تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : سیرینا ہوٹل کابل میں رونمائی اور فواد چوہدری کی حیرت

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اس حیرت کا اظہار کیا ہے کہ آئی ایس اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے دورہ کابل پر اتنی زیادہ توجہ دینے اور اسے پروپیگنڈے کے لئے استعمال کرنے کی کیا وجہ ہوسکتی۔ آخر امریکہ، قطر اور ترکی کے انٹیلی جنس چیفس بھی تو کابل کا دورہ کرچکے ہیں۔ فواد چوہدری کو نہ معلوم اس سوال کا جواب مل پائے گا یا نہیں تاہم انہیں اس بات کا جواب ضرور دینا چاہئے کہ جنرل فیض حمید اگر صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے کابل گئے ہیں تو انہوں نے سیرینا ہوٹل کی لابی میں تشریف لا کر کس کو کیا پیغام دینے کی کوشش کی تھی؟
فواد چوہدری بھی جانتے ہوں گے کہ پاکستانی انٹیلی جنس آئی ایس آئی کے سربراہ کے دورہ کابل اور دیگر ممالک کے افغان دارالحکومت جانے کی خبر میں بنیادی فرق کیا ہے۔ سی آئی اے سربراہ ولیم برنس جب کابل ائیرپورٹ سے امریکی شہریوں کا انخلا مکمل ہونے سے پہلے کابل گئے تھے تو ان کے وہاں جانے اور طالبان لیڈر ملا عبدالغنی برادر کے ساتھ ملاقات کی خبر واشنگٹن پوسٹ نے ’بریک ‘ کی تھی۔ اس بارے میں جب میڈیا نے سی آئی اے کے ترجمان سے تفصیلات جاننے کی کوشش کی تو انہیں بتایا گیا تھا کہ ’ایجنسی اصولی طور پر اور سیکورٹی کے نقطہ نظر سے اپنے سربراہ کی نقل وحرکت کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کرتی‘۔ سی آئی اے یا امریکی حکومت نے اگر اس خبر کی تصدیق نہیں کی تو اس کی تردید بھی سننے میں نہیں آئی۔ فواد چوہدری نے جن دیگر دو ملکوں کے انٹیلی جنس سربراہان کے دورہ کابل کا حوالہ دیا ہے، انہوں نے بھی کوئی خاص ’پبلک شو‘ کا اہتمام نہیں کیا تھا تاکہ اپنے پرائے جان لیں کہ وہ کابل پہنچ چکے ہیں اور پوچھ لیں کہ بھئی آپ یہاں کیالینے آئے ہیں۔
آئی ایس آئی اے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا معاملہ اس سے برعکس ہے۔ نہ تو ان کی کابل آمد کے بارے میں پاک فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے کوئی معلومات فراہم کیں اور نہ ہی کسی میڈیا گروپ نے اپنے ذرائع سے یہ خبر حاصل کرکے عام لوگوں تک پہنچائی۔ بلکہ جنرل صاحب اچانک قہوہ کی پیالی اٹھائے سیرینا ہوٹل کابل کی لابی میں جلوہ افروز ہوگئے اور اس ’چہل قدمی‘ کے دوران اسی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے غیر ملکی صحافیوں نے انہیں ‘نوٹس‘ کرلیا اور وہ ان کے گرد جمع ہوگئے۔ جنرل صاحب نے اس ہجوم کو دیکھ کر کسی ناگواری کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی خاموشی سے صحافیوں سے بچ کر نکل جانے میں ’عافیت‘ سمجھی بلکہ اطمینان سے وہاں ان کی موجودگی پر حیر ت و تجسس کا اظہار کرنے والوں سے گفتگو کی ۔ اس گفتگو کا ایک حصہ برطانیہ کے چینل فور نے ریکارڈ کرکے عام بھی کردیا جو سوشل میڈیا پر کم از کم پاکستان کی حد تک وائرل ہوگیا اور یقیناً دنیا کے اہم دالحکومتوں میں غور سے سناگیا ہوگا۔ اور پاکستانی انٹیلی جنس کے سربراہ نے ’آن ریکارڈ‘ جو جملے ادا کئے ہیں انہیں ان کے پس منظر اور بین السطور سمجھنے اور تشریح کرنے کی کوشش کی جارہی ہوگی۔ ان کوششوں میں کچھ حصہ پاکستان کے ماہر سفارت کاروں نے بھی ضرور ادا کیا ہوگا جو کابل میں جنرل فیض حمید کی وجہ نزول اور اس دوران انجام دیے گئے کارناموں کے بارے میں پاکستانی مؤقف کو اجاگر کرنے کے کام پر مامور ہیں۔
تاہم ملک کا وزیر اطلاعات بظاہر سفارتی و انٹیلی جنس معاملات کی حساسیت سے اس قدر نابلد ہے کہ وہ میڈیا کو رگیدنے کی اپنی ہی ترنگ میں اس بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے بھی تنک مزاجی کا مظاہرہ کرنے سے باز نہیں آتا۔ اس رویہ سے یہ تو معلوم ہوجاتاہے کہ فواد چوہدری کو ‘میڈیا کا باس‘ بننے اور ہمیشہ اسے سبق سکھانے کا ’ہوکا‘ لگا رہتا ہے۔ حکومت میڈیا اتھارٹی کے نام سے جو ادارہ بنانے کی کوشش کررہی ہے، اس میں بھی میڈیا کی تربیت اور ذمہ داری سے پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دینے کی تربیت کو خاص طور سے اس ادارے کے فرائض میں شامل کیا گیا ہے۔ میڈیا کی سرکاری تربیت کی یہ سنہری تجویز بھی فواد چوہدری کے زرخیز ذہن ہی کی پیداوار ہوگی۔ اس جملہ معترضہ سے قطع نظر وزیر اطلاعات جنرل فیض حمید کے دورہ کابل کے معاملے میں میڈیا کو ڈانٹتے ہوئے خود ڈگمگا گئے ورنہ انہیں جان لینا چاہئے تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ نے کابل پہنچتے ہی آخر سیرینا ہوٹل کی لابی میں ’چہل قدمی‘ کا وقت کیوں نکالا تھا۔
یہ تو نہیں ہوسکتا تھا کہ جنرل صاحب کو افغانی قہوہ کی اس قدر طلب ہوئی ہو کہ وہ بے اختیار بھاگے بھاگے لابی میں پہنچے تاکہ وہاں ہوٹل کے میزبان سے ایک پیالہ قہوہ لے کر نوش جان کرتے۔ نہ ہی اس کی وجہ یہ رہی ہوگی کہ وہ قہوہ پی کر اس قدر مسحور ہوگئے کہ میڈیا کو اکٹھا کرکے انہیں خاص طور سے بتایا کہ سیرینا ہوٹل کا قہوہ ضرور پیا کرو۔ دیکھو میں کیسے حالات میں بھی اس قہوہ کا مزہ لینے یہاں آگیا ہوں۔ پاکستانی انٹیلی جنس کا سربراہ اگر چاہتا تو اس کے کابل یا دنیا کے کسی بھی کونے میں جانے کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی۔ ہوٹل کی لابی میں رونمائی اور صحافیوں سے خوش دلانہ گفگتگو کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ خود یہ چاہتے تھے کی انہیں نوٹس کرلیا جائے اور اس خبر کو دنیا میں نشر کردیا جائے۔ پوچھا جاسکتا ہے کہ یہ خبر تو ایک پریس ریلیز کے ذریعے بھی عام کی جاسکتی تھی پھر اس کے لئے جنرل فیض حمید کی قہوہ نوشی کی تصویر نشر ہونا اور چینل فور کی صحافی سے اطمینان بخش گفتگو کی کیا ضرورت تھی؟
اس سوال کا سہل سا جواب شاید فواد چوہدری بھی جانتے ہوں کہ کسی پریس ریلیز میں دی گئی خبر اور یوں اچانک رونما ہونے اور صحافیوں کی حیران کردینے کے وقوعہ میں مواصلت کی نوعیت کا فرق ہے۔ وزیر اطلاعات میڈیا پر آئی ایس آئی چیف کے دورہ کابل کو معمول کا واقعہ قرار دے کر اگر میڈیا کو پروپیگنڈا کا الزام دینے کی بجائے ، اس سوال کا جواب دیتے کہ جس معاملہ کو جنرل فیض حمید منکشف کرنا چاہتے تھے ، اسے فواد چوہدری کیوں ’چھپانا‘ چاہ رہے ہیں تو زیادہ بہتر ہوتا۔ یوں بھی فواد چوہدری حکومت پاکستان کے ترجمان ہیں۔ ایک تو آئی ایس آئی سرکار کے ’نیچے‘ ہونے کے باوجود وزیر اطلاعات کی ’رینج‘ میں نہیں آتی۔ اس کے سربراہ کی نقل و حرکت اور اس کے مقاصد کے بارے میں بہتر ہوتا کہ وہ خود کسی تبصرے سے گریز کرتے یا آئی ایس پی آر کے تبصرے کا انتظار کرلیتے۔ حیرت ہے کہ اس حکومت کا ہر نمائیندہ ہر اس معاملہ پر رائے دینا کیوں ضروری سمجھتا ہے جو اس کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔
ملک کی سیکورٹی ، انٹیلی جنس اور خارجہ امور کے بارے میں بات تو سیکورٹی کے مشیر معید یوسف کو کرنی چاہئے یا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی معلومات فراہم کریں لیکن دیکھنے میں آیا ہے کہ کابینہ کا ہر رکن اپنی استعداد کے مطابق ان پہلوؤں پر گوہر افشانی ضروری سمجھتا ہے۔ جیسے طورخم کا دورہ کرتے ہوئے ملک کے وزیر داخلہ شیخ رشید نے فرمایا ہے کہ ’خطہ بدلنے جا رہا ہے، ممکن ہے ایک نیا بلاک بننے والا ہو۔پاکستان افغانستان میں دیرپا قیام امن و استحکام چاہتا ہے۔ ہمارا اورافغانستان کا یہ عزم ہے کہ ہم اپنی سرزمین کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ جنرل فیض حمید کا دورہ کابل خوش آئند ہے۔ دنیا کو افغانستان کے مسائل کو سمجھنے کی ضرورت ہے‘۔ فواد چوہدری کی طرح شیخ رشید کو بھی جواب دینا چاہئے کہ کیا وزیر اعظم کو اپنے وزیر خارجہ، سلامتی کے مشیر یا آئی ایس آئی کے سربراہ پر اعتماد نہیں ہے کہ انہوں نے محض خوشامدی ڈھول بجانے کے لئے متعین کئے گئے وزیروں کو اہم و حساس معاملات پر موقع بے موقع رائے زنی کا اختیار دے رکھا ہے۔
خبر و مواصلت سے وابستہ کوئی بھی شخص یہ جان سکتا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کا کابل کے ہوٹل کی لابی میں رونما ہونا اور میڈیا سے مختصر ہی سہی لیکن بات کرنا اور افغانستان کے متعلق یہ تسلی دینا کہ ’پریشان مت ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا‘، کسی مقصد کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ جنرل فیض حمید ہوٹل کی لابی میں صحافیوں کو اس لئے نظر آگئے کیوں کہ وہ نظر آنا چاہتے تھے۔ کوئی بھی صحافی دنیا کے تمام اہم لیڈروں اور عہدیداروں کی شکلوں سے شناسا نہیں ہوتا۔ جب غیر ملکی صحافی آئی ایس آئی کے سربراہ کو دیکھ کر پہچان لیتے ہیں تو جان لینا چاہئے کہ یہ پہچان کروانے والے بھی وہیں کہیں ارد گرد موجود تھے۔
لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے چینل فور کی صحافی کے سوالوں کے جواب میں جو مختصر بات کی، اس میں یہ پیغام شامل ہے کہ ’یہ واضح نہیں ہے کہ وہ طالبان رہنماؤں سے ملاقات کریں گے یا نہیں۔ ہم افغانستان میں امن واستحکام کے لیے کام کر رہے ہیں‘۔ اس بیان کو ان خبروں کے تناظر میں پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان اتحادی افواج کے مکمل انخلا کے بعد اب افغانستان میں پھنسے ہوئے غیر ملکیوں اور ایسے افغان باشندوں کے انخلا میں رابطہ کاری کررہاہے جو وہاں سے نکلنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں ان ملکوں کے لوگوں تک یہ براہ ر است پیغام پہنچانا ضروری تھا کہ جس آئی ایس آئی کو ان کا میڈیا اور حکومتیں ’ولن‘ کے طور پر پیش کرتی رہی ہیں، وہ ان کے ہی شہریوں کی مدد کے لئے کس قدر متحرک اور فعال کردار ادا کررہی ہے۔
یہ پیغام ، بیان جاری کرنے، پریس کانفرنس یا دعوؤں کے ذریعے ان ’عوام ‘ تک نہیں پہنچایا جاسکتا تھا جن کا دباؤ ہی بعض طاقت ور ملکوں کے ہٹ دھرم لیڈروں کو پاکستان کے ساتھ نرم رویہ اختیا رکرنے کا سبب بن سکتا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker