Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
منگل, اپریل 28, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
  • کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
  • صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
  • اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری
  • ایران میں 4 مبینہ جاسوس گرفتار : ایک شخص کو پھانسی
  • ڈونلڈ ٹرمپ پر وائٹ ہاؤس میں قاتلانہ حملہ : بال بال بچ گئے
  • امن معاہدہ کس کی مجبوری ہے؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • اندھیر نگری چوپٹ راج : شاہد مجید جعفری کی مزاح نوشت
  • تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی : وجاہت مسعود کا کالم
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»تجزیے»پاک بھارت تعلقات: ہنوز دلی دور است ۔۔ حبیب خواجہ
تجزیے

پاک بھارت تعلقات: ہنوز دلی دور است ۔۔ حبیب خواجہ

ایڈیٹرنومبر 12, 20181 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

نواز شریف کی الیکشن مہم (2013) کے منشور کا ایک مرکزی و زریں نکتہ بھارت کیساتھ بہتر تعلقات اور خطے میں امن کا دیرپا قیام تھا ۔ یہ ان کا لا اُبالی بخار تھا نہ ہی بے وقت کا راگ ، بلکہ بطور اسٹیٹسمین یہ ان کا سوچا سمجھا اور دیرینہ خواب تھا ۔ اپنی پہلی حکومت کے دوران روس سے آزاد ہونے والی مسلم ریاستوں کے ساتھ ترجیحی بنیادوں پر تعلقات ، موٹر وے ہو یا آخری حکومت کے دوران سی پیک منصوبہ ، یہ سب پاکستان کو دنیا سے جوڑنے کے ان کے دیرینہ خواب کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ اس صدی کی ابتداء سے قبل ہی انہوں نے جان لیا تھا کہ یہ ایشیا کی ترقی و عروج کی صدی ہے اور اس سے بھرپور استفادے کیلیے ہمسائیوں کیساتھ حالتِ امن میں ہونا بہت ضروری ہے ۔ گزشتہ دورِ حکومت میں (1999-1997) ان کی کاوشوں سے دنیا نے آخر ایک دن ہندو متعصب جماعت کے وزیراعظم اٹل بہار واجپائی کو مینارِ پاکستان کے سائے تلے نواز شریف کیساتھ کھڑے دیکھا ، جہاں دونوں ہمسایہ ممالک کے وزرائے اعظم نے باہمی دوستی اور علاقے کی ترقی کا سہانا خواب دیکھا ۔ واجپائی کے اس اقدام کو متعصب ہندوؤں کی جانب سے پاکستان کیلیے سندِ قبولیت سے تعبیر کیا گیا ۔ مگر امن کا یہ سفر حصولِ منزل سے قریب تر تھا کہ ایک عقلِ کُل کی مہم جوئی کی بھینٹ چڑھ گیا اور یوں دو وزرائے اعظم کا مشترکہ خواب چکنا چور ہو گیا ۔
مطلوبہ ترقی کے حصول کیلیے ہمسائیوں کے بیچ فاصلوں کو سمیٹنے کیلیے ایک بار پھر اقدامات اٹھانے سے قبل عوامی حمایت حاصل کرنے کیلیے نواز شریف نے اپنے دیرینہ مقصد کو باقاعدہ انتخابی منشور کا ایک ضروری حصہ بنایا اور تمام عوامی اجتماعات میں اپنے اس عزم کا اعادہ کیا اور عوام سے حمایت طلب کی ۔ مگر الیکشن(2013) جیتنے کے بعد جونہی اس سمت میں پیش رفت کی کوشش ہوئی ، حکومت کیخلاف ایک محاذ کھڑا کر دیا گیا ۔ نواز شریف پر طرح طرح کے فقرے کسے گئے ۔ انہیں مودی کا یار ، بھارت نواز اور پاکستان کا غدار کہا گیا نیز ان پر بیجا الزامات لگائے گئے کہ انکے بھارت میں کاروباری مفاد ہیں – مگر "وہ الزام ہی کیا جو ثابت کیا جا سکے” کے مصداق آج تک کوئی بھی ایسا الزام ثابت نہیں کیا جا سکا ۔ اور جونہی امن مذ اکرات کیلیے تاریخوں کے تعین کی کوشش کی ، پاناما کا طوفان برپا کر دیا گیا ۔ حکومتی سربراہ کی سیاسی پوزیشن دگرگوں ہوتا دیکھ کر بھارت نے مذاکرات کی تاریخ دینے میں لیت ولعل سے کام لیا اور بالآخر مجوزہ مذاکرات التواء کا شکار ہو گئے ۔ اور کچھ عرصہ بعد ہی نواز کو پاناما کیس میں پراسرار طریقے سے اقامہ پر فارغ کر دیا گیا ۔
بعدازاں عام انتخابات میں کامیابی کے بعد نئی عمران حکومت نے جب عجلت میں مذاکرات شروع کرنے کیلیے پہلی ملاقات کی تجویز دی تو پہلے تو مودی حکومت نے رضامندی ظاہر کی مگر بھارتی میڈیا کی تابڑ توڑ تنقید اور خود پر تنگ ہوتی سیاست سے پریشان مودی حکومت اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی ۔ حلف برداری کے موقع پر مودی کو بلانے یا نہ بلانے کے مخمصے سے ظاہر ہوتا تھا کہ بھارت سے بہتر تعلقات حکومت کا عزم نہیں ۔ مگر پھر وزیراعظم نے اپنے پہلے خطاب میں پیشکش کر دی کہ "بھارت ایک قدم آگے بڑھائے گا تو ہم دو قدم آگے بڑھائیں گے” – مگر ستم ظریفی دیکھئے کہ اس بار مودی حکومت پر برے دن آئے ہوئے تھے جو من مانے افراد کو نوازنے کے الزام میں زبردست تنقید کا شکار تھی ۔
ایک تو بھارت کے ساتھ امن عمران خان کے منشور کا حصہ نہیں تھا ، دوسرے یہ کہ سابق وزیراعظم کے امن مشن کو سبوتاژ کیا گیا جس کا بھارتیوں نے بغور جائزہ لیا اور امن کیلیے انکی چاہت وہ بخوبی ملاحظہ کر چکے تھے ۔ تیسرے یہ کہ نواز شریف کے برعکس اور عمران خان کی طرح مودی کی انتخابی سیاست کا محور بھی پاک بھارت باہمی دوستی نہیں ہے ۔ چوتھے یہ کہ حلف لینے کےبعد پہلے خطاب میں "مودی کے ایک قدم کے جواب میں دو قدم” اٹھانے کی عمران خان کی پیشکش کے بعد انہوں نے خود پہل کیوں کی ؟ پانچویں یہ کہ ملاقات کیلیے انہوں نے عجلت میں ایسا وقت چنا جب بھارت میں عام انتخابات ہونے کو تھے اور مودی پر بھارت کی سیاست ہر روز تنگ ہوتی جا رہی تھی ۔ اور یوں پاکستان کی پہل کو رد کر کے پاکستان سے امن مزاکرات نہ کرنے کے اعلان سے مودی کو گھر پر سیاسی فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم ہی کیوں کیا گیا ؟ بھارتی انکار کے بعد عمران خان کے بیان کہ "مودی چھوٹا آدمی ہے مگر بڑے منصب پر براجمان ہے” نے سفارتی تعطل میں مزید بڑھاوا دیا ۔
پاک بھارت تعلقات میں کوئی بھی مثبت پیش رفت کم از کم اگلے بھارتی الیکشن تک تو ممکن نہیں ۔ کچھ عرصہ بعد آنے والی ۔ تب تک عمران خان دیگر معاملات کے علاوہ اندرون ملک معاملات سنبھالیں اور رہ گیا بھارت تو جان لیں کہ دہلی ہنوز دور است ۔

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleکیا سینئر صحافی نصراللہ چوہدری کی گمشدگی کا تعلق کراچی پریس کلب پرچھاپے سے ہے ؟
Next Article کراچی کی ایمپریس مارکیٹ، تعمیر سے تخریب تک ۔۔ ظفر سید
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

اپریل 28, 2026

کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم

اپریل 28, 2026

صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اپریل 28, 2026
Leave A Reply

حالیہ پوسٹس
  • ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم اپریل 28, 2026
  • کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم اپریل 28, 2026
  • صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ اپریل 28, 2026
  • تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون اپریل 27, 2026
  • اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری اپریل 26, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.