لاہور : سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ تصادم نہیں چاہتے ، لاہور جلسے سے خطاب میں انہوں نے پاک فوج کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا جو بھی غلطی کسی سے ہوئی اب فوری الیکشن کے ذریعے اس کا ازالہ کیا جائے ۔ مینار پاکستان میں جلسے سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ سنا ہے مراسلے کے اوپر یہ حکومت کمیشن بنائے گی، شہباز تم اور تمھاری فیملی سے زیادہ جھوٹے لوگ دنیا میں نہیں آئے، تم سے زیادہ کرپٹ نہیں آئے، تم نے عدالت میں نواز شریف کو واپس لانے کے لیے ضمانت دی تھی، تمھارا خیال ہے کہ ہم تمھارا کمیشن مانیں گے، ہم چاہیں گے کہ سپریم کورٹ میں کھلی سماعت ہو تاکہ لوگوں کو پتا چلے کتنی بڑی سازش ہوئی ہے، اس سے کم بات نہیں مانیں گے۔
انہوں نے کہا کہ یہ جو چیف الیکش کمشنر کو مسلم لیگ (ن) میں کوئی عہدہ دو، میں کہتا ہوں مسلم لیگ (ن) کے لوگ بھی شرم ہوجائیں، اس نے سارے فیصلے ہمارے خلاف کیے، ہمیں بیرون ملک سے لوگوں نے فنڈ بھیجا جو پاکستان کو پیسے بھیجتے ہیں، یہ فارن فنڈنگ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم کہتے ہیں ہمارے ساتھ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کا کیس بھی چلاؤ، لیکن پی ٹی آئی واحد جماعت ہے جس کی سیاسی فنڈنگ ہوتی ہے تو ہمت ہے تو تینوں جماعتوں کا کیس چلائیں۔انہوں نے کہا کہ یہ خاندانی پارٹیوں پر حیرت ہوتی ہے کہ کیوں ان کو عجیب نہیں لگتا ہے کہ باہر سے ایک لڑکا آتا ہے جس کو اردو نہیں آتی لیکن بڑے بڑے اس کے سامنے ہوتے ہیں، 14 سال ہوگئے اردو نہیں آتی، نواز شریف نے اوباما کے سامنے پرچی دیکھ کر بات کی پھر مریم نواز تیار بیٹھی ہے، جس نے ایک دن کام نہیں کیا۔
عمران خان نے شرکا کو مخاطب کرکے کہا کہ میں آپ کو آزاد کروانے آیا ہوں اور کسی کے سامنے نہیں جھکنا ہے، میں چاہتا ہوں آپ اپنا مقام سمجھیں، جس دن آپ لاالہ اللہ کا مطلب سمجھیں گے اس دن زنجیریں ٹوٹ جائیں گے لیکن یہ چور ملک کے حکمران رہے تو ہمارا ملک کبھی آگے نہیں بڑھے گا اور پاکستان کی خارجہ پالیسی آزاد ہوگی، بھٹو کے دور میں تھوڑے عرصے کے لیے آزاد ہوئی لیکن اتنی غلام بھی نہیں ہوئی جنتی ان تین اسٹوجز کے دور میں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ ایمل کانسی کے وکیل نے امریکی عدالت میں کہا کہ پاکستانی اپنی والدہ کو ڈالروں کے پیچھجے اپنی والدہ بیچیں گے، اور وہ دور نواز شریف کا تھا، ہم نہیں بیچیں گے نواز شریف بیچے گا کیونکہ وہ پیسے کا پجاری ہے، پھر جنرل مشرف کے دور میں پکڑ پکڑ پاکستانیوں کو گوانتاموبے میں بھیجا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے پاکستان کی حقیقی آزادی چلانا ہے، ہمارے مخالف سمجھتے ہیں، مینار پاکستان کے بعد کیا ہوگا، کان کھول کر سن لو، اصل پارٹی تو اب شروع ہوئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں تحریک انصاف کو کال نہیں دے رہا، سارے پاکستانیوں بلکہ مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کو بھی جو اس ملک میں آزادی چاہتے ہیں اور پتہ نہیں کتنی بڑی سازش ہوئی، پیغام دے رہا ہوں کہ سب نے تیاری کرنی ہے، گلی گلی، محلے، شہروں، گاؤں میں سب نے آج سے تیاری شروع کرنی ہے، میری کال کا انتظار کرنا ہے جب میں اسلام آباد بلاؤں گا۔
انہوں نے کہا میں واضح کروں کہ میں کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتا، یہ میرا ملک ہے، اس ملک سے باہر جانے کی میری کوئی جگہ نہیں ہے، یہ تو تھوڑی مشکل آتی ہے تو باہر جاتے ہیں، لگتا ہے ملکہ ان کی رشتہ دار ہے، یہ لوگ جب مشکل ہوتی ہے تو باہر جاتے ہیں، میرا جینا مرنا پاکستان میں ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ اپنے ملک میں کسی قسم کا تصادم نہیں چاہتا، پولیس اور فوج ہماری ہے، اگر ہمارے پاس ایک طاقت ور فوج نہیں ہوتی تو ہمارے تین ٹکڑے ہوتے، ہمارے دشمن اس لیے کامیاب نہیں ہوا کیونکہ ہماری قوم فوج کے ساتھ کھڑی ہے، مشرف نے ایک غلط فیصلہ کیا لیکن ہماری فوج نے جس طرح قربانیاں دیں اس پر سلام کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت ملک کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے ہیں لیکن کسی صورت اس امپورٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، تحریک اب زور پکڑے گی، اپنی پارٹی کے سینئرز کو کہا ہے کہ سارے پاکستان میں نکلنا ہے، لوگوں کو حقیقی آزادی کی تحریک میں سب کو شامل کرنا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں جلدی سے جلدی انتخابات کا اعلان کیا جائے، ہم جمہوری جماعت ہیں اور جمہوریت چاہتے ہیں لیکن کبھی سلیکٹڈ حکومت کو تسلیم نہیں کریں گے، جن سے بھی غلطی ہوئی ہے، اس کو ٹھیک کرنے کا ایک طریقہ ہے جلدی الیکشن ہوں۔
انہوں نے کہا میں نے اپنے گھر کی سڑک توشہ خانہ کے تحائف بیچ کر ٹھیک کی، حکومت کا پیسہ نہیں لیا
فیس بک کمینٹ

