شاہد راحیل خانکالملکھاری

آسیہ کیس، ہنگامہ آرائی اور وزیر اعظم کی چتاونی ۔۔ شاہد راحیل خان

رات قوم سے خطاب کرتے ہوئے اپنی مختصر سی تقریر میں وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے آسیہ مسیح کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس فیصلے کو ماننے سے انکار کرنے اور اس پر سخت رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے احتجاج کرنے والوں کو ریاست پاکستان کی طرف سے چتاونی دیتے ہوئے کہا ہے کہ مظاہرین کی طرف سے کیا جانے والا یہ احتجاج اور مظاہرین کے قائدین کی طرف سے ریاست کے ادروں کی ذمہ دارشخصیات کے بارے میں استعمال کی جانے والی زبان برداشت نہیں کی جائے گی۔ اور یہ کہ مظاہرین ریاست سے ٹکرانے کی کوشش نہ کریں۔ بڑی اچھی بات ہے کہ وزیر اعظم پاکستان نے اس زبان درازی کا فوری نوٹس لیتے ہوئے قوم سے خطاب کا فیصلہ کیا اور پھر اپنے خطاب میں سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کو پاکستان کے آئین اور قانون کے مطابق قرار دیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا وزیر اعظم کی طرف سے دی جانے والی یہ چتاونی کافی ہے؟ اور کیا اس تنبیہ کے بعد ایسی ناپسندیدہ زبان اور بیان کی نوبت نہیں آئے گی؟ اور مظاہرین وزیر اعظم کی بات پر آمنا و صدقنا کہتے ہوئے اپنی زبان پر قابو رکھنے کا عہد کر لیں گے؟ رات میں نے ایک محبت کرنے والے دوست اور دانشور کے موبائل پر جو کلپ دیکھا اور اس میں مظاہرین کے قائدین کی جو گفتگو سنی ، اسے یہاں دہرانے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اس کا اگر عشر عشیر بھی کسی سیاست دان، کسی صحافی یا کسی دانشور کی زبان سے نکلا ہوتا تو اب تک اس کابال بچہ کوہلو ہو چکا ہوتا۔ تازہ ترین مثال سابق سینیٹر فیصل رضا عابدی کی ہمارے سامنے ہے۔مگر یہ دھمکیاں ہی نہیں بلکہ ان دھمکیوں پر عمل درآمد کے لیئے اکسانے والوں کو ہر حکومت بس اتنا ہی کہہ سکتی ہے کہ ”باز آ جاﺅ۔۔ورنہ “اور پھر ورنہ سے آگے حکومتوں کی رٹ جواب دے جاتی ہے۔ آج جن لوگوں کو وزیر اعظم پاکستان چتاونی دے رہے ہیں ، یہ لوگ یوں ہی ایک دم منظر عام پر نہیں آجاتے، پہلے حکومتیں اور مقتدر ادارے انہیں اپنے مقاصد کے لیئے پالتے پوستے ہیں پروان چڑھاتے ہیں۔ ان سے اپنے مقصد کا کام لیتے ہیں اور پھر بلآخر یہ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ جب چاہیں حکومتی رٹ کو چیلنج کر دیں۔ طالبان کی مثال بھی ہمارے عہد ہی کی مثال ہے جب ان کے بارے میں مقتدر اداروں کی رائے اس شعر کے مصداق ہوگئی ۔۔
جن پتھروں کو ہم نے عطا کی تھیں دھڑکنیں
وہ بولنے لگے تو ہمیں پر برس پڑے
ابھی کل کی بات ہے کہ فیض آباد دھرنے سے پہلے کتنے لوگ تھے ، جواس قسم کی زبان اور بیان کے حامل قائدین سے واقف تھے۔ سیاست میں تورواداری، بردباری اور تحمل کا جنازہ خود عمران خان کے پیروکاروں نے نکال دیا ہے۔ اب رہی سہی کسر علمائے دین ہونے کے دعویداران پوری کر رہے ہیں۔پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور کسی مسلمان کلمہ گو کا ایمان رسول پاک ﷺ کو نبی آخرالزماں تسلیم کیئے بغیر مکمل ہو ہی نہیں سکتا۔ نبی پاک ﷺ کی حرمت کا پاس اور تحفظ ہر مسلمان کے ایمان کا لازمی جزوہے۔ اس کے ساتھ ہی نبی پاکﷺ کی سنت۔آپ ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا۔ یہ آپﷺ سے محبت کا تقاضہ ہے۔قانون کا احترام بھی ہر شہری پر لازم ہے۔سپریم کورٹ آف پاکستان کے دیگر فیصلوں کی طرح اس فیصلے پر اختلاف اور تنقید کا حق بھی اپنی جگہ پر بجاہے اور اس فیصلے سے اختلاف کرنے والوں کے لیئے اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق بھی موجود ہے۔مگر کوئی بھی قانونی راہ اختیار کرنا اب ہمارے قومی مزاج کے خلاف ہوتا جا رہا ہے۔ خود کردہ را علاج نیست ۔لوگوں کو گروہ کی صورت میں سڑکوں پر لا کر دھرنے دینے کا آغاز ملک کی دینی جماعت ۔۔جماعت اسلامی نے کیا تھا۔ اور اسے آخیر تک وزیر اعظم عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی نے پہنچایا ہے۔تحریک انصاف کے ابتدائی دنوں میں عمران خان کے دایئں بائیں میاں محمود الرشد اور چوہدری اعجاز بیٹھے ہوا کرتے تھے ، ان دونوں کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا۔خیر۔ بات کا رخ کسی اور طرف نکل جانے سے پہلے عرض یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ریاست کی رٹ چیلنج کرنے والوں سے نبٹنے کا احتمام کریں ، صرف چتاونی دینا کافی نہیں۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker