہ دیگر بینکوں کو پابند کیا جائے کہ پرانے گردش کرتے نوٹ کھاتہ داروں و دیگر گاہکوں کو دینے سے قبل اسٹرلائز کریں . صحت عامہ کیمطابق اور اینٹی وائرل کسی ایسی اسٹرلائزیشن کیلیے اسٹیٹ بینک دیگر تمام بینکوں کی راہنمائی اور معاونت کرے .
آئندہ نئے چھپنے والے نوٹوں کیلیے جہاں نوٹوں کے سیکیورٹی فیچر پر دھیان دیا جائے ، وہیں اس کے اینٹی وائرل فیچرز کو بھی بڑھایا جائے . نوٹوں کیلیے مطلوب کاغذ کی تیاری میں ایسا کیمیکل شامل کیا جائے کہ نوٹ گل سڑ بھی جائیں تو ان میں شامل کیمیائی اینٹی وائرل اجزاء قطعاً ختم نہ ہوں .
آجکل یورپی بینکوں کے کاؤنٹر پر بڑی سی باکس جیسی مشین پڑی ہوتی ہے . اس کے ٹرے میں نوٹ رکھے جاتے ہیں تو گنتی کیساتھ نوٹ کی اصلیت بھی چیک کرتی ہے اور انہیں تہہ در تہہ جمع کرتی جاتی ہے . اور حسب ضرورت مطلوبہ رقم گن کر دے بھی دیتی ہے . بینکوں کیلیے ایسی الیکٹرانک مشینری بنانے والے ادارے ایسی کاؤنٹنگ مشینوں کے ڈیزائن میں تھوڑی سی تبدیلی ایسی کریں کہ ان سے نکلے ہوئے نوٹ ایک بار پھر اینٹی وائرلی ایکٹیو ہو جائیں .
جذ ام اور طاعون کیطرح کرونا بھی ایک دن معدوم ہو جائے گا مگر جب تک دنیا قائم ہے سردیوں کا فلو اور دوسرے وائرس آتے رہیں گے اور یونہی انسانیت پر دہشت ڈھاتے رہیں گے . کسی بھی وائرس کے عوام میں بڑے پیمانے پر پھیلاؤ کیخلاف پیش بندی کے طور پر ضروری ہے کہ جہاں قرنطینہ، گلوز، ماسکس اور ادویات و ویکسین پر نظر رہے وہیں کرنسی نوٹوں میں موجود وائرس پھیلاؤ کے خطرات کو بھی جانا جائے اور ممکنہ حفاظتی اقدامات اٹھائے جائیں .

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker