حیدر جاوید سیدکالملکھاری

کورونا: زائرین کا معمہ اور حکمرا نوں کا طرز عمل ۔۔حیدر جاوید سید

سندھ حکومت کا یہ کہنا درست ہے کہ ”کرونا وائرس”کی صورتحال خطرات کی نشاندہی کر رہی ہے، تاخیر کے بغیر اہم فیصلے کرنا ہوں گے” آگے بڑھنے سے قبل یہ عرض کردوں کہ اس وقت سرکاری اعداد وشمار کے مطابق کرونا کے150مریض سندھ میں،15خیبرپختونخوا میں،4اسلام آباد میں، 3گلگت بلتستان، 10بلوچستان میں جبکہ پنجاب میں 2مریض سامنے آئے ہیں۔
780زائرین جن کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے ڈیرہ غازی خان میں بنائے گئے قرنطینہ میں منتقل کئے گئے ہیں 20فروری سے 10 مارچ کے دوران ایران سے تفتان کے راستے 5ہزار زائرین بلوچستان میں داخل ہوئے (5ہزار کی تعداد بلوچستان کے وزیراعلیٰ نے پچھلی شب ایک ٹی وی پروگرام میں بتائی) تین دن قبل 226یا230زائرین تفتان سے سکھر میں قائم کئے گئے قرنطینہ پہنچائے گئے۔ بقول پنجاب حکومت780زائرین ڈیرہ غازی خان کے قرنطینہ منتقل کئے گئے۔
زائرین کا ایک20رکنی گروپ سوموار کو خیبرپختونخوا میں سامنے آیا جس میں سے 15 افراد کے بارے میں اطلاع ہے کہ وہ وائرس سے متاثر ہیں۔ یہاں یہ عرض کردوں کہ جن زائرین کے وائرس میں متاثر ہونے کی پختونخوا کے وزیرصحت نے تصدیق کی ان میں سے ایک کے بھائی نے ڈیرہ اسماعیل خان میں صحافیوں سے رابطہ کر کے بتایا کہ ”ہم محفوظ ہیں”وضاحت صوبائی اور ضلعی حکام کی ذمہ داری ہے۔ ہم اپنے اس سوال کی طرف آتے ہیں اگر مان لیا جائے کہ 20 فروری سے10مارچ کے درمیان5ہزار زائرین ایران کے راستے تفتان پہنچے تو پھر 780میں230اور20جمع کرنے سے یہ تعداد1230بنتی ہے باقی 3770زائرین کہاں ہیں؟۔ پنجاب حکومت کہہ رہی ہے کہ صوبہ میں اب تک2مریض سامنے آئے ہیں جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق لاہور میں 16 مارچ کو دو مریض سامنے آئے ان دو افراد سمیت لاہور کے ہسپتالوں میں30مشتبہ مریض زیرعلاج ہیں، کل122افراد کے ٹیسٹ ہوئے، 83کو ٹیسٹ کلیئر ہونے پر ڈسچارج کیا گیا یہ تمام افراد مقامی تھے یا بیرون ملک سے آئے مقامی؟
دوسری طرف خود پنجاب حکومت دو دن قبل(ان سطور کے لکھے جانے سے) یہ تسلیم کر چکی ہے کہ پنجاب میں ایک ہزار ایسے شہری جو ایران، سعودی عرب، بحرین اور یورپی ممالک سے پچھلے ایک ماہ کے دوران آئے ان سے رابطہ نہیں ہورہا ”رابطہ کار ان کے گھروں پر جاتے ہیں تو جواب ملتا ہے وہ گھر پر نہیں ہیں”۔
یہ بھی عرض کرنے میں کوئی امر مانع نہیں کہ کورونا وائرس کے معاملے میں عوام الناس کاغیرمحتاط طرزعمل بھی افسوسناک ہے تعلیمی اداروں میں چھٹیاں بچوں کو محفوظ رکھنے کیلئے دی گئیں، والدین نے عزیز واقارب سے ملاقاتوں اور تفریحی مقامات کا رُخ کرلیا یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ مسائل پیدا کر سکتا ہے، والدین کو خود ہی احساس کرنا چاہئے۔
اہم بات یہ ہے کہ حکومت فوری طور پر چاروں صوبوں میں تفریحی مقامات کو عارضی طور پر بند کردے جیسا کہ بعض شہروں میں موجود چڑیاگھر بند کئے گئے، چائے اور کھانے کے ہوٹلوں کیلئے اوقات کار مقرر کئے جائیں، زیادہ سے زیادہ شب دس بجے تک ان ہوٹلوں کو بند کروایا جائے۔ شہری اور دیہی علاقوں میں صفائی کی خصوصی مہم شروع کی جائے، جنرل بس اسٹینڈوں، ریلوے اسٹیشنوں اور ہوائی اڈوں پر صفائی اور مسافروں کے ابتدائی معائنہ کا فول پروف انتظام بہت ضروری ہے۔ ایک شکایت یہ بھی ہے کہ ایئر پورٹوں اور چند دوسرے مقامات پر مسافروں کا درجہ حرارت معلوم کرنے والی ”گن”سے معائنہ کو کافی سمجھا گیا۔ تفتان میں موبائل لیبارٹری بھیجنے بلکہ پہنچا دینے کا اعلان ہوا تھا وہ موبائل لیبارٹری کہاں ہے؟
ایرانی سرحد پر واقعہ تفتان میں اب بھی سینکڑوں اور ایک اطلاع کے مطابق دوہزار سے زائد زائرین موجود ہیں وہاں اشیائے خورد ونوش اور خصوصاً بچوں کیلئے دودھ وغیرہ کی شدید قلت ہے۔ یہاں تفتان میں ہی ایک مسئلہ یہ بھی ہوا کہ زائرین کی ایک بڑی تعداد کو 14دن کیلئے روکا تو گیا مگر جن حالات میں وہ رہے ان سے بہتری کی بجائے خرابی پیدا ہوئی۔ موبائل لیبارٹری نہیں تھی درجہ حرارت معلوم کرنے والی گن ٹیسٹوں کا متبادل ہرگز نہیں۔ ناکافی طبی سہولیات کا بوجھ یا الزام بلوچستان کی حکومت پر عائد نہیں کیا جا سکتا۔
بہت ضروری تھا کہ وفاقی وزارت اس حوالے سے ذمہ داریاں پوری کرتی۔ افسوس کہ پریس کانفرنسوں، دعووں اور بہلاووں کا سامان بہت ہوا مگر عملی طور پر کیا تھا اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔
کورونا کے حوالے سے ہمیں چین ،ایران اور اٹلی کی حکومتوں سے سیکھنے کی ضرورت تھی، افسوس کہ اس معاملے میں وفاقی حکومت نے ذمہ داری پوری نہیں کی۔ یہاں ایک شکوہ بھی ہے اور سوفیصد درست بھی، چین سے چند دن قبل کورونا سے محفوظ رہنے اور علاج کیلئے جو امدادی طبی سامان اسلام آباد پہنچا اسے مساوی طور پر تقسیم کرنے کی بجائے سندھ کو یکسر نظرانداز کیا گیا، پنجاب حکومت کا غیرذمہ دارانہ طرزعمل اور اعداد وشمار کے حوالے سے مبہم مؤقف شبہات وخطرات کو بڑھا رہا ہے۔ بدقسمتی سے اس حوالے سے بعض خطباء کی تقاریر انتہائی غیرذمہ دارانہ ہیں، ویڈیوز کی موجودگی کے باوجود حکومت نے ان غیرذمہ دار خطباء کیخلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی۔
یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ کورونا کے حساس معاملے میں تنقید کرنے والے حکومت کے دشمن نہیں، چاراور کی صورتحال لوگوں کو سوال اُٹھانے پر مجبور کر رہی ہے، پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ فوری طور پر ایک صوبے سے دوسرے صوبے کی سمت سفر کرنے کو محدود کرنے کی ضرورت ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ داخلی اور نکاس کے ہزاروں راستوں پر ضروری انتظامات نہیں ہوسکتے مگر مرکزی اور مصروف راستوں پر تو انتظامات ممکن ہیں وہ کیجئے
وفاقی حکومت خود ایک قدم آگے بڑھ کر لوگوں سے اپیل کرے کہ کم ازکم ایک ماہ کیلئے غیر ضروری سفر سے پرہیز کیا جائے۔یہاں ایک بات باردیگر عرض کروں گا پچھلے چند دنوں کے دوران اشیائے خورد ونوش کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافہ ہوا ہے، چاروں صوبائی حکومتیں اس کا سختی سے نوٹس لیں۔
حرف آخر یہ ہے کہ مرض ہوتا ہے تو علاج بھی ہوتا ہے، ٹونے ٹوٹکے اور توہمات علاج نہیں۔ چین نے بھی تو آخر علاج ہی کیا مریضوں کا۔ ایران اور اٹلی نے ابتر حالات کے باوجود اپنے لوگوں کو تنہا نہیں چھوڑا، ہمارے ہاں بھی اس ذمہ داری کے مظاہرے کی ضرورت ہے۔
( بشکریہ : روزنامہ مشرق پشاور)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker