اختصارئےحبیب خواجہلکھاری

کیا چیف جسٹس اب چھاپےمار سکیں گے ؟ حبیب خواجہ

اب کون ہسپتالوں میں چھاپے مارے گا ؟ ڈیم اب کون بنائے گا ؟ اور آبادی جو ہے اسے کنٹرول کون کرے گا ؟ چیف کے خواب کا اب کیا ہو گا ؟ حالیہ متنازعہ فیصلے کے بعد یقین جانئے اب چیف صاحب تماشہ لگانے کیلیے باہر نہیں نکل پائیں گے ۔ بقیہ مدت دل لگا کر صرف کیسز سنیں گے ۔ یوں وزراء اور انتظامیہ سکون کا سانس لیں گے اور راوی کو بھی چین لکھنا نصیب ہو گا ۔ ان کی سیکیورٹی کا “اضافی بوجھ” ہر وقت کوئی ادارہ نہیں اٹھا پائے گا ۔ ریٹائرمنٹ کےبعد کی زندگی پاکستان میں گزارنے کا تو سوچیں بھی مت ۔ مگر اس سب پیشرفت کا ذمہ دار ہے کون ؟
چیف کے خلاف سازش کی گئی ہے ، اسے پھنسا دیا گیا ہے ۔ نواز شریف کے خلاف نیوٹرل اور اپنے تئیں فیصلے کرنے کو ثابت کرنے کیلیے یا دوسرے لفظوں میں شلجم سے مٹی جھاڑتے جھاڑتے ایسا کچھ کرنے لگے تھے جو اس حکومت کو قطعی منظور نہ تھا ۔ آئے روز نئی حکومت کیلیے سبکی کا سامان بنانے اور دیگر مسائل پیدا کرنے پر ورکرز ان کو ہٹانے کیلیے پارٹی میٹنگز اور سوشل میڈیا پر باتیں کرنے لگے تھے ۔
نواز شریف پر توہین رسالت کا الزام لگانے والے اس فیصلے کےبعد آج پکڑ میں آئے ہیں تو چیخوں کیساتھ انہیں اخلاقیات اور ریاست کے اثاثہ جات کے تحفظ کا درد ہونے لگا ہے ۔ انہوں نے جو گرہیں ہاتھوں سے لگائی تھیں اب دانتوں سے کھولنا ہونگی ۔ ( ہائے اس زود پریشاں کا پریشاں ہونا.. )
کیا آپ نے اپنی مخالفانہ سیاست چمکانے کیلیے بارہا عوام کو ریاست کے خلاف نہیں اکسایا تھا ؟ کیا انہی عناصر کی ہلہ شیری نہیں کی تھی جنہیں اب ریاست دشمن قرار دے رہے ہیں ؟
عمران خان کا بروقت خطاب فضا کو کچھ ٹھنڈا کرنے کا باعث بننا چاہئے ۔ اس تقریر میں ویسے تو کچھ غلط نہیں تھا مگر دوہرے معیار پر مبنی سوچ و عمل کی زندہ تصویر تھی ۔ یہی سب کچھ جب نواز شریف کو درپیش تھا تو ان کا طرز عمل بالکل مختلف تھا ۔ جب نظریہ ضرورت کے تحت ن لیگ کے ووٹ بینک میں سنگ لگانے اور حکومت کو متزلزل کرنے کیلیے ان کے مہربانوں نے راتوں رات ایک نئی جماعت کھڑی کر دی تھی جس کے لاکھ نخرے اٹھائے گئے ، اسے الیکشن کمیشن میں سیاسی جماعت رجسٹر کروایا گیا جو اب ملینز ووٹوں کی حامل ہو کر پارلیمانی جماعت بن چکی ہے ۔ بوتل میں بند جن جو کافی بچے پیدا کر چکا تھا ، اب بوتل توڑ کر باہر آیا ہے ۔ اور آتے ہی اپنے ہی ارباب پر چنگھاڑنے لگا ہے ۔ اب خالقوں کو چونکہ ضرورت رہی نہیں ، ان کو راہ راست پر لائیں گے ۔ وہی سب جو نواز دور میں کچھ نہ کر پائے تھے ، اب دیکھئے کیسی قوت سے نبٹتے ہیں ان جنات سے ۔ انہیں کسی زریں موقع پر استعمال میں لانے کیلیے لفافے دے کر واپس بوتل میں بند کرتے ہیں یا ان جنات کی بیٹریاں نکال کر اور پر کاٹ کر سارا زور توڑ دیتے ہیں ۔ کچھ بھی ہو ، اللہ نہ کرے قوم ایک بار پھر لال مسجد والا المیہ دیکھے ۔ہمہ گیریت کی وجہ سے اس کے اثرات مشرف دور کے اس واقعے سے کہیں بڑے ہو سکتے ہیں ۔ہر وہ شخص جس کو اس کیس کی جزئیات بھی معلوم نہیں ، لٹھ لیکر دوڑ رہا ہے ۔ کیا یہی اسلام کی تعلیمات ہیں ؟ جلوس یا مظاہرے عوام کا سیاسی حق ہے مگر اس کی آڑ میں سرکاری یا پرائیویٹ املاک کو خدارا نقصان ہرگز نہ پہنچایا جائے ۔ سرکاری و پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں تعطیل ، فلائٹوں کا شیڈول منسوخ ، چوک بند ، دکانیں مارکیٹیں بند ، دیہاڑی والے مزدور بیروزگار ، ریڑھی اور چھابڑی والے غریب بھی دیہاڑیوں سے محروم مگر کب تک ؟جمعرات اور جمعہ کو تو حالات نارمل ہونے والے نہیں ۔خطبات جمعہ میں خطیب حضرات نے عوام کو ٹھنڈا نہ کیا بلکہ اگر وہ مزید مشتعل ہو گئے تو ہفتہ اور اتوار کو بھی بظاہر حالات جوں کے توں رہیں گے ۔اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے ۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker