ادبرضی الدین رضیلکھاری

یوم اقبال اور عالم ِ تنہائی : ڈاکٹر اسلم انصاری اور پروفیسر انور جمال کے تاثرات ۔۔ رضی الدین رضی

حکیم الامت ، شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی 82ویں برسی 21اپریل کو منائی جارہی ہے۔ کورونا لاک ڈاﺅن کی وجہ سے اس مرتبہ علامہ اقبال کے یوم وفات کے موقع پر روایتی تقریبات اور سیمینار منعقد نہیں ہوں گے تاہم سوشل میڈیا اور ریڈیو ،ٹی وی پر ان کی برسی کے موقع پر خصوصی پروگرام ترتیب دیئے گئے ہیں۔
علامہ اقبال کی برسی پرفکر اقبال اور عالم تنہائی کے موضوع پر اپنے پیغام میں نامور شاعر ،دانشور اور ماہر اقبالیات پروفیسر ڈاکٹر اسلم انصاری نے کہا کہ حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے اپنی شاعری میں براہ راست احتیاط اور فاصلے کاتصور تو نہیں دیا لیکن انہوں نے حیات افروزی کے لیے یقین اور آرزو مندی کا راستہ اختیار کرنے کی تلقین کی۔آج اگرو ہ زندہ ہوتے تو اپنے پیغام میں احتیاط کے اصول کوبھی شامل کرتے اور وصل سے زیادہ ایک بارپھر جدائی کی اہمیت کو واضح کرتے۔ ڈاکٹرا سلم انصاری نے مزید کہاکہ ہم جو طویل عرصے سے اقبال کی فکر کے سائے میں سانس لیتے ہیں احتیاط اورفاصلے کے تصور کو خود ہی ان کے افکار سے اخذ کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اقبال کا درس یقین اور آرزو مندی آج کی دنیا میں پہلے سے زیادہ اہم اورمعنی خیز ہے۔ ہمیں استقامت سے کام لینا ہے ۔یقین اور آرزو مندی سے کام لیناہے اورسب سے بڑھ کر یہ کہ احتیاط سے کام لینا ہے۔عمل بالاحتیاط آج کا اصول بھی ہے اور پیغام بھی۔انہوں نے کہاکہ میرتقی میر نے بہت پہلے کہا تھا ” لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام ۔۔۔۔ آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا “۔ میر کو نہیں معلوم تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب ماسک کی چھلنی سے چھان کر سانس لینا پڑے گا اور ہاتھوں پردستانے چڑھا کر کاروبارحیات کو سرانجام دینا پڑے گا۔لیکن زمانے کی گرہ میں انسان کے لیے کیا کچھ ہے یہ کبھی کسی کو معلوم نہیں ہوسکا۔
نامورشاعر اور ماہر تعلیم پروفیسر انور جمال نےبات چیت کے دوران کہاکہ کورونا لاک ڈاﺅن میں فکراقبال کی ایک نئی جہت سامنے آئی ہے۔ علامہ اقبال کی شاعری میں ہمیں تنہائی کے موضوع پر بہت سی نظمیں پڑھنے کوملتی ہیں۔ ان نظموں کے ذریعے علامہ اقبال ہمیں بتاتے ہیں کہ عالم تنہائی ہمیں غوروخوض اورفکر کا موقع دیتا ہے۔ اپنی ذات سے آگاہی کا موقع ملتا ہے۔ اقبال اردو کے واحد شاعر ہیں جنہوں نے حدت، حرارت اور امید کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہاکہ تنہائی ہمیں الہامی کیفیت میں لے جاتی ہے اور تمام صوفی ،فلسفی شاعر خلوت نشینی میں ہی فکر کے اعلی مدارج طے کرتے ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker