انور عباس انورکالملکھاری

انور عباس انور کا کالم۔۔ہزارہ برادری اور جمہوری حکمران

پاکستان کے عوام کو یہ شکایت ہے کہ سیاسی لوگ برسراقتدار آکر غیر جمہوری اور غیر سیاسی ہوجاتے ہیں ۔ پاکستان کےعوام انتہائی سادہ اور بھولے ہیں پاکستانی عوام کا جمہوریت اور جمہوری حکمرانی کے متلعق ایسا سوچنے حق بجانب ہیں کیونکہ قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جتنی بھی  حکومتیں برسراقتدار آئی ہیں ان کے سربراہان نے اپنے طرز حکمرانی اور رویوں سے جو جمہوریت متعارف کروائی عوام نے اسے ہی جمہوریت سمجھا اور اس میں وہ حق بجانب ہیں  اب جیسے جیسے عوام پر جمہوریت کی اصل تصویر عیاں ہوتی جا رہی ہے ویسے ویسے عوام کا اپنے سیاسی راہنماوں پر سے اعتماد کا رشتہ ختم ہوتا جا رہا ہے ہم اور ہمارے عوام اس میں بے قصور ہیں ۔
عوام اپنے خوابوں کی تعبیر دینے کے لیے انکی آنکھوں میں سنہرے خواب سجانے والے اپنے محبوب راہنماوں کو اقتدار کے محل میں پہنچانے کے لیے اپنے تمام سکھ اور پریشانیوں کو بالائے طاق رکھ کر مئی جون جولائی اور جیٹھ ہاڑ  کے آگ برساتے مہینوں میں انہیں کاندھوں پر اٹھا کر میلوں گھومتے ہیں لیکن کسی سے اپنے اندر سے  پریشان ہونے کا اظہار نہیں کرتے ۔
قیام پاکستان کے بعد سے ہونے  والے انتخابات میں کم ہونے والے ٹرن آوٹ سے لیڈران ملت  کی سمجھ میں ابھی تک بات نہیں بیٹھ پائی کہ عوام ان سے بیزار ہو رہے نہیں بلکہ ہو چکے ہیں جس کی تازہ ترین مثال پاکستان کے رقبہ کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے اور وفاق کی اکائی بلوچستان میں آباد بقول حکومتی مشینری یکساں حقوق کی حامل ” ہزارہ برادی “ جو دراصل اہل تشیع مکتبہ فکر سے تعلق رکھتی ہےِ٫ کا رواں دہائی میں متعدد بار سخت سردی یعنی کہ دسمبر اور جنوری کی یخ بستہ راتوں اور دنوں میں دہشت گردی کی بھینٹ چڑھائے جانے والے ہزاروں افراد کے لیے انصاف کے حصول کے سراپا احتجاج لواحقین سے وزیر اعظم کے ملنے سے انکار نے عوام کی تمام امنگیں ترنگیں اور امیدیں دم توڑ گئیں یہ تو ہوا حکومتی اور اسکی اتحادی پارٹیوں کی اپنی عوام سے پیار کہانی کا ایک رخ ۔
دوسرا رخ بھی کوئی چمکتا دمکتا نہیں یعنی کہ اپوزیشن کی سیاسی جماعتیں بھی اپنے قول و فعل کی آلودگیوں سے بدبودار ہیں ِ حال ہی میں دو ہزار انیس سو انیس میں سابق صوبہ سرحد کے وزیر اعلی مولانا مفتی محمود کے سیاسی اور مکتبی جانشین مولانا فضل الرحمان نے کراچی سے اسلام آباد لانگ مارچ کیا اور دعوی کیا کہ وہ تحریک انصاف کی ظالم حکومت کو گھر بھیج کر اسلام آباد سے گھر لوٹیں گے لیکن یخ بستہ سردی میں دس دن کے بعد غلط حکومتی پالیسیوں سے عوام کے ہونے والے یخ بستہ چولہوں میں آتش روشن کیے بغیر اچانک اسلام آباد سے گھر کوچ کرنے کا اعلان کردیا وہ بھی اس دعوے کے ساتھ کہ وہ بہت جلد دوبارہ اسلام آباد آئیں گے لیکن ابھی تک مولانا  جوش نہیں پکڑ سکے ِ یہی حال ”ایک زرداری سب پہ بھاری “ اور اپنے نظریاتی محبوب قائد میاں نواز شریف سمیت باقی لیڈروں کی سیاست کاہے انہوں نے بھی اپنے دور حکومت میں عوام کو بےوقوف بنائے رکھا ِ سب پالیسیاں اور پروجیکٹس غریبوں کی بجائے ایلیٹ کلاس اور غیر پیداواری اداروں کے لیے تھے۔
پاکستان پیپلز پارٹی  اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے گورکھ دھندے میں الجا  رکھا ہے پیپلز پارٹی پارلمنٹرین کے سربراہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری خود ہیں اور اسی پارٹی کی پارلیمنٹ میں نشستیں ہیں جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی (تلوار  کے نشان) والی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری خود بھی پیلز پارٹی پارلیمنٹرین کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ ہیں ِ اس امر میں یہ بات آشکار ہوتی ہے کہ آصف علی زرداری کی سیاست کتنی گہری بے رحم اور ظالم ہے کہ جس نےسگے لخت جگر کو بھی تلوار والی پارٹی جس کے وہ خود چئیرمین ہیں کے ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں دی۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker