اختصارئےحنا شہزادیلکھاری

بھیک مافیا سے معافی کون دلائے گا ؟ ۔۔ حنا شہزادی

بھکاری کے کرتبوں سے تو ہم سب ہی واقف ہیں اور ان سے ہمارا اکثر واسطہ بھی رہتا ہے ۔ ہر شہر، ہرگلی اور ہر چوراہے پر جہاں لوگوں کی آمدورفت ہو وہاں ہمیں بھکاری نظر آتے ہیں۔ آپ کسی مارکیٹ میں چلے جائیں، کسی ہوٹل میں کھانا کھانے جائیں یا کہں راستے میں ہوں ہر جگہ بھکاری وبال جان بنے ہوتے ہیں ۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ اگر آپ گھر میں رہیں تو ان سے محفوظ رہیں گے۔ بھکاری تو باقاعدہ گھروں کے دروازوں پر دستک دے کر بھیک مانگتے ہیں اور اگر ان سے کہا جائے کہ بابا معاف کرو تو یہ معافی دینے کی بجائے  بد دعا دیتے ہیں۔ مساجد اور مزارات کے باہر بھی یہ موجود ہوتے ہیں اور انتہائی مہارت کے ساتھ آپ کا جذباتی استحصال کرتے ہیں‌۔ ایسے کلمات ادا کرتے ہیں کہ آپ ان سے جان چھڑانے کے لئے ان کی مٹھی گرم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگوں نے تو بھیک مانگنا اپنا کاروبار بنا لیا ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو مستحق ہیں یہ ان کا بھی حق مار رہے ہیں۔ آج کل بھیک مانگنے والوں کی کئی اقسام   جنم لے چکی ہیں،  ایک وہ جو کسی معذوری یا مجبوری کی وجہ سے کام نہیں کر سکتے۔ دوسرے وہ جو جسم فروشی اور بے حیائی کرنے کی بجائے بھیک مانگنا مناسب سمجھتے ہیں تاکہ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پال سکیں۔ تیسری اقسام وہ جنہوں نے بھیک مانگنا یا اپنے خاندان سے بھیک منگوانا کاروبار بنا لیا ہے، اور اگر ان سے پوچھا جائے کہ جی آپ بھیک کیوں مانگتے ہیں بھیک مانگنا تو اچھی بات نہیں ہے تو وہ کہتے ہیں کہ جب ہمیں بغیر محنت کے روزانہ 500 سے 800 روپے تک مل جاتے ہیں تو پھر ہم کیوں محنت کریں۔ میں نے کسی کے بارے میں سنا کہ اس نے بھیک مانگ مانگ کر اپنا عالی شان گھر بنا لیا ہے، مجھے یقین نہ آیا لیکن جب میں نے اپنی آنکھوں سے اس کے گھر کو دیکھا تو مجھے اس بات پر یقین کرنا پڑا۔ بھکاریوں کی چوتھی قسم بہت ہی خطرناک روپ اختیار کر چکی ہے وہ ہے بھیک مافیا۔ بی بی سی کے مطابق مافیا والے عورتوں اور خاص طور پر بچوں کو اغوا کر کے ان کو معذور بناتے ہیں اور ان کو بھیک مانگنے کے لئے مختلف مقامات پر چھوڑ دیتے ہیں۔ اس بھیک مافیا نے باقاعدہ علاقے اور شہر آپس میں تقسیم کئے ہوئے ہوتے ہیں اور یہ کام اتنے بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے کہ کہ کوئی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اس صورت حال میں حکومت پاکستان کو ایسا پروگرام تشکیل دینا ہو گا جہاں سے مستحق لوگ کو ماہانہ ان کی ضرورت کے مطابق پیسے ملیں اور بھیک مافیا کا کسی طرح خاتمہ ہو سکے۔ بھیک مافیا سے بس اسی طرح قوم کو نجات یا دوسرے لفظوں میں‌ ’’معافی‘‘  مل سکتی ہے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker