ہفت روزہ ” دید شنید“ میں ہمارا کالم ” تحفہ ءملتان “ ہوتل بابا کے قلمی نام سے شائع ہوتا تمعروف صحافی اور کالم نگار رفیق ڈوگرمرحوم اس رسالے کے مدیر تھے ،ڈوگر صاحب نے بہت سے دھمکی آمیز خطوط اورٹیلی فون کالز کے باوجود ان کالموں کی اشاعت جاری رکھی۔ بعد ازاں ایک طویل عرصہ تک ہم ملتانی کے قلمی نام سے بھی ادبی کالم لکھتے رہے ِ۔ ہوتل بابا کے نام سے یہ کالم ہم نے 1986 ءمیں تحریر کیے ۔ ہوتل بابا کا قلمی نام ہمیں ڈاکٹرانور سدید نے عطا کیا تھا اور یہ بابا ہوٹل کی مناسبت سے تھا ۔یہ ہوٹل اس زمانے میں ملتان کی ادبی سرگرمیوں کا مرکز ہوتاتھا۔
دید شنید کے بعد ہم نے یہی کالم روزنامہ جسارت کراچی میں بھی فرضی نام سے تحریر کیے۔ ہمارے دوست معروف شاعر اجمل سراج اس زمانے میں جسارت کاادبی صفحہ مرتب کرتے تھے۔جس دباﺅ کاسامنا ان کالموں کی اشاعت پر رفیق ڈوگر کو کرنا پڑا یقیناً اجمل سراج بھی اسی صورت حال سے گزرے ہوں گے۔لیکن یہ وہ ہستیاں ہیں اور اس زمانے کے مدیر ہیں جو سچ شائع کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے اور اپنے قلم کاروں کا دفاع بھی کرتے تھے۔ اور یہ انہی کے دیئے ہوئے حوصلے کاثمرہے کہ آج ملتان کی کم وبیش چالیس سال کی ادبی تاریخ آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ ان کالموں میں آپ کو بہت سے بھولے بسرے نام دکھائی دیں گے۔ بہت سی ایسی تقریبات کا احوال ملے گا جو شاید آپ کی یادداشت میں بھی محفوظ نہ ہوں۔ خود ہم بھی بہت سی تحریروں اور بہت سے واقعات کو پڑھ کر حیران رہ گئے اور اگر یہ سب کچھ ہم نے خود تحریر نہ کیا ہوتا تو شاید ہمیں اب ان تقریبات ،تنازعات اور ادیبوں کے معمولات کے بارے میں پڑھ کر یقین بھی نہ آتا کہ یہ سب منظر خود ہمارے ذہن سے بھی محو ہوچکے ہیں۔یہ کتاب آپ کو بہت کچھ بتائے گی۔ کون کب پروفیسر بنا، کون کب ریٹائر ہوا، کس نے کب ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، کس کی کتاب کب اور کیسے شائع ہوئی، ماضی میں کون کس کا دوست تھا اور کس کادشمن۔کون ترقی پسند تھا ، کون رجعت پسند، کس نے کب چولا تبدیل کیا اورکون موقع پرست قرارپایا ۔ آمروں کی کاسہ لیسی کرنے والوں نے کیسے جمہوریت بحال ہونے پر اپنی قربانیوں کی فہرستیں تیارکی تھیں۔یہ سب آپ کو ان کالموں میں پڑھنے کوملے گا۔ ہر عہد میں مفادات حاصل کرنے والوں کے چہرے بھی آپ کو ان کالموں میں نمایاں نظر آئیں گے۔کچھ نام لڑکپن سے جوانی اور پھر بڑھاپے کی جانب گامزن دکھائی دیں گے۔ کچھ چہرے جو اب ہماری نظروں کے سامنے نہیں رہے ان کالموں میں آپ کو بہت متحرک نظرآئیں گے۔ اتنے متحرک کہ جیسے وہ ملتان کے لیے ناگزیر تھے کہ جیسے ان کے بغیر ہر تقریب نا مکمل تھی۔ لیکن آج ان میں سے بہت سے چہرے کسی کو یاد بھی نہیں۔وہ جو سمجھتے تھے کہ ہمارے بغیرہرتقریب ادھوری ہے ۔افسوس تو یہ ہے کہ ان کے بعد کسی تقریب میں ان کی کمی بھی محسوس نہ کی گئی۔بات دوسری جانب چلی گئی۔ کہنا صرف یہ چاہتاتھا کہ ان کالموں کی صورت میں ہم نے ملتان کے ادب کی تاریخ محفوظ کردی ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ کتاب ملتان پر تحقیق کرنے والوں کے لیے معاون ثابت ہوگی۔ یہ تمام کالم اب کتابی صورت میں بھی منظر عام پر آ رہے ہیں۔36 سال بعد ان کالموں پر نظر ثانی کی گئی ہے کہ یہ تند و تیز کالم آج اصل صورت میں شائع ہو ہی نہیں سکتے کہ لوگوں میں اب برداشت اور حوصلہ نہیں رہا ۔کچھ واقعات جو اب دلچسپی کھو چکے انہیں حذف کر دیا گیا ہے اور کچھ شخصیات جو اب اس جہان میں نہیں رہیں ان کا ذکر جہاں کہیں بہت جارحانہ تھا ، اسے اب” قابلِ ا شاعت “ بنا دیا گیا ہے۔
فیس بک کمینٹ

