امتیاز عالمکالملکھاری

امتیاز عالم کا کالم : نیک تمناؤں کا خون اور احتساب کے گورکن

جانے کیوں مملکت خداداد میں ہمیشہ خیر کی نیک تمناؤں کا خون ہوتا رہے گا؟ غضبناک کرپشن کی جو خوفناک کہانیاں بنائی گئیں اور ہمارے ہم عصر کڑے احتساب کے جو خوشنما خواب دکھاتے رہے اور تیزاب کی بھٹیوں میں کرپٹ مافیاز کو ڈبو دینے کی عبرتناک منظر نگاری کرتے رہے، وہ سب کی سب شرمندگی کے جوہڑ میں ڈوب کے رہ گئی ہیں۔ اب کرپشن کی غضبناک کہانیوں کی جگہ محتسبوں کی شرمناک کہانیوں کا سلسلہ ہے کہ تھمنے کو نہیں۔ مشرف کے منتقمانہ احتساب، اس کے احتساب کے ادارے (نیب) اور عالمی تفتیش کے لیے تقریباً آدھی درجن جعلی کمپنیوں، براڈ شیٹ وغیرہ نے کرپشن کے سراغ میں جو گھپلے، فراڈ اور بے ضابطگیاں کیں وہ محرکین کے لیے شرمندگی کو کافی تھیں لیکن منافقت اور کذب کے بازار میں شرمندگی نام کی کوئی قدر کہاں؟
ابھی تو نیب اور براڈ شیٹ و دیگر عالمی اٹھائی گیروں کے راز کھلنے شروع ہی ہوئے تھے کہ نیب ہی کے آزمودہ پرانے اہلکار کو اپنے ہی سابقہ ادارے کے کرتوتوں کی تحقیق پر لگادیا گیا ہے۔ لندن کی عدالت عظمیٰ کا مصالحت کنندہ کے فیصلے کے خلاف اپیل کا فیصلہ کیا ہوا، ہر طرف ہا ہا کار مچ گئی۔ وزیراعظم نے اپنے تین صالح وزرا کی کمیٹی بنائی جو فوراً اپنے بڑے سیاسی حریف میاں نواز شریف کے خلاف 820 ملین ڈالرز کی مبینہ کرپشن کا دعویٰ لے کر میدان میں اتری، لیکن یہ بھولتے ہوئے کہ خان کی حکومت کے وکیل نے 2019 ء میں مصالحت کنندہ کی جانب سے شریف خاندان کے اثاثوں کے دس کروڑ ڈالرز کے تخمینہ پہ شدید اعتراض کرتے ہوئے اس کی مبالغہ انگیزی اور ہوائی بنیاد کو چیلنج کیا تھا۔ یہاں یہ یاد دلانا ضروری ہے کہ مصالحت کنندہ نے اپنے تخمینہ کی بنیاد سپریم کورٹ کی بنائی جے آئی ٹی کی رپورٹ میں دیے گئے متضاد تخمینوں پہ جانے کس طرح رکھی کہ لندن کی ہائی کورٹ بھی ششدر رہ گئی لیکن قانوناً اس پر فیصلہ صادر نہ کرنے پر مجبور تھی۔ کرپشن کو ایک کرپٹ ادارے اور عالمی فراڈی کمپنیوں کے ذریعہ کرپشن کے خلاف اس خوفناک کہانی کا آغاز و انجام بڑا ہی ہوشربا ہے۔ پاکستان ائرفورس سے نکالا گیا ایک برطرف پائلٹ طارق فواد ملک اپنے سسر جرنیل کی سفارش پر نیب کے پہلے چیئرمین جنرل امجد کو بطور کسی کے فرنٹ مین کے اربوں ڈالرز کی بازیابی کے خواب دکھاتا ہے اور کولوراڈو کے شہر میں ان کی ملاقات جیری جیمز اور ڈاکٹر پیپر سے کراتا ہے جو بظاہر ایک ریکوری فرم Trouvans LLC چلارہے تھے۔
یہ اکتوبر 1999 ء کی بات ہے۔ بات پکی ہوجاتی ہے، لیکن ایسٹ ریکوری ایگریمنٹ ایک ایسی فرم کے ساتھ ہوتا ہے جو بعد ازاں اس مقصد کے لئے آئزل آف بینڈ میں براڈ شیٹ کے نام سے فقط 200 پاؤنڈ کے حصص کے ساتھ رجسٹر کرائی جاتی ہے۔ پہلے نیب چیف خوش ہیں کہ یہ نیک لوگ بغیر کسی فیس کے معاہدہ کرنے پر تیار ہو جاتے ہیں جو (Asset Recovery Agreement) ARA معاہدہ 28 مئی 2000 ء میں ہوتا ہے اس میں اصل بڑا گھپلا صاف بیان کر دیا جاتا ہے۔جس کے مطابق (شق 4 ) نا جائز اثاثوں کا محض پتہ لگایا جائے یا وصولی کی جائے بھلے وہ پاکستان میں پاکستانی ادارے کریں یا بیرون ملک براڈ شیٹ کرے اس کا 20 فیصد براڈ شیٹ کو بطور کمیشن ادا کیا جائے گا۔ معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں کمپنی کا تفتیش اور کمیشن کا استحقاق برقرار رہے گا۔ اس طرح کا تباہ کن معاہدہ یا تو کوئی اندھا کر سکتا تھا، یا اناڑی یا پھر کوئی گھاگ نوسر باز جو شاید براڈ شیٹ کا حصہ دار یا فرنٹ مین تھا۔ جسٹس عظمت سعید بطور نیب ڈپٹی پراسیکیوٹر اس سے بخوبی واقف ہوں گے اور اب وہی اس سارے اسکینڈل کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کے سربراہ بھی مقرر کیے گئے ہیں جسے اپوزیشن فاؤل پلے قرار دے کر رد کر چکی ہے۔
نیب 200 افراد بشمول شریف خاندان کی فہرست براڈ شیٹ کو فراہم کرتا ہے جن کی مبینہ لوٹی ہوئی دولت یا کالا دھن واپس لانا مقصود تھا جبکہ موسوی کی فرم کو بھٹو زرداری خاندان کی تفتیش کا کام دیا جاتا ہے۔ اس دوران براڈ شیٹ کچھ کھاتوں کا پتہ لگا بھی لیتا ہے جو اشک شوئی کے مترادف تھا اور نیب ان میں سے کچھ لوگوں کو سیاسی وفاداریاں بدلنے کے عوض مطلوبہ فہرست سے ان کا نام نکالنے کا مطالبہ کرتا ہے۔ جب مشرف بر طرف وزیراعظم کو ملک بدر کرنے کا مقصد حاصل کرلیتے ہیں تو وہ براڈ شیٹ کو ان کی تفتیش سے روک دیتے ہیں۔پھر نیب 2003 ء میں براڈ شیٹ سے معاہدہ ختم کر دیتا ہے اور چھچھوندر اس کے گلے میں پھنس جاتی ہے کیونکہ تفتیش اور کمیشن پر براڈ شیٹ کا استحقاق برقرار رہتا ہے۔ یوں مطلوب افراد کی فہرست میں سے کسی سے وصولی ہوتی ہے یا کسی کے کالے دھن کی نشاندہی ہوتی ہے اس پر براڈ شیٹ اپنے 20 فیصد کمیشن کا مطالبہ کرتی ہے جو ہر دو اطراف کے لیے گلے کی ہڈی بن جاتا ہے اور درپردہ کمیشن میں سے کمیشن کی وصولی کی نہ ختم ہونے والی تگ و دو شروع ہوجاتی ہے اور اس میں بڑے بڑے محتسبوں کے نام شامل ہیں۔
اس دوران کچھ لے دے کے آؤٹ آف کورٹ معاملہ نپٹانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ اس میں بھی فراڈ ہوتا ہے اور جیری جیمز اور موسوی سے لندن میں نیب کے وکیل بلال صوفی ملاقاتیں کرتے ہیں اور جیمز کی کولوراڈو میں جعلی فرم کو پندرہ لاکھ ڈالرز ادا کرنے کا فیصلہ کرتے ہیں، کچھ اور ادائیگیاں بھی کی جاتی ہیں۔ اس دوران جیمز اور ڈاکٹر پیپر علیحدہ ہو جاتے ہیں۔ براڈ شیٹ دیوالیہ ہوجاتی ہے۔ پھر موسوی اور جیمز میں ففٹی ففٹی کی بنیاد پر معاہدہ ہوجاتا ہے۔
بعدازاں جیمز خود کشی کر لیتا ہے اور موسوی ہرجانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ مصالحت کنندہ مقرر ہوتا ہے۔ براڈ شیٹ اور نیب اپنے اپنے آڈیٹرز مقرر کرتے ہیں جن کے تخمینوں میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ مصالحت کنندہ اپنا ایوارڈ دیتا ہے جس کے تحت 28 ملین ڈالرز فیس مع سود ادا کیے جاتے ہیں اور قوم کو 65 ملین ڈالرز دینا پڑتے ہیں۔ نہایت چونکا دینے والا امر یہ ہے کہ موسوی سے شہزاد اکبر اور ایک جرنیل سمیت بہت سے لوگ ملاقاتیں کرتے ہیں اور غیر موصول شدہ رقم پہ دیے گئے بھاری کمیشن میں حصے، کٹوتی یا کمیشن کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایک اور فرنٹ مین میدان میں اترتا ہے جسے پاکستان میں ہر بڑے آفس تک رسائی ہے وہ موسوی کے ہاتھ نئے معاہدے کی تجویز بھیجتا ہے جس کی پذیرائی ہوتی ہے۔ موسوی کو خوش کرنے کے لئے یا اس سے حصہ کی امید میں نیب ایک خطیر رقم لندن ٹرانسفر کرنے کی درخواست کرتا ہے اور اکنامک کوآرڈنیشن کمیٹی اس کی منظوری دے کر رقم لندن بھجواتی ہے جو مصالحت کنندہ وصول کر لیتا ہے۔ اب یہ ڈرامہ لگایا جاتا ہے کہ پاکستان کے لندن کے ہائی کمیشن کے اکاؤنٹ سے رقم کا نکلوانا سفارتی استثنا کی خلاف ورزی ہے۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، جاری ہے اور جانے ایک دھیلہ وصول کیے بغیر کرپشن کے احتساب کی کرپٹ کہانی کو جاری رکھنے کے لئے قوم کو کیا کیا خمیازہ بھگتنا پڑے تاآنکہ ایسے احتساب سے توبہ مانگی جائے اور کرپشن جاری و ساری رہے۔ اللہ توبہ!
( بشکریہ : روزنامہ جنگ )

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker