تحریک انصاف نے آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان تین ارب ڈالر کی معاشی امداد کے قلیل مدتی معاہدے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’معاشی استحکام اور قانون کی حکمرانی ملک کے معاشی استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔‘
تحریک انصاف رہنما حماد اظہر نے سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان میں کہا کہ آئی ایم ایف کا وفد چیئرمین عمران خان کی رہائش گاہ پر ان سے ملا جس میں آئی ایم ایف کے نیتھن پورٹر نے واشنگٹن سے ورچوئل شرکت کی جبکہ نمائندہ ایستھر پریز خود موجود تھیں۔
تحریک انصاف کی جانب سے اس ملاقات میں شاہ محمود قریشی، حماد اظہر، شوکت ترین، عمر ایوب خان، ڈاکٹر ثانیہ نشتر، تیمور جھگڑا، شبلی فراز اور مزمل اسلم شامل تھے۔ یہ ملاقات ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔
ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان نو ماہ کے لیے تین ارب ڈالر کے سٹینڈ بائی معاہدے پر بات چیت ہوئی اور ’اس تناظر میں ہم اس معاہدے کے مجموعی مقاصد اور اہم پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘
حماد اظہر نے کہا کہ ’ہم اس سال الیکشن سے قبل اور نئی حکومت کے قیام سے پہلے اس معاہدے کے ذریعے میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کو سراہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا ’ہم مہنگائی سے متاثر نچلے طبقے کو تحفظ فراہم کرنے کی کوششوں کی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ ’آئین کے تحت آزادانہ اور بروقت انتخابات کے انعقاد کے بعد عوام کے مینڈیٹ سے آنے والی نئی حکومت اصلاحات کا آغاز کرے گی اور طویل المدتی بنیادوں پر بین القوامی اداروں کے ساتھ معاشی ترقی کے لیے کام کرے گی۔‘
اس سے قبل حماد اظہر نے بتایا تھا کہ ’پاکستان تحریک انصاف سے چند روز پہلے آئی ایم ایف کی ٹیم نے رابطہ کیا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ نو ماہ کا سٹینڈ بائی معاہدے کا مسودہ اگلے ہفتے آئی ایم ایف کے بورڈ کے سامنے واشگنٹن میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا اور اس سلسلے میں تحریک انصاف سے معاہدے کی حمایت کے لیے درخواست کی گئی ہے۔‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

