خالد مسعود خانکالملکھاری

خورشید ہوٹل کے منے میاں سے صادق حلوہ پوڑی کے غلام رسول تک۔۔خالدمسعودخان

اگر مسئلہ صرف کھانے پینے کا ہو تو لاہور اور گوجرانوالہ سے اچھا شہر شاید دنیا بھر میں اور کوئی نہیں۔ میں یہ بات ذاتی پسند کے حوالے سے کہہ رہا ہوں۔ اس سے اختلاف ممکن بھی ہے اور دوسروں کا حق بھی۔ دیگر کئی شہروں میں بھی کھانے کی بعض خصوصی چیزیں موجود ہیں‘ لیکن لاہور کے بارے میں میرا کہنا مجموعی کھانوں کے حوالے سے ہے۔ اب ملتان ہی دیکھیں! یہاں کی دال مونگ، سوتری وٹ والوں کے بغیر گھی کے چنے، ڈولی روٹی، درباری کے کباب اور خورشید ہوٹل کا مرغ روشٹ۔ جی ہاں! مرغ روسٹ نہیں، مرغ روشٹ۔ روشٹ اس لیے کہ خورشید ہوٹل کے اکلوتے کمرے کی دیوار پر لگے ہوئے بورڈ پر اس ڈش کا نام یہی لکھا ہوا ہے اور یہی اس یک کمرہ ویک نفری ہوٹل کی اصل پہچان ہے۔ یک کمرہ تو آپ کو سمجھ آ گیا ہوگا لیکن یہ ایک نفری والا معاملہ یہ ہے کہ اس ہوٹل کے کارنر میں چھوٹی سی میز کے پیچھے اس کا اکلوتا پروپرائٹر اور کچن سے ڈائننگ روم تک سروس پر مامور اکلوتا ”منے میاں‘‘۔ منے میاں کے بغیر خورشید ہوٹل کا ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیاتھا۔ اس کا پروپرائٹر تو کبھی کبھار اپنی کرسی سے غائب ہو جاتا تھا مگر منے میاں! منے میاں کو کبھی بھی غیر حاضر نہ دیکھا۔ نہ غیر حاضر اور نہ کبھی سست یا تھکا ہوا دیکھا۔ گول مٹول منے میاں کے منہ پر ہمیشہ بچوں جیسی ہنسی اور بچوں جیسی ہی پھرتی اور بے قراری تھی۔ سال سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے خورشید ہوٹل منے میاں کے بغیر مل رہا ہے۔ روشٹ ویسا ہی لذیذ ہے۔ دال اتنی ہی مزیدار ہے اور پڈنگ اسی طرح ذائقے دار ہے۔ سب کچھ وہی ہے لیکن منے میاں کے بغیر دوپہر کے وقت ہمیشہ کی طرح بھرا ہوا یہ ایک کمرے کا ہوٹل کم از کم مجھے بالکل ویران لگتا ہے۔


میں نے خورشید ہوٹل میں پہلی بار کھانا کب کھایا تھا؟ ایمانداری کی بات ہے مجھے بالکل یاد نہیں‘ لیکن یہ ضرور یاد ہے کہ یہ کم از کم بھی اڑتیس انتالیس سال پرانی بات تو ضرور ہوگی جب میں اور منیر چودھری کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہونے والی بین الکلیاتی تقریبات میں حصہ لینے پر کالج سے ملنے والے ”ٹی اے ڈی اے‘‘ وغیرہ کی مد میں ایک سیزن میں ہزار ڈیڑھ ہزار روپے بچا لیتے تھے۔ تب یہ رقم قارون کے خزانے سے معمولی سی ہی کم ہوتی تھی۔ تانگے کا کرایہ اس فارم میں لکھا ہواہوتا تھا۔ ہم نہایت ایمانداری سے اتنا ہی کرایہ درج کرتے جتنا گھر سے ریلوے سٹیشن تک بنتا تھا‘ لیکن اکثر اوقات ریلوے سٹیشن جانے کے لیے کسی سائیکل والے سے لفٹ لیتے تھے۔ قلی کے دو روپے مقرر تھے۔ یہ ہر چکر پر کل آٹھ روپے بن جاتے تھے۔مثلاً ملتان سے جاتے ہوئے قلی کے دو روپے ساہیوال اترنے پر قلی کے دو روپے اور اسی طرح واپسی کے دو عدد کرائے۔ کل آٹھ روپے ملتے۔ ظاہر ہے ہمارے پاس ہوتا ہی کیا تھا جسے قلی اٹھاتا۔ ہم خود ہی قلی ہوتے تھے۔ ریلوے کے کرائے سے کیا بچنا تھا؟ نصف کرائے پر سفر کرتے تھے اور ریلوے کے رعایتی فارم تھوک کے حساب سے مرحوم اقبال عباس نقوی صاحب جو یونین کے انچارج تھے ان سے دستخط کروا کے پیشگی رکھے ہوتے تھے۔ ٹی اے ڈی اے فارم پر کرتے وقت جتنی احتیاط کی جاتی تھی اتنی تو ہم نے کبھی ریاضی کے پرچے میں نہیں کی ہوتی تھی۔ ہمارے فارم آڈٹ کے لیے پروفیسر عبد الحمید صاحب کے پاس جاتے تھے‘ جو پچاس پیسے تک کی غلطی کو ایسے پکڑتے تھے کہ اس کی مثال دینے کے لیے بھی کچھ یاد نہیں آ رہا۔
اس آمدنی کے سیزن کے بعد میں اور منیر چودھری مالی طور پر خوشحال ہو جاتے تھے اور مل جل کر درباری کباب پراٹھہ اور خورشید ہوٹل پر ہلہ بول دیتے۔ کالج کی کینٹین سے سال بھر ادھار پر کھائے ہوئے سموسوں اور پی گئی سکوائش کی یکمشت ادائیگی کی جاتی۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے شیخ مجید صاحب کو جو گیارہ مہینے اسی آسرے پر ادھار دیتے تھے۔ تب سلیم درباری خود کباب لگایا کرتے تھے۔ اب وہ صرف اپنی تین برانچوں کی نگرانی کرتے ہیں۔ خورشید ہوٹل منیر چودھری پہلی بار میرے ساتھ گیا تھا۔ میں اس سے پہلے ایک دو بار جا چکا تھا لیکن کس کے ساتھ؟ یہ یاد نہیں۔ منے میاں کو تب خورشید ہوٹل میں دیکھا اور پھر میرے بچوں نے بھی دیکھا۔ اس یک کمرہ ہوٹل کو درست حساب کے مطابق یک کمرہ نہیں کہا جانا چاہئے۔ اسے آپ سوا کمرے پر مشتمل کہہ سکتے ہیں۔ ڈائننگ ہال کے کونے میں لگے ہوئے واش بیسن اور ٹوٹی کے ساتھ ایک چھ سات فٹ مربع کا کمرہ ہے۔یہ فیملی روم ہے۔ ہم اس میں بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ جس دن ہمیں بالکل سمجھ نہیں آتی تھی کہ کیا کھائیں۔ اس روز خورشید ہوٹل یا درباری کباب پراٹھہ میں سے کسی ایک کے نام قرعہ نکلتا تھا۔ صورتحال یہ ہے کہ سارہ آسٹریلیا سے آئی تو دوسرے ہی دن کہنے لگی: آج رات درباری کے کباب کھائے جائیں گے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ درباری جیسے کباب کم از کم میں نے اپنی ”پھیرے ٹورے‘‘ والی زندگی میں اور کہیں نہیں کھائے۔ یہی حال خورشید ہوٹل کے روشٹ کا ہے۔ ملتان کی گرمی میں کچن سے جڑے ہوئے اکلوتے ڈائننگ ہال میں گرمی، حبس اور خالی پنکھے کے نیچے کھانا آسان کام نہیں ‘لیکن خورشید ہوٹل میں یہ کبھی بھی مشکل نہیں لگتا تھا۔ لیکن ساری رونقیں منے میاں کے دم سے تھیں۔


پہلے پہل میرے بچوں کو یہ غلط فہمی رہی کہ منے میاں ان کو خصوصی پروٹوکول، مسکراہٹ، خوشی خلقی اور پھرتی سے نوازتا ہے۔ کبھی یہ خوش فہمی ہمیں بھی ہوتی تھی‘ لیکن پھر یہ خوش فہمی دور ہوگئی۔ منے میاں کسی میخانے کے کم ظرف ساقی نہ تھے‘ جن کے بارے میں خاموش غازی پوری کا شعر ہے۔
سب کی نظروں میں ہو ساقی یہ ضروری ہے مگر
سب پہ ساقی کی نظر ہو یہ ضروری تو نہیں


کھچا کھچ بھرے ہوئے کمرے میں تین چار بڑی اور تین چار چھوٹی میزوں پر کسی کھانے والے کے سامنے پڑا سالن کم ہو رہا ہے اور کسی کی روٹی ختم ہو رہی ہے‘ منے میاں کی آنکھ سے کچھ بھی اوجھل نہیں رہ سکتا تھا۔ ایک روز خورشید ہوٹل گیا تو منے میاں ڈائننگ روم میں نہیں تھے۔ پوچھا تو پتا چلا کہ منے میاں علیل ہیں۔ یقین مانیں بڑی حیرانی ہوئی کہ منے میاں بھی علیل ہو سکتے ہیں؟ منے میاں تو ہمارے نزدیک ایک روبوٹ تھے۔ دنیا کی بہترین پروگرامنگ کی روشنی میں بنے ہوئے۔ خوش اخلاق، متحرک، فرض شناس اور زندہ دل۔ گاہکوں کے ساتھ کبھی لڑنا تو ایک طرف رہا کبھی منہ بسورتے بھی نہ دیکھا۔ ایک ماہ بعد دوبارہ خورشید ہوٹل گیا تو منے میاں پھر موجود نہیں تھے۔ ڈرتے ڈرتے منے میاں کے بارے میں پوچھا ‘پتا چلا کہ منے میاں تو اللہ کو پیارے ہو گئے ہیں۔ میں کھانا کھائے بغیر واپس آ گیا۔
اب بھی میں خورشید ہوٹل جاتا ہوں ‘مگر کبھی وہاں بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتا۔ روشٹ پیک کرواتا ہوں اور گھر لے آتا ہوں۔ خورشید ہوٹل کا وہی پرانا باورچی ہے اور وہی پرانا روشٹ۔ وہی پرانا کمرہ ہے اور وہی پروپرائٹر۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ اب اس ہوٹل کے مالک کے چہرے پر بھی وہی مسکراہٹ کبھی دیکھنے کو نہیں ملی جو دو سال پہلے ہوا کرتی تھی۔ ممکن ہے کبھی کبھار آنے والوں کو منے میاں کی کمی کا کبھی احساس بھی نہ ہوا ہو‘ مگر میں نے تو گزشتہ چالیس سال میں خورشید ہوٹل اور منے میاں کو کبھی علیحدہ کر کے دکھا ہی نہیں تھا۔ اب اس عمر میں دونوں کو علیحدہ سے دیکھنا بھلا کس طرح ممکن ہے؟


صادق حلوہ پوری والا کبھی اسلامیہ کالج ریلوے روڈ کے دروازے کے عین سامنے ہوا کرتا تھا۔ دس بارہ سال پہلے وہ اسی سڑک پر تھوڑا آگے چلا گیا‘ جہاں گاڑی کھڑی کرنے کی زیادہ آسانی اور سہولت تھی۔ صادق کی حلوہ پوڑی کی یادیں تو خورشید ہوٹل سے بھی پرانی ہیں۔ تایا جی نواز اتوار کو صادق سے حلوہ پوڑی، قتلمے اور مال پوڑے لاتے تھے۔ وہاں بھی ایک ”منے میاں‘‘ تھا غلام رسول۔ آخری بار صادق کی حلوہ پوڑی کھائے بھی عشرہ گزر گیا ہے۔ دنیا کی سب سے لذیذ حلوہ پوڑی کے بارے سوچتا ہوں تو منہ میں پانی آ جاتا ہے‘ لیکن اب تو صرف اس ڈر سے وہاں نہیں جاتا کہ اگر غلام رسول وہاں نہ ہوا تو؟
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker