اقبال ہراجکالملکھاری

الیکشن ہارنے والی فردوس عاشق اعوان کی عدالت ۔۔اقبال ہراج

عورت سے متعلق میری رائے ہمیشہ مثبت ہی رہی ہے۔ ماں، بیٹی، بہن اوربیوی گویاہرروپ میں اس نے اپناکرداربڑی خوش اسلوبی سے نبھایا ہے۔عورت کی ذات میں طمع،لالچ،حرص کا عنصر بہت ہی کم دیکھا گیا ہے اورجب کسی ہستی کومادرملت کادرجہ دیاجائے تویہ بہت بڑا اعزازہے ۔لیکن جب کبھی اعتمادکوٹھیس پہنچے تواسے تربیت میں مجرمانہ غفلت ہی قراردیاجائے گا۔محترمہ فاطمہ جناح نے20 سال تک قائداعظم محمد علی جناح کیساتھ قیام پاکستان اوراستحکام پاکستان کیلئے شب وروز انتھک محنت کی اوران کے کردار کے قائداعظم بھی معترف تھے۔قائداعظم کے انتقال کے بعدخودغرض اورحریص حکمرانوں نے محترمہ فاطمہ جناح کی قائدانہ صلاحیتوں سے استفادہ مناسب نہ سمجھایہاں تک کہ ان کی تقاریرسنسر شپ کی نذر ہوتی رہیں۔چونکہ ماں توپھرماں ہوتی ہے اس لئے عوام کادل ہمیشہ ملت کے ساتھ ہی دھڑکتارہا۔یہاں تک کہ ڈر کے مارے کوئی بھی سیاستدان آمر ایوب کے مقابل صدارتی انتخاب لڑنے کیلئے تیار نہ ہواتومادرملت کے خون نے جوش مارااوروہ نہ صرف الیکشن لڑنے پررضامندہوگئیں بلکہ عوامی انتخاب جیت گئیں لیکن ایوبی آمریت نے روائتی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہوئے نتائج اپنے حق میں بدل لئے۔اس معرکہ میں مسلم لیگی خواتین نے بھی ان کابھرپورساتھ دیااوران کے ساتھ ملک کے طول وعرض کے دورے کئے۔میں ان خواتین کی عظمت کوسلام پیش کرتاہوں۔اسی طرح بیگم نصرت بھٹو،دخترمشرق بینظیربھٹو ،بیگم کلثوم نوازبھی ضیاءاورمشرف آمریت کے سامنے سیسہ پلائی دیواربن گئیں اورآمریت کوچاروں شانے چت کردیااب وہ سیاست میں آنے والی خواتین کیلئے رول ماڈل بن چکی ہیں۔قارین کرام یہ70ءکی دہائی کی بات ہے اس وقت میری عمرلگ بھگ تین یاچار برس ہوگی۔ہم کھیتی باڑی کرتے تھے۔اس وقت ٹھیکیداری نظام نہ ہونے کے برابرتھا۔رقبہ زمیندارکاہوتاتھا۔وہ کاشت کیلئے زمین(راہکی)پرکسان کودیتا۔اس وقت ٹریکٹر نہ ہونے کے برابر تھے۔کسان بیلوں کی مدد سے ہل چلاکرکاشت کرتا۔پانی نہری ہی استعمال ہوتا۔جب فصل تیار ہوجاتی تووہ مالک اورمزارع میں برابر تقسیم کر دی جاتی۔کاشتکارکیلئے صرف سال کی گندم ہی بچ پاتی اوروہ جانور پال کر باقی اخراجات پورے کرتاتاہم وہ اس پربھی مطمئن تھا۔ہم مخدوم پور(خانیوال)میں کاشتکاری کرتے تھے۔والدصاحب نے وہ زمین چھوڑدی اورہم وہاں سے ہجرت کرپانچ چھ میل دورجان محمد والہ چلے گئے اوروہیں روزی روٹی کمانی شروع کردی۔مخدوم پور میں ہماراایک پالتو کتا ہواکرتاتھا ۔ ہماری ہجرت کیساتھ اس کی بھی وفاداری کاامتحان شروع ہوگیا۔یہاں ہمارے رشتہ داروں کے سات آٹھ گھرآبادتھے۔ہماراکتایہیں پلاتھا۔مجھے آج بھی اس کی وفاشعاری پہ رشک آتاہے کہ وہ شام ہوتے ہی ہمارے پاس پہنچ جاتااورسورج نکلنے سے قبل واپس چلا جاتا اس طرح جب تلک وہ زندہ رہا اس کی وفا داری میں فرق نہیں آیا۔


ڈاکٹرفردوس عاشق اعوان کومیں زیادہ تو نہیں جانتا۔سنا ہے کہ قمرزمان کائرہ کی دریافت ہیں۔انہوں نے ہی محترمہ کوزرداری صاحب سے متعارف کرایا تھااورٹکٹ کی بھی سفارش کی ۔سومحترمہ کوٹکٹ مل گیا۔بی بی کی شہادت کے بعدالیکشن ہوئے۔فردوس عاشق صاحبہ نے مہنگائی کے باعث بدنام مشرف حکومت اور بی بی کی شہادت کا بھرپورفائدہ اٹھاتے ہوئے مشرف دور کے سپیکرقومی اسمبلی امیرحسین کو الیکشن2008میں پچھاڑدیااورڈاکٹر صاحبہ کی واہ واہ ہوگئی۔پی پی حکومت میں محترمہ کووزارت بہبودآبادی کاقلمدان سونپاگیا۔ان کی کوششوں کی بدولت آبادی کم ہونے کاتو مجھے علم نہیں لیکن اتناضروریادہے کہ وہ شام کوٹی وی چینلزپرضرورجلوہ افروز ہواکرتی تھیں اورپی پی حکومت کی پالیسیوں کاخوب دفاع کرتی نظر آتی تھیں۔لیکن وقت نے پلٹاکھایااورمحترمہ کوپی پی کی کشتی میں سوراخ کی بھنک پڑگئی اورانہوں نے ملاح کوبتائے بغیر چھلانگ لگادی اورپی ٹی آئی کے الیکٹیبلز کی صف جاکھڑی ہوئیں۔پی ٹی آئی کارکنوں نے ان کی وفاداری پرانگلیاں اٹھائیں انہیں اپنی وفاداری دلاتے کافی عرصہ لگ گیا۔آخر کارٹکٹ کے حصول میں کامیاب ہوگئیں۔الیکشن2018میں ان کے متکبرانہ رویے اورمشکوک وفاداری نے کام دکھایاکارکن تو پہلے ہی بدظن تھے حلقے کے عوام نے بھی انہیں گھاس نہ ڈالی اورڈاکٹر صاحبہ بری طرح پٹ گئیں۔ہارنے کے باوجودمحترمہ پی ٹی آئی ترجمان ہیں اورخیر سے وفاداری کاحق خوب اداکررہی ہیں۔پی پی دورمیں توشام کورونق لگاتی تھیں اب د ن رات پارٹی اورقائدعمران خان کے گن گارہی ہیں۔ان کیلئے سازگار بیٹنگ پچ بنادی گئی ہے۔جس پر الٹاسیدھا بیٹ گھماکروہ ناظرین کودم بخود کردیتی ہیں۔ان کے بقول مسلم لیگ(ن)اورپی پی توہیں ہی چور جماعتیں،ان پارٹیوں جو گنے چنے راست بازاورپاک دامن تھے وہ توسارے کے سارے ریاست مدینہ کی طرزپرملک چلانے کیلئے پرعزم پی ٹی آئی میں شامل ہوچکے ہیں اورمحترمہ سمجھتی ہیں کہ دنیا جہان کی تمام برائیاں پی پی اور ن لیگ میں ہی ہیں۔وہ روزانہ ٹی وی پرعدالت لگاتی اوردونوں پارٹیوں کے قائدین پر ہر لگنے والے الزام پرمہرتصدیق ثبت کرتی ہیں۔وہ یہ بھی بھول گئی ہیں کہ ان عدالتوں کے اوپر بھی ایک عدالت ہے اوراس کاانصاف تو شک شبہ سے بالاہے اورآپ نے بھی اس عدالت میں ایک دن حاضرہوناہے۔محترمہ قمرزمان کائرہ اورآصف زرداری کے احسانات بھول گئیں۔قمرزمان کائرہ ایک جہاندیدہ اورمنجھے ہوئے سیاستدان ہیں اورزرداری صاحب کی دوراندیشی اورذہانت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔لگتاہے دونوں چوک گئے۔اب نہ چاہتے ہوئے بھی ڈاکٹر صاحبہ کوٹی وی چینلز پر دیکھ کر پیچ و تاب کھاتے ہوئے یقینا یہی کہتے ہوں گے
ہم باوفاتھے اس لئے نظروں سے گر گئے
شائدتجھے تلاش کسی بیوفا کی تھی

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker