Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, جنوری 26, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • مدثر نارو ، ایمان مزاری اور دکھی ماں کی بددعا : حامد میر کا کالم
  • صدر مملکت کے اعتراضات دانش سکول اور اراکینِ پارلیمنٹ ۔۔۔ نصرت جاوید کا کالم
  • مارک ٹلی بھارت کا بیانیہ بناتے تھے : پاکستان میں مارشل لاء کی راہ ہموار کی : ثقلین امام
  • بھٹو کی پھانسی سے شہرت پانے والے نامور برطانوی صحافی مارک ٹلی انتقال کر گئے
  • نظریات، اخلاقیات اور بےترتیب معاشرہ : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم
  • تخلیقی انہدام کی تھیوری اور پاکستان کی ترقی کی راہیں : پروفیسر ڈاکٹر مزمل حسین کا اختصاریہ
  • متنازع ٹویٹس کیس : ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو 17 برس قید کی سزا
  • نئے صوبے : بوتل سے جن باہر آنے ہی والا ہے : سہیل وڑائچ کا کالم
  • ڈیرہ اسماعیل خان : شادی کی تقریب میں خود کش دھماکہ حکیم اللہ محسود کا قریبی ساتھی مارا گیا
  • چترال: گھر پر برفانی تودہ گرنے سے 9 افراد جاں بحق
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»ادب»معروف شاعر ، ادیب اور صحافی رضی الدین رضی کے بچپن ، لڑکپن اور جوانی کی کہانی : آغا محمد علی کی زبانی
ادب

معروف شاعر ، ادیب اور صحافی رضی الدین رضی کے بچپن ، لڑکپن اور جوانی کی کہانی : آغا محمد علی کی زبانی

ایڈیٹردسمبر 26, 202530 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
razi edition half
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

’’ چلتے چلتے‘‘ کے عنوان سے میرے چند کالم ہی شائع ہوئے تھے کہ ایک دن موبائل فون پر بیل بج رہی تھی اور پھر بجتے بجتے وہ مس کال بن چکی تھی ۔۔۔میں نے کال چیک کی تو ایک قابل احترام شخصیت کا نام لکھا تھا ۔۔کچھ دیر تک فون کو دیکھتا رہا کہ صحافت ‘ادب اور شاعری میں بڑے نام کی شخصیت جن سے میرا تین دہائیوں سے مختلف اوقات میں رابطہ رہا ہے آ ج خیریت ہو مجھے کیسے یاد کیا ہے پہلے سوچا کہ کوئی اور آ غا نام کے ان کے دوست ہوں گے اس چکر میں مجھے کال کی ہوگی کیونکہ میرے ساتھ کبھی کبھار ایسا ہوتا رہا تھا ۔۔۔
پھر میں نے خود ہی کال کرلی اور دوسرے طرف سے وہی شخصیت اپنے محبت بھرے لہجے میں کہہ رہے تھے کہ آ غا صاحب میں آ پ کے لکھے گئے کالم کو پڑھ رہا ہوں بہت اچھا کام کررہے ہو اور اس سلسلے کو بند نہیں کرنا ہے میں نے کہا انشاء اللہ آپ کے یہ الفاظ میرے لیے آ کسیجن ہیں اور اس سلسلے کو جاری رکھنے کے لیے کافی ہیں، میری اس بات پر وہ خوش بھی ہوئے ۔
پھر ایک بار رات کو فون کیا کہ تو بہت آ ہستگی سے بات کررہے تھے اور آ واز میں وہ جوش نہ سن کر پوچھا!! خیریت تو ہے ؟ مجے محسوس ہوا کہ وہ جہاں بیٹھے تھے اس جگہ سے دور ہوئے ہیں کیونکہ اب انہوں نے معمول کے انداز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یار آ غا جب آ پ کی کال آ ئی تو میں اپنی بیمار والدہ کے قدموں میں بیٹھا تھا اور وہ سو رہی تھیں اس لیے آ ہستہ سے بات کررہا تھا میں نے پوچھا والدہ محترمہ کو کیا ہوا ہے تو انہوں نے بتایا وہ کافی عرصے سے بیمار ہیں اور میں جب تک سونے سے پہلے ان کے پاس وقت نہیں گزارتا ہوں مجھے سکون و چین نہیں ملتا ہے۔۔میں نے ان کی صحت یابی کیلئے دعا کی اور کہا کہ میں آ پ کے پاس آ نا چاہتا ہوں فوری کہا گھر آ نا چاہو گھر حاضر اور دفتر آ نا چاہو دفتر حاضر ہے ۔۔۔اس کے بعد چند دن ہی گزرے تھے کہ یہ خبر سننے کو ملی کہ اس شخصیت کی والدہ محترمہ جن سے وہ بیحد مثالی محبت کرتے ہیں ان کو اور ان کے پیاروں کو چھوڑ کر اپنے ان پیاروں کے پاس چلی گئی ہیں جو ان سے پہلے دوسرے جہاں میں چلے گئے تھے ۔ انکی والدہ کی نماز جنازہ میں پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ یہ شخصیت جن کا چہرہ ہمیشہ میرے سامنے قہقہے لگاتے اور فی البدیہہ جملوں میں ایکسپرٹ اور لکھنے لکھانے میں تو کمال صلاحیت رکھتے ہیں لیکن محفل ہو یا دوستوں کے درمیاں ہو سٹیج ہو یا مشاعروں کیلئے سجا پنڈال ہو سب بولنے میں بھی کمال مہارت رکھتے ہیں تو ایسی شخصیت کو دیکھا کہ اس کو والدہ کی جدائی کا کس قدر دکھ صدمہ ہوا ہے کہ ایک عمر رسیدہ شخص بن چکے ہیں ۔۔۔
اس کے بعد پھر سوچ ہی رہا تھا کہ اب جاکر ملتا ہوں لیکن پھر اس محترم شخصیت نے خود ہی مجھے میرے اس کالم کے حوالے سے اپنی والدہ والد کے ساتھ لازوال محبت اور سقوط ڈھاکہ کے تحت میرے لئے ابتدائیہ سینڈ کردیا اور میرے تصاویر کی درخواست پر بغیر کہے وہ سب تصاویر بھی سینڈ کردیں جو کہ میں نے کہہ کر مانگنی تھی اب اس کے بعد کا مرحلہ ملاقات کا میرا ہوتا ہے تو اس محترم شخصیت نے یہ بھی مجھے نہ کہنے دیا اور محبت سے دعوت دے دی کہ آ غا صاحب فرصت ہو توآ فس چکر لگالیں مجھے اور کیا چاہیے تھا بغیر کہے سب کچھ ہوگیا تھا ۔۔۔اب مجھے یقین ہے کہ بہت سارے دوست اور پڑھنے والے اس شخصیت کو پہچان چکے ہوں گے نہیں تو میں بتا دیتا ہوں یہ پیاری قابل احترام شخصیت رضی الدین رضی ہیں اور صحافت میں سفر کے حوالے سے یہ میرے سینئر ہیں ان سے زیادہ تر ملاقاتیں پریس کلب کے الیکشن کے دوران ہوا کرتی تھیں کیا کمال کی شخصیت ہے جس سائیڈ پر کھڑے ہیں الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں یا نہیں سب کو پتا ہوتا تھا کہ وہ معمولی سا بھی جھول دکھائے بغیر پہاڑ کی طرح اپنی جگہ پر کھڑے ہیں ۔ لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ اس ایڈیشن میں ان کے بچپن ‘لڑکپن اور جوانی اور والدہ سے مثالی محبت تک کی ہی کہانی شامل کروں گااور بطور صحافی ‘شاعر ‘ادیب کے حوالے سے پارٹ ٹو میں کالم ایڈیشن شائع کروں گا ۔۔۔رضی بھائی سے جب پوچھا اپنی جیون کہانی تو سنائیں تو انہوں نے بتایا
ؔؔ’’آ غا صاحب ایک ساڑھے تین سال کے بچے نے پہلی بار جنازہ دیکھا ہو وہ بھی اپنے والد محترم ذکاء الدین اوپل کا اور وہ دھندلا سا یاد ہے کہ جب ان کے والد کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ موقع پر ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے سائیکل پر سوار ایم سی سی گراؤنڈ میں کرکٹ میچ دیکھتے ہوئے آ رہے تھے کہ ایک تیز رفتار گاڑی نے پیچھے سے ٹکر ماری اور وہ اس دنیا سے چلے گئے ۔گھر جب میت آ ئی تو کہرام مچ گیا تھا مجھے محلے میں دادا صاحب کے ایک دوست کے گھر چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ یہ ننھا رضی پریشان نہ ہو جائے جب شام کو گھر آ یا تو میرے والد کا جنازہ جاچکا تھا ۔والد کی عمر اس وقت صرف 38برس اور وہ پینٹ کوٹ سینے کے ماہر درزی تھے والدہ محترمہ کی بھی کم عمر ی میں شادی ہوئی تھی اور پھر انہوں نے اپنی زندگی میں اپنے شریک حیات کے دنیا سے چلے جانے کےبعد 57 برس ہم بہن بھائیوں کی بڑی محنت مشقت سے پرورش کی اور دوسرے جہاں روانہ ہوگئیں‘‘ ۔۔
رضی صاحب نے بتایا وہ 7مئی1964ء میں لائلپور موجودہ فیصل آباد میں پیدا ہوئے تھے مگر میٹرک کی سند کے مطابق ان کی پیدائش 7مئی 1965ء درج ہے ۔ دادا شیخ عبد الکریم اوپل محکہ ریلوے میں ملازم تھے ۔ تایا ابو میجر ضیاء الدین اوپل 1965ء کی جنگ میں واہگہ بارڈر پر شہید ہوئے ۔ دادا جان نے پہلے بیٹے کا 1965ء میں غم سہا تو تین برس بعد ان کے دوسرے بیٹے یعنی میرے والد کی 1968ءمیں جدائی برداشت کرنا پڑی ۔۔ چچا ظہیر الدین اوپل بھی محکمہ ریلوے میں ڈی پی ایم ڈویژنل پے ماسٹر تھے ایک اور تایا ظفر احمد اوپل ٹی اینڈ ٹی( محکمہ ٹیلی فون میں جاب کرتے تھے ۔کینٹ صدر ملتان میں اوپل سٹریٹ ان کے شہید تایا کے نام پر ہے ۔
razi edition full
ان کا 1970ءمیں ایس پی چوک کے پاس کینٹ پبلک سکول میں داخلہ ہوا اوروہ اپنی پھوپھی مس عصمت کے ساتھ سکول جایا کرتے تھے ان کی ہیڈ مسٹریس نجمہ لئیق بخاری اور پہلی ٹیچر مس جمیلہ اوپل تھیں پانچویں کلاس پاس کرنے کے بعد چھٹی کلاس میں وہ ایم جی ایم کے سامنے فیڈرل پبلک سکول میں چلے گئے۔ میٹرک 1980ء میں نمایاں نمبروں کے ساتھ پاس کیا ۔۔
اس سے قبل کہ رضی صاحب کالج میں پہنچتے تو میں نے ان کی غیر نصابی سرگرمیوں اور کھیلوں کے بارے میں پوچھا تو بتانے لگے وہ سکول میں لانگ جمپ اور دوڑ کے مقابلوں میں حصہ لیتے اور انعامات حاصل کرتے’ کرکٹ، فٹبال اور ہاکی وغیرہ میں کوئی دلچسپی نہیں تھی البتہ کرکٹ میچ دیکھنے کا شوق ہے ۔وہ اپنے سکول کے بیسٹ مقرر تھے انٹر سکولز تقریری مقابلوں میں حصہ لیتے اور فرسٹ پرائز حاصل کرتے پھر بتانے لگے کہ آ ٹھویں کلاس میں انہوں نے پہلی کہانی اور غزل لکھی تھی جوکہ روزنامہ امروز ملتان میں محترمہ نوشابہ نرگس نے شائع کی تھی ابتدا میں دادا ابو میری کہانی تحریریں لکھنے پر ڈانٹتے کہ اپنی نصابی کتب پر توجہ رکھو مگر میں پریکٹیکل کاپیوں میں کاغذ رکھ کر کہانی اور تحریریں لکھتا تاکہ دادا جان سمجھیں میں پریکٹیکل کاپیوں کے سوال یاد اور لکھ رہا ہوں پھر جب میری تحریریں روزنامہ امروز میں شائع ہوتیں تو محلے میں دادا ابو کو لوگ کہتے آ پ کے پوتے رضی تو کیا خوب لکھتے تو دادا ابو میرے لکھنے کو پسند کرنے لگے تھے ۔ انہوں نے بتایا میرا 1976ء میں عینک سے رشتہ جڑا جو آ ج تک قائم ہے ۔مجھے بچپن سے ہی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو سے عشق ہوگیا تھا اور جب وہ ملتان ائیرپورٹ سے آ تے ہوئے ہمارے گھر کے قریب سے گزرتے تو وہ استقبال کے لئے سڑک پر کھڑے ہو جاتے۔ ذوالفقار علی بھٹو صاحب کھلی جیپ میں سوار ہو کر ہاتھ ہلاتے جاتے اس زمانے میں پروٹوکول گاڑیاں زیادہ نہیں ہوتی تھیں ایک ہوٹر والا موٹر سائیکل سکوڈ ، اور ایک آ گے گاڑی ہوٹر بجاتی تو دوسری ان کی جیپ کے پیچھے ہوتی تھی ۔میری اخبارات میں فوٹو کے ساتھ شائع ہونے والی تحریروں اور شاعری سے پہچان ہونے لگی تھی ۔محلے دوست پوچھتے کہ آ پ رضی صاحب ہیں ، ایک بار تو برادرم اسلام تبسم صاحب نے سائیکل روک کر پوچھا تھا آ پ رضی الدین رضی ہو ۔۔۔ان ہی دنوں میں نے اپنا نام شیخ رضی الدین اوپل سے رضی الدین رضی کردیا تھا ۔
1980ء میں سول لائنز کالج میں داخلہ لیا میٹرک سائنس کے ساتھ تھی تو مجھے ایف ایس سی انجینئر بنانے کے بڑوں کے فیصلے پر داخلہ لینا پڑا ابتدائی عرصہ میں ہی مجھے اندازہ ہوگیا تھا کہ میری منزل انجینئر بننے کی نہیں ہے کالج میں ہمارے پرنسپل مشیر احمد خان تھے اور پروفیسر حضرات میں انور جمال صاحب ، عامر فہیم صاحب ‘ محمد امین صاحب ، جابر علی سید صاحب ‘مبارک مجوکہ صاحب ، حسین سحر صاحب ہوتے تھے اور مجھ سے سینئر ز میں وہاں محمد افضل ‘شیخ ، سلیم ناز ، اطہر ناسک اور اظہر سلیم مجوکہ تھے اس دور میں سینئر ز نے ہم جونیئر ز کے ساتھ کوئی فول نہیں کیا بلکہ بڑے اچھے انداز میں ویلکم کیا تھا ۔اسی کالج سے ملحقہ سپورٹس گراؤنڈ میں میں نے مفتی محمود صاحب کی نماز جنازہ جگہ نہ ملنے پر دیوار پر کھڑے ہو کر دیکھی تھی ۔۔ایف ایس سی کے بعد کےذاتی سفر پر بتانے لگے آ غا صاحب جیسا کہ میں نے بتایا کہ ایف ایس سی انجینئر نگ میں نہ میری دلچسپی تھی نہ ہی ایف ایس سی نے مجھے قبول کیا اور ادھورا ہی معاملہ رہا ۔1985 میں لاہور چلا گیا تھا۔ اس سے پہلے 1983ءمیں روزنامہ سنگ میل کو جوائن کر کے عملی صحافت کا آغاز بھی کردیا تھا ۔
رضی صاحب نے بتایا ایک بار محترمہ بشری رحمن صاحبہ ملتان آ ئیں تو ایک تقریب میں جو سابق صدر ضیاء الحق کے ریفرنڈم کے سلسلے میں تھی ان سے ملاقات ہوئی ۔ سابق صدر ضیاء الحق سے میری ویسی محبت نہیں تھی جیسا کہ ان کی تھی حالانکہ سابق صدر ضیاء الحق جب ملتان میں کور کمانڈر تھے تو 1976 میں ان کے سکول کی تقریبات میں آ ئے تھے ان سے وہ سٹیج پر جاکر انعامات بھی لے چکے تھے ۔اور گھر دادا ابو سے بھی احترام کے ساتھ ضیاء الحق کی پسندیدگی کے حوالے سے ان کا ہمیشہ سے اختلاف رہا ۔۔واپس بشری رحمن صاحبہ کی تقریب پر آ تا ہوں تو اس دن میرے دل میں ضیاء کے حوالے سے جو باتیں تھیں کہہ دیں حالانکہ بعد میں بشری رحمن صاحبہ نے اپنی تقریر میں خفگی کا بھی اظہار کیا تھا لیکن تقریب کے بعد مجھے چائے اپنی کتابیں بھی دیں اور ایک جملہ میرے بارے میں ایک رسالے پر تحریر کیا "تم میں کنہیا لال کپور چھپا ہوا ہے ” کنہیا صاحب برصغیر کے نامور مزاح نگار گزرے ہیں ۔مجھے بشری رحمن صاحبہ نے کہا کہ تم ملتان میں ضائع ہو رہے ہو تمہیں لاہور میں ہونا چاہیے بس پھر ہم نے بوریا بستر باندھا اور لاہور کی طرف ہجرت کرلی ۔۔۔
میں نے کہا کہ آ پ کی بچپن ‘لڑکپن اور جوانی کی کہانی کو بریک لگاتے ہیں اور پڑھنے والوں کو کہتے ہیں اس کے آ گے کا صحافتی سفر اور بیس سے زیادہ کتابوں کے مصنف کہانی واقعات قصے کہانیوں کے لئے ملتے ہیں بریک کے بعد ۔۔۔۔رضی الدین رضی الدین کہتے ہیں آ غا صاحب میں زندگی میں صرف دو بار اپنی تحریر لکھنے کے بعد رویا ہوں ایک بار اپنے والد پر” پہلا جنازہ ” تحریر کرنے کے بعد بہت رویا تھا ۔۔۔۔اور دوسری بار کب روئے تھے ۔۔۔آ پ کو رضی صاحب کے دوسرے صحافتی سفر کے کالم ایڈیشن میں بتاؤ گا ۔۔
( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

رضی الدین رضی صحافت ملتان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleخدا کے وجود پر مناظرہ۔۔یاسر پیرزادہ کا مکمل کالم
Next Article برطانیہ میں شہزاد اکبر پر حملہ، ناک اور جبڑا فریکچر
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مارک ٹلی بھارت کا بیانیہ بناتے تھے : پاکستان میں مارشل لاء کی راہ ہموار کی : ثقلین امام

جنوری 25, 2026

ملتان کا پانچواں تحفہ عتیق فکری : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

جنوری 23, 2026

دو جنوری 1978 ء کالونی ملز میں 133 مزدوروں کا قتل ضیاء کے حکم پر ہوا : ڈان نیوز کی تحقیقی رپورٹ کا ایک حصہ

جنوری 20, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • مدثر نارو ، ایمان مزاری اور دکھی ماں کی بددعا : حامد میر کا کالم جنوری 26, 2026
  • صدر مملکت کے اعتراضات دانش سکول اور اراکینِ پارلیمنٹ ۔۔۔ نصرت جاوید کا کالم جنوری 26, 2026
  • مارک ٹلی بھارت کا بیانیہ بناتے تھے : پاکستان میں مارشل لاء کی راہ ہموار کی : ثقلین امام جنوری 25, 2026
  • بھٹو کی پھانسی سے شہرت پانے والے نامور برطانوی صحافی مارک ٹلی انتقال کر گئے جنوری 25, 2026
  • نظریات، اخلاقیات اور بےترتیب معاشرہ : ڈاکٹر علی شاذف کا کالم جنوری 25, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.