جبار مفتیکالملکھاری

جبار مفتی کا کالم : نجانے وہ دن کب طلوع ہوگا؟

تشویشناک خبروں کا اس قدر خوفناک طوفان پہلے کبھی سنا،نہ دیکھا جو اس وقت امڈتا چلا آ رہا ہے۔ دو لخت تو ہم نصف صدی قبل ہی ہو گئے تھے، اب کیا اختتام کے آثار ہیں؟؟ اللہ نہ کرے کہ ایسا ہو، مگر ہمارے رویے ہمیں اسی طرف لے جاتے محسوس ہو رہے ہیں۔ یہ رویے یہ چلن نئے نہیں ہیں۔ نفسانفسی شروع سے ہی ہماری عادت یا شائد جبلت ہے۔ قیام پاکستان کے ابتدائی گیارہ سال (قائد اعظم کی حکومت کی مختصر مدت نکال کر) جو سیاسی افراتفری رہی، وہ اسی جبلت کی آئینہ دار تھی۔ ذاتی و گروہی مفادات نے ملکی نظام کی چولیں ہلا کر رکھ دیں۔ آئے روز حکومتوں کا بننا اور ٹوٹنا مذاق بن کر رہ گیا، یہاں تک کہ ہمسایہ دشمن ملک کے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے پھبتی کسی کہ ”مَیں اتنے پاجامے تبدیل نہیں کرتا، جتنی حکومتیں پاکستان میں تبدیل ہو جاتی ہیں“…… 1958ء میں جب جنرل محمد ایوب خان نے مارشل لاء لگا دیا تو سیاسی عدم استحکام تو ختم ہو گیا، مگر فوجی آمریت شروع ہو گئی۔ ایوب خان سخت گیر چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بن گئے۔ سیاستدانوں کا سیاست میں کردار ختم کرنے کے لئے ایبڈو لگا دیا۔ تمام پرانے سیاستدانوں پر پابندیاں لگا دی گئیں اور چار سال بعد نیم سیاسی، نیم جمہوری نظام نافذ کیا گیا۔ 1962ء میں آئین نافذ ہوا جس کے تحت بنیادی جمہوریت کو ہی نظام حکومت قرار دیا گیا۔ اس میں براہ راست کی بجائے بالواسطہ انتخابات کا راستہ طے کیا گیا۔ صدر مملکت اور ارکان قومی اسمبلی کو عوام ڈائریکٹ ووٹ نہیں دیتے تھے، بلکہ وہ اپنے اپنے محلے سے بی ڈی ممبر (کونسلر) منتخب کرتے جو صدر اور ایم این اے اور ایم پی اے کا انتخاب کرتے۔
پہلے ہی صدارتی الیکشن میں صدر ایوب کے مقابل قائد اعظمؒ کی ہمشیرہ مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح میدان میں آ گئیں۔ ساری اپوزیشن جماعتوں نے ان کو متفقہ طور پر اپنا امیدوار بنایا، مگر بنیادی جمہوریت کے نظام کی بدولت ایوب خان جیت گئے۔ حکومت پہلی بار اتنی مدت تک قائم رہی تو معاشی استحکام اور صنعتی ترقی نظر آنے لگی۔ حکومت نے بڑی شان و شوکت سے عشرۂ ترقی منانے کاا علان کیا۔ تقریبات شروع ہو گئیں، مگر اپوزیشن نے بحالیء جمہوریت کی جدوجہد شروع کر دی۔ حکومت مخالف تمام سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنا، طلبہ کی شرکت سے سرکار مخالف تحریک زور پکڑ گئی۔ ایوب خان نے اپوزیشن کا مطالبہ مانتے ہوئے حکومت چھوڑنے کا فیصلہ کیا، مگر اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اقتدار سپیکر قومی اسمبلی کے سپرد کرنے کی بجائے آرمی چیف جنرل یحییٰ خان کے حوالے کر دیا۔ ایک بار پھر مارشل لاء لگ گیا، عدم استحکام آ گیا، ترقی رک گئی۔اس کے بعد عام انتخابات ہوئے، نتائج پر عملدرآمد نہ ہوا، مشرقی پاکستان میں بغاوت ہوئی اور ملک ٹوٹ گیا۔
پیپلزپارٹی کو پنجاب اور سندھ میں اکثریت ملی تھی، مغربی پاکستان میں بھی اس کی قومی نشستیں سب سے زیادہ تھیں۔ یحییٰ خان نے چیئرمین پیپلزپارٹی ذوالفقار علی بھٹو کو اقتدار منتقل کر دیا۔ خیال تھا کہ بچے کھچے پاکستان کو مل جل کر جمہوری روایات کے مطابق چلایا جائے گا، مگر اپوزیشن کو کچلنے کے سرکاری اقدامات نے حکومت کے خلاف جذبات بھڑکا دیئے، سرکار مخالف جماعتیں احتجاج کے راستے پر چلنے لگیں۔ بھٹو صاحب نے آئینی مدت مکمل ہونے سے ایک سال پہلے ہی 1977ء میں انتخابات کرانے کاا علان کر دیا۔ مخالف جماعتیں پاکستان قومی اتحاد کے نام سے اکٹھی ہو گئیں۔ الیکشن پیپلزپارٹی جیت گئی، مگر اپوزیشن نے دھاندلی کے الزامات لگا کر احتجاجی تحریک شروع کر دی جو زور پکڑ گئی، حکومت عملاً مفلوج ہو گئی۔ مذاکرات کرنا پڑے۔
مذاکرات کے آخری دور کے چند گھنٹے بعد جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء لگا کر سیاست کی بساط لپیٹ دی۔ یہ دور تقریباً گیارہ سال چلا۔ پیپلزپارٹی اس سارے عرصے میں معتوب رہی، اس کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کی سازش کے الزام میں پھانسی دے دی گئی۔ یہ دور جنرل ضیاء الحق کی حادثاتی موت پر ختم ہوا، ایک بار پھر سیاسی دور اور اس میں اٹھا پٹخ شروع ہو گئی، کسی حکومت کو مدت مکمل نہ کرنے دی گئی 1999ء میں پھر غیر اعلانیہ مارشل لاء آ گیا۔ اس بار جنرل پرویز مشرف نے یہ کام کیا۔ پہلے باوردی پھر بے وردی حکمرانی کی سیاست مشروط قسم کی بحال ہوئی۔ عام انتخابات میں پہلے پیپلزپارٹی، پھر مسلم لیگ (ن) شریک اقتدار ہوئی، مگر انہیں سکون سے حکومت نہیں کرنے دی گئی۔ اس دوران موجودہ حکمران جماعت تحریک انصاف بھی قدم جمانے لگی۔ 2013ء کے انتخابات کے کچھ ہی عرصے بعد 2014ء میں تحریک انصاف اور عوامی تحریک نے اسلام آباد میں دھرنا دے کر حکومتی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ پشاور کے سانحہ کے بعد دھرنا ختم ہوا۔ دھرنے میں تو امپائر کی انگلی کھڑی نہ ہوئی، مگر حکومت مخالف تحریکوں نے سرکار کو سکون سے حکمرانی بھی نہیں کرنے دی۔ اس کے بعد قانونی اور عدالتی محاذ گرم ہو گیا۔
منتخب وزیر اعظم پیشیاں بھگتتے بھگتتے نا اہلی کے گھاٹ اتر گئے۔ نوازشریف عدالت سے نا اہل ہونے والے مسلسل دوسرے منتخب وزیر اعظم بنے۔ سپریم کورٹ نے اس سے قبل سید یوسف رضا گیلانی کو بھی نا اہل کیا تھا۔ 2018ء کے انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آنے والی تحریک انصاف کو بھی اپوزیشن کے احتجاج کا سامنا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اپوزیشن کی تحریک بھی کامیاب نہیں ہو رہی اور حکومت بھی نہیں چل رہی، ایک بار پھر عدم استحکام ہے اور ہم ہیں کہ معیشت کی جان نکال رہے ہیں۔ کسی منتخب حکومت کو چلنے نہ دینے کی روایت برقرار ہے، نفسانفسی جاری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن میں سے کوئی بھی دوسرے کو رعایت دینے کے لئے تیار ہے نہ برداشت کرنے پر راضی۔ بیڑہ غرق ملک کا ہو رہا ہے، نجانے ارضِ پاک پر وہ دن کب طلوع ہو گا کہ ہم ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے، نفسانفسی چھوڑ کر، ملک و قوم کے لئے استحکام کی فضا پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔ خدا کرے کہ ہماری زندگیوں میں وہ دن آ جائے، ورنہ سفر رائیگاں تو ہے۔

( بشکریہ : روزنامہ پاکستان )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker