انگلش ٹیسٹ ٹیم کے کپتان جوئے روٹ نے انگلش عوام کے نام ایک کھلا خط لکھا ہے اس میں وہ دنیا سے بھی مخاطب ہوئے ہیں اور بیٹ چھوڑ کر سلیوٹ کرنے پر بھی مجبور ہوئے. روٹ لکھتے ہیں کہ
مجھے آج سری لنکا کے خلاف انگلینڈ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت کرتے ہوئے دوسرا ٹیسٹ میچ کھیلنا چاہیئے تھا. آج ہی کے دن میرے یارک شائر کائونٹی کے کھلاڑیوں کو کائونٹی سیزن کی تیاری کے آخری پری سیشن ٹریننگ کیمپ میں ہونا چاہیئے تھا. آج ہی کے دن انگلینڈ سمیت تمام ممالک کے کرکٹ شائقین کو اپنے پسندیدہ میچ دیکھنے کیلئے گرائونڈز، ٹی وی اور انٹرنیٹ کے سامنے ہونا چاہیئے تھا .
لیکن آج سب کچھ بدلا ہواہے. کورونا وائرس نے زندگی کو مشکل میں ڈال دیا ہے .دوسرے شعبوں کی طرح کرکٹ بھی بند ہوکر رہ گئی ہے. انگلش کرکٹ پلیئر کی حیثیت سے دوسروں کی طرح میں بھی مختلف خیالات میں گھرا ہوا ہوں. گرائونڈ سے دوری ،گھر میں مستقل قیام مشکل اور اعصاب شکن ہے. گزشتہ چند ہفتے آپ سب کی طرح میرے لئے بھی ایک خوف (کورونا وائرس)کی وجہ سے مشکل گزرے .ایسے جذبات میں کہ جو اس سے قبل کبھی دیکھے نہیں گئے. کسی کیلئے ایسا غم کہ جسکا کوئی پیارا کھوگیا. کسی کیلئے فیملی کی فکر،مستقبل کی فکر اہم ہے.
ٹیم ورک ہماری سوسائٹی کا اہم جزو ہے اور کبھی غیر اہم نہیں رہا لیکن موجودہ بیماری میں سوشل فاصلہ نہایت ہی ضروری ہے. یہ جسمانی فاصلے ہیں جو ہماری سوچ ،فکر ایک دوسرے کا خیال اور ایک دوسرے کی مدد سے نہیں روکتے .میں نے ایسی خدمت ومدد کے واقعات اپنے علاقے، ملک اور ملک کے باہر کے دیکھے اور پڑھے جو میرے چہرے پر مسکراہٹ کا سبب بنے ہیں.
گزشتہ سال اسی موسم میں ہم ورلڈ کپ جیتے وہ یادیں جینے کا حوصلہ ہیں. میں ان تمام میڈیکل ،پیرا میڈیکل سٹاف،ورکرز، لوگ اور ادارے جو ان حالات میں فرنٹ لائن پر سرگرم ہیں. سلام کرتا ہوں اور سلیوٹ پیش کرتا ہوں.
میں اور میرے ساتھی کرکٹرزاپنے ملک سمیت دنیا کے کسی بھی گرائونڈز میں کھیلے انکو مدد و سپورٹ ملی.خوش قسمتی و محبت کی اس سے بڑی مثال کیا ہوسکتی.
میں اپنی عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مضبوط رہیں اور متحد رہیں. مشکل وقت ختم ہوجائے گا.
فیس بک کمینٹ

