تہران : اسرائیلی فوج نے ایران پر حملوں میں ایک ہفتے کے دوران تیسرے ہسپتال کو وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنایا ہے جبکہ اسرائیلی ڈرونز نے دارالحکومت تہران میں رہائشی عمارت پر حملہ کیا ہے۔قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق ایران کی وزارت صحت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ آج تہران میں ایک اور ہسپتال اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنا۔
وزارت کے پبلک ریلیشنز کے سربراہ نے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کو جاری بیان میں کہا کہ ’یہ ایران میں تیسرا ہسپتال ہے جس پر حملہ کیا گیا ہے، صہیونی دشمن نے 6 ایمبولینسوں اور ایک جامع طبی مرکز کو بھی وحشیانہ طریقے سے نشانہ بنایا ہے‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’بزدلانہ جارحیت کے ان 7 دنوں میں اسرائیل کی جانب سے بین الاقوامی کنونشنز کی 6 سے زائد بار خلاف ورزی کی جا چکی ہے‘۔الجزیرہ کے مطابق ایرانی خبر رساں ادارے عصر ایران کا کہنا ہے کہ تہران کے مرکزی علاقے گیشا میں ایک رہائشی عمارت کے اپارٹمنٹ پر ڈرون حملہ کیا گیا ہے۔حکام نے فی الحال اس واقعے کی نوعیت، ممکنہ جانی یا مالی نقصان، اور حملے کے ذمہ داروں کے حوالے سے کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا ہے۔
یہ واقعہ ایرانی دارالحکومت کے نسبتاً گنجان آباد اور شہری علاقے میں پیش آنے والا ایک غیر معمولی اور تشویشناک حملہ سمجھا جا رہا ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ تنازع اب شہری اہداف کو بھی متاثر کر رہا ہے۔یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے، اور ایرانی حکام اسرائیلی حملوں کو نہ صرف انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قرار دے رہے ہیں بلکہ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی خاموشی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
قبل ازیں، اسرائیلی فوج نے رات گئے تہران میں ایرانی فوجی تنصیبات اور ایک جوہری تحقیقاتی مرکز پر وسیع فضائی حملوں کا دعویٰ کیا تھا، صہیونی فوج کے مطابق ان حملوں میں 60 سے زائد لڑاکا طیارے شامل تھے جنہوں نے 120 بم اور میزائل داغے۔خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ نشانہ بنائے گئے مقامات میں تہران میں واقع متعدد میزائل سازی کے کارخانے شامل تھے، جو ایران کی وزارت دفاع کے صنعتی مرکز کے طور پر کام کر رہے تھے۔
فیس بک کمینٹ

