حیدر جاوید سیدکالملکھاری

نواز شریف کی بیماری اور علاج۔۔حیدر جاوید سید

جناب نواز شریف علاج کےلئے بیرون ملک جانے پر آمادہ ہوچکے‘ ان کے برادر خورد میاں شہباز شریف نے ای سی ایل سے نام نکلوانے کےلئے وزارت داخلہ کو درخواست دی ہے۔ لیگی ذرائع کہتے ہیں کہ علاج کےلئے بیرون ملک جانے سے مسلسل انکار کرنے والے نواز شریف کو ان کی والدہ‘ صاحبزادی‘ بہن اور بھانجیوں نے آمادہ کیا۔
محترمہ مریم نواز کہتی ہیں
”سیاست کےلئے عمر پڑی ہے‘ سیاست میرے والد کی زندگی سے اہم نہیں“۔
باپ کےلئے کسی بھی بیٹی کے یہی جذبات ہوسکتے ہیں۔
میاں نواز شریف کے بیرون ملک جانے کی خبر آتے ہی سوشل میڈیا پر طوفانی اٹ کھڑکا جاری ہے۔
ڈیل‘ ڈھیل‘ سودے بازی یہاں تک کہ ضامنوں کے اسمائے ہائے گرامی اچھالے جا رہے ہیں۔
وہ سابق جیالے جو یہ کہتے ہیں کہ مفاہمت کی سیاست کرنے والے یہ بھول گئے کہ شریف برادران نے محترمہ بیگم نصرت بھٹو اور بےنظیر بھٹو کی کردارکشی کی تھی، پی پی پی نے نواز لیگ سے ہاتھ ملایا تو ہم تحریک انصاف چلے آئے، پچھلے 24گھنٹوں سے آسمان سر پر ا±ٹھائے ہوئے ہیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ معروف سرمایہ کار میاں محمد منشا ضامن ہیں، نواز شریف چار قسطوں میں طے شدہ رقم ادا کریں گے۔
کتنی رقم؟
اس سوال کا جواب کسی کے پاس نہیں۔


دو ہفتہ قبل انصافی سوشل میڈیا مجاہدین نے ایک چھاتہ بردار ٹی وی اینکر کے اس دعوے کو خوب اچھالا کہ نواز شریف نے 10 سے 14ارب ڈالر دے دئیے ہیں، اب جلد ہی باقی معاملات طے ہوں گے۔ ڈیل کے ان دعووں پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے جب اس چھاتہ بردار سمیت چند دوسرے اینکروں کو طلب کیا تو یہ حضرت سوشل میڈیا کی سائٹ ٹویٹر سے اپنی وہ ٹویٹ ڈیلیٹ کرگئے جس میں 10سے 14ارب ڈالر کی ادائیگی و وصولی کا دعویٰ درج تھا۔
ان کے اس دعوے پر فقیر راحموں نے کہا تھا
“10ارب نواز شریف اور 14ارب ڈالر زرداری دینے پر آمادہ ہیں۔ حکومت نے ڈی چوک پر 24 ارب ڈالر گننے کےلئے مشینیں اور عملہ بھجوا دیا ہے اور دو وفاقی وزراءکی کمیٹی بھی بنا دی ہے جو اسلام آباد میں وہ عمارت تلاش کر رہی ہے جس میں 24ارب ڈالر گننے کے بعد رکھے جائیں گے”۔
ایک دوست نے فقیر راحموں سے پوچھا عمارت کی ضرورت کیوں آپڑی؟
تو کہنے لگے دونوں رہنماوں نے اصل میں
”ساری رقم ایک ایک ڈالر والے نوٹوں کی صورت میں ادا کی ہے“۔
اپنی بیماری کے باعث جب میاں نواز شریف جیل سے سروسز ہسپتال منتقل کئے گئے تو ان سطور میں عرض کیا تھا کہ
”ڈاکٹر اس بات پر متفق ہیں کہ میاں صاحب کو 10دن کی تاخیر سے ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ اگر بروقت ہسپتال منتقل کر دیا جاتا تو بیماری اس قدر سنگین نوعیت اختیار نہ کرتی“۔


ڈاکٹروں کے اس انکشاف کے بعد ہی معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل اور شریف خاندان کے ایک قریبی رشتہ دار نے ان سے سروسز ہسپتال میں الگ الگ ملاقات کی اور انہیں علاج کےلئے بیرون ملک جانے پر آمادہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
مگر میاں صاحب نے انکار کر دیا۔ ان کا موقف تھا
“میری بیٹی جیل میں ہے‘ دو بھتیجے اور پارٹی کے متعدد رہنما بھی جیل میں ہیں، ان حالات میں بیرون ملک جانے کا فیصلہ مناسب نہیں ہوگا”۔
نواز شریف کے اس انکار کے بعد ریاست کے ایک ذریعہ نے شہباز شریف سے رابطہ کیا (نواز شریف کی بیماری کے دوران یہ تیسرا رابطہ تھا) شہباز شریف مولانا فضل الرحمن کے کنٹینر پر ٹھنڈی ٹھار تقریر کرکے ریاستی ذریعہ سے ملاقات کےلئے روانہ ہوئے اور پیغام لےکر لاہور پہنچے، جہاں انہوں نے سروسز ہسپتال میں داخل اپنے بڑے بھائی سے ملاقات کی اور انہیں علاج کےلئے بیرون ملک جانے کا برادرانہ مشورہ دیا۔
علاج کےلئے بیرون ملک جانے کے اس مشورے کی بازگشت نون لیگ کے مشاورتی اجلاس میں بھی سنائی دی جہاں نواز شریف کی بیماری پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میاں شہباز شریف نے پارٹی رہنماوں کو یقین دلایا کہ کوئی ڈیل وغیرہ نہیں ہو رہی
”بعض ریاستی حکام“
میاں صاحب کی بیماری اور علاج میں تاخیر برتے جانے پر اب یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ انہیں بہتر علاج کےلئے بیرون ملک لے جایا جائے۔
دوسری طرف حکومت پنجاب کا قائم کردہ میڈیکل بورڈ بھی یہ واضح کرچکا کہ بعض ٹیسٹ پاکستان میں ممکن نہیں۔
ریاستی زعما اور شہباز شریف کے درمیان پچھلے دو تین ماہ سے نواز شریف کی بیماری کے حوالے سے رابطہ تھا، شہباز شریف چاہتے تھے کہ وہ اپنے بڑے بھائی کو علاج کےلئے بیرون ملک لے جائیں۔
حکومت مسلسل انکاری تھی مگر درمیانی راستہ بہر طور ”ریاستی زعما“
کی مداخلت پر نکالا گیا۔


ریاست اور شریف خاندان میں اس مفاہمت سے ڈیل نکالنے اور سول سپرمیسی کی بھد ا±ڑانے کا فی الوقت کوئی فائدہ نہیں۔
تلواریں سونتے پانی پت کی آٹھویں لڑائی لڑنے والوں کو جوش کی بجائے ہوش کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔
بیماری کا مذاق ا±ڑانے والے پس فطرت لوگوں کےلئے دعا ہی کی جاسکتی ہے۔
غریبوں کےلئے ہمدردی میں خون کے آنسو بہانے والے جماندرو تجزیہ نگاروں نے حرام ہے کبھی ایک غریب کو اپنے ساتھ بٹھا کر ایک وقت کی روٹی کھلائی ہو‘ دوائی لےکر دی ہو یا اس کے بچوں کےلئے موسم کے مطابق کپڑے لےکر دئیے ہوں۔
صاف سادہ بات یہ ہے کہ ریاست سابق وزیراعظم کی قید میں وفات کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی‘
کیوں؟
اس کی وجہ سمجھنے کےلئے افلاطونی دانش کی ضرورت نہیں
نواز شریف آج بھی وسطی پنجاب کے مقبول ترین لیڈر ہیں ان کی جماعت ساری ہیرا پھیریوں کے باوجود پچھلے الیکشن میں دوسرے نمبر پر آئی۔
سازش‘ ڈیل‘ ادائیگی‘ ضامن‘ ان باتوں میں کچھ نہیں رکھا وہ بیمار ہیں ان کا علاج ان کے خاندان کی تسلی وتشفی کےساتھ ہونا چاہئے۔ مریم نواز شریف درست کہتی ہیں ”سیاست کےلئے بہت وقت پڑا ہے اور سیاست میرے والد کی زندگی سے اہم نہیں“۔
(بشکریہ:روزنامہ مشرق پشاور)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker