کراچی : رکن کراچی پریس کلب و سینئر صحافی نصراللہ چوہدری کی گمشدگی کو کراچی پریس کلب پر حالیہ چھاپے کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے ۔ نصراللہ چوہدری کی اہلیہ نے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا ہے ۔ اہلیہ کا کہنا ہے کہ نصراللہ چوہدری کو 10/11 نومبر کی شب سولجر بازار میں واقع گھر سے حراست میں لیا گیا، سادہ لباس میں ملبوس اہلکار گھر میں گھسے اور نصر اللہ چوہدری کو زبردستی ساتھ لے گئے ۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ میرے شوہر پر کسی قسم کا الزام ہے تو قانون کے مطابق آگاہ کیا جائے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ بغیر کسی مقدمے اور عدالت میں پیش کیے بغیر 24 گھنٹے سے زائد رکھنا غیر قانونی عمل ہے۔درخواست گزار غلام فاطمہ کے مطابق قانون نافذ کرنے والے ادارے شوہر سے متعلق کوئی معلومات فراہم نہیں کر رہے۔سندھ حکومت، آئی جی سندھ,،ڈی جی رینجرز، ایس ایس پی شرقی کو درخواست میں فریق بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے کی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ جمعرات کی شب محکمہ انسداد ہشت گردی پولیس نے کراچی پریس کلب پر چھاپہ مار کاروائی کے دوران پاک فوج کیخلاف چلائے جانے والے جماعت اسلامی کے خفیہ "میڈیا سیل” میں استعمال ہونے والے آلات اور عوام کو زائد نرخ پر فروخت کی جانیوالی ملکی اور غیر ملکی شراب کی سینکڑوں بوتلوں کو تحویل میں لے لیا ۔تاہم تین صحافیوں رفیع ناصر، رحیم راحت اور جاوید اقبال کو زہریلی شراب پلا کر قتل کرنے میں ملوث ملزم عبدالستار اعوان اور انٹرنیٹ کے ذریعے قومی سلامتی کو داؤ پر لگانے والے جماعت اسلامی کے صحافی نما کارکن عمارت کے عقبی راستہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ 08 نومبر 2018 کی شب 10 بجے CTD پولیس نے کراچی پریس کلب پر چھاپہ مار کاروائی کے دوران دو کمپیوٹر اور شراب کی سینکڑوں بوتلوں کو تحویل میں لے کر پاک فوج کیخلاف چلائے جانے والے جماعت اسلامی کے خفیہ "میڈیا سیل” اور عوام کیلئے چلنے والے غیر قانونی شراب خانہ کی ویڈیو اور تصاویر بنا کر مذکورہ رپورٹ حساس اداروں کو فراہم کر دی ہے- ذرائع کے مطابق CTD پولیس کو صحافتی حلقہ سے اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ کراچی پریس کلب کے اندر جماعت اسلامی کا ایک خفیہ "میڈیا سیل” قائم ہے جس کے ذریعے پاک فوج کیخلاف تیار کیا گیا مواد فیس بک اور ٹیوٹر سمیت دیگر ویب سائٹس پر ڈالا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق حساس اداروں نے CTD پولیس کی رپورٹ کے بعد جماعت اسلامی کے ذمہ دار اعجاز اللّٰہ خان کو کراچی اور حافظ فرحان گجر کو ساہیوال سے اسوقت گرفتار کیا جب ملزمان پاک فوج کیخلاف ادارہ نور حق میں تیار کیا گیا مواد خواتین کے نام پر بنائے گئے مختلف اکاؤنٹس کے ذریعے فیس بک اور ٹیوٹر پر ڈال رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق کراچی پریس کلب جو مکمل طور پر جماعت اسلامی کے زیر اثر بتایا جاتا ہے پر CTD پولیس کے چھاپہ کے دوران فرار ہونیوالا ملزم عبدالستار اعوان کراچی پریس کلب کی اوپری منزل پر شراب خانہ چلاتا ہے اور نومبر 2011 میں شراب کی قلت کے دوران ملزم عبدالستار اعوان نے صحافیوں سمیت کراچی کے ہزاروں افراد کو زہریلی شراب فروخت کردی جسکو پینے سے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے سابق چیف رپورٹر رفیع ناصر، روزنامہ عوام کے کورٹ رپورٹر رحیم راحت اور روزنامہ ایکسپریس کے مارکیٹنگ منیجر جاوید اقبال جاں بحق ہو گئے تھے تاہم کراچی پریس کلب کی انتظامیہ نے متاثرہ صحافیوں کے اہلخانہ کو فی کس دو لاکھ روپیہ ادا کر کے انھیں قانونی کاروائی سے باز رکھتے ہوئے پولیس کو نعشوں کے پوسٹ مارٹم سے روک دیا تھا۔ ذرائع کے مطابق کراچی پریس کلب کی اوپری منزل پر واقع "کارڈ روم” کے لاکرز اور پارکنگ میں واقع ملازمین کے کمروں میں شراب چھپا کر رکھی جاتی ہے جو بعدازاں کراچی کی بعض معروف سیاسی، مذہبی، سماجی اور قانونی شخصیات کو بھی زائد نرخ پر رات گئے تک فروخت کی جاتی ہے۔ اس چھاپے کے بعد سے رکن کراچی پریس کلب و سینئر صحافی نصراللہ چوہدری لاپتہ ہیں ۔
کیا سینئر صحافی نصراللہ چوہدری کی گمشدگی کا تعلق کراچی پریس کلب پرچھاپے سے ہے ؟
ایڈیٹر1 Views
Previous Articleناقابل اشاعت کالم: میں لفافہ صحافی کیسے بنا۔۔ عمار مسعود
Next Article پاک بھارت تعلقات: ہنوز دلی دور است ۔۔ حبیب خواجہ

