قارئین کرام میں چونکہ ڈسٹرکٹ رحیم یار خان سے تعلق رکھتی ہوں وہاں ایک علاقہ کچے کا علاقہ کہلاتا ہے۔۔ کچے کے علاقے کا کچھ حصہ میرے ڈسٹرکٹ رحیم یار خان میں آتا ہے اور کچھ علاقہ کشمور کند ھ کوٹ میں آتا ہے یہاں سنسان جنگلات اور ٹیلے ہیں اور متعدد سالوں سے یہاں جرائم پیشہ لوگ رہتے ہیں اس لیے آپ اکثر سنتے ہوں گے کہ کچے کے علاقے کے ڈاکوؤں نے کارر وائی کی ۔۔
تو قارئین کرام چند روز قبل بھی یہاں آٹھ ڈاکو ہلاک ہو گئے چند روز قبل بھی ایک بچے کو اغوا کیا گیا اور 10 لاکھ ڈیمانڈ کیے گئے مگر والدین بندوبست نہ کر سکے تو دو روز قبل بچے کی ننگی تصویر بھیجی گئی۔ میں اپنے ڈسٹرکٹ میں ہی موجود تھی تو یہ خبر وائرل ہوئی کہ انہڑ گروپ کے آٹھ ڈاکووں کو ہلاک کر دیا گیا ہے اور اب سندھ اور پنجاب پولیس دونوں ہی کریڈٹ لینے کے لیے جھگڑ رہے ہیں مگر میرا اس خبر سے کوئی لینا دینا نہیں ہے. ساتھیو مجھے صرف یہ بتانا ہے کہ میرے علاقے میں جو خبر وائرل ہے وہ یہ ہے کہ ڈاکو ذاتی دشمنی کی بنا پر قتل ہوئے ہیں یعنی عثمان چانڈیہ ڈاکو نے ذاتی دشمنی کی بنا پر آٹھ ڈاکو قتل کر دیے۔۔
تو جناب یہ تھے کچے کے ڈاکو اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف یعنی پکے کے ڈاکوؤں پر …آپ پوچھیں گے کہ پکے کے ڈاکو کون ؟ تو جناب اگر وہ علاقہ کچے کا ہے تو ہمارے ترقی یافتہ شہر پکے کے علاقے ہوئے اب پکے کے علاقوں کی بات کرتے ہیں تقریبا ہفتہ بھر سے بہاولپور کی یونیورسٹی کے منشیات اور سیکس سکینڈل کا واویلا ہے اور اس میں پکے کے بہت سے ڈاکو ملوث ہیں ، سیاست دانوں کو تو چھوڑیں استاد جو روحانی باپ ہوتے ہیں جن کو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ نبیوں کا پیشہ ہے مگر کچھ استادوں کے نام بھی پکے کے ڈاکوؤں میں لیے جا رہے ہیں۔
یقین کیجئے قارئین کرام ہر فورم پہ ہر حلقہ احباب میں اگر فون پر بھی بات ہوئی تو موضوع گفتگو یہی رہا میں سوچتی رہی کہ جامعہ میں پڑھنے والی طالبات کے ماں باپ کا کیا حال ہوگا ہر لڑکی مشکوک نظروں کا سامنا کرے گی ۔کچے کے ڈاکوؤں کی ہلاکت کا کریڈٹ تو ڈی پی او رضوان اور سندھ پولیس لینا چاہ رہے ہیں مگر اس سکینڈل کا کیا کریں کہ اعجاز شاہ کو کریڈٹ دیں کہ دھڑلے سے دعوی کرتا رہا کہ ہر ڈیپارٹمنٹ میں 10 ، 12 پروفیسر یہی دھندا کر رہے ہیں افسوسناک تو یہ بات ہوئی کہ پولیس نے چالان میں ابھی صرف آئس نشہ چھ گرام ڈالا ہے ویڈیوز اور تصاویر کا ذکر گول کر گئے۔ مجھے یقین ہے کہ تفتیش کی بے شمار چھلنیوں سے گزر کر یہ کیس تکنیکی بنیادوں پر قابل اخراج مقدمے کی سطح تک پہنچ جائے گا۔ بیچارے کچے کے ڈاکو غریب تھے مارے گئے پکے کے ڈاکو سرخرو ہو جائیں گے بہت سے ایسے کیسز ہمارا منہ چڑاتے رہے ہیں ۔ بنوں کی یونیورسٹی آپ کو یاد ہوگی ویڈیو موجود ہے آج بھی اور دیکھی جا سکتی ہے۔ اس کیس پر مذہبی رہنما چپ سیاستدان چپ استاد چپ اکا دکا صحافی ہیں جنہیں دھمکیاں ملنا شروع ہو گئی ہیں تو جناب کیا کہیں گے آپ ؟ کہیں کچے کے ڈاکوؤں کی طرح آپس کا کوئی اختلاف ہوا اور یہ سالوں پر محیط گندا کھیل کسی نے ننگا کر دیا۔ چلیں چھوڑیں قارئین کرام کچے کے ڈاکوؤں کو اب پکے کے ڈاکو گنتے ہیں اور فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں.
انشاءاللہ اگلے کالم میں پکے کے مزید ڈاکوؤں کو ہائی لائٹ کرنے کی کوشش کروں گی.
فیس بک کمینٹ

