خالد مسعود خانکالملکھاری

خالدمسعودخان کاکالم:اسدالریف عبدالکریم الخطابی

بعض دن بہت ہی خاموشی سے گزر جاتے ہیں‘ جیسے 22جولائی کا دن۔ 22 جولائی کو عید کی چھٹی کی وجہ سے اخبار شائع نہیں ہوا۔ آپ یہ کالم پڑھتے ہوئے خیال کریں کہ آج 22 جولائی ہے۔ آج معرکہ انوال کو پورے سو سال ہو گئے ہیں۔ معرکہ انوال بائیس جولائی 1921 کو برپا ہوا تھا۔ یہ معرکہ انوال کیا ہے؟ مجھے یقین ہے کہ اکثر قارئین نے تو شاید یہ نام بھی نہیں سنا ہوگا۔ ظاہر ہے اگر معرکہ انوال کے بارے میں علم نہیں تو پھر عبدالکریم الخطابی کا نام بھی بالکل اجنبی ہوگا۔ اگر یہ معرکہ سپین کی فتح پر منتج ہوا ہوتا تو یقینا سوشل میڈیا پر اس کا تذکرہ مل جاتا مگر اس معرکے کا نتیجہ چونکہ نہایت ہی تباہ کن اور شرمناک شکست سے عبارت ہے اس لیے مغرب میں اس کا تذکرہ نہیں کیا جاتا۔ ویسے سپین کی جنگی تاریخ میں اس جنگ کے نتیجے میں Disaster of Annual کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ اس جنگ کے دور رس نتائج کے طور پر سپین میں دوسری ہسپانوی جمہوریت یعنی Second Spanish republic کا اعادہ ہوا۔ سپین کے شاہ الفانسو ہشتم کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور جنرل فرانسسکو فرانکو نے عنان اقتدار سنبھال لی۔
22 جولائی 1921 کو مراکش کے ساحلی علاقے سے متصل ریف کی پہاڑیوں میں ایک چھوٹے سے گاؤں انوال کے قریب لڑی جانے والی یہ جنگ اپنی نوعیت کی بڑی عجیب لڑائی تھی۔ ایک طرف سپین کی تربیت یافتہ فوج تھی اور دوسری طرف ایک سابقہ قاضی کی قیادت میں قبائلی جنگجوؤں کا لشکر، جس کے پاس نہ پورے ہتھیار تھے اور نہ جدید جنگی ساز و سامان اور پھر انکی باہمی تعداد کی نسبت میں اتنا بڑا فرق تھاکہ بندہ جنگ کے نتیجے پر حیران رہ جاتا ہے‘ لیکن پہلے جنگ کے کمانڈر محمد بن عبدالکریم الخطابی کے بارے آپ کو کچھ بتاتا چلوں تو دیگر معاملات کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے گی۔
محمد بن عبدالکریم الخطابی 1882/83 میں مراکش کے شہر اجدیر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی روایتی تعلیم کے بعد فیض میں العطارین اور سفارین مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کی اور دنیا کی قدیم ترین یونیورسٹی القیروان میں داخل ہو گئے۔ یہاں ہسپتانوی زبان میں تعلیم حاصل کی اور فراغت کے بعد میلیلہ میں بطور ٹیچر اور مترجم عملی زندگی کا آغاز کیا۔ اس دوران انہوں نے ہسپانوی اخبار ”ٹیلیگراما ڈی ریف‘‘ میں لکھنا شروع کر دیا اور سپین کے ”نے ٹیو افیئرز آفس‘‘ میں بطور مترجم ملازم ہو گئے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک چلتا رہا مگر پھر ایسا ہوا کہ پہلی جنگ عظیم شروع ہو گئی۔ میلیلہ میں متعین جرمن کونسل سے عبدالکریم کے ملنے جلنے پر فرانسیسی حکومت نے سپین سے شکایت کی اور مراکش میں قابض ہسپانوی انتظامیہ نے فرانس کی خوشنودی کی خاطر عبدالکریم کو گرفتار کر لیا۔ دوران حراست عبدالکریم پر تشدد بھی کیا گیا۔ دو سال کی قید کے بعد وہ فرار ہو گئے اور 1919 میں رہنے آبائی قصبے اجدیر آ گئے۔ اسی اثنا میں سپین کی فوج کے دستے ریف کے علاقے میں مزید غیرمقبوضہ علاقہ پر اپنا تسلط قائم کرنے کی غرض سے آ گئے۔ یہ وقت تھا جب عبدالکریم نے ہسپانوی فوج کی مزید پیش قدمی کے خلاف مزاحمت کا مصمم ارادہ کیا، ریف اور میلیلہ کے علاقے کے قبائل کو اکٹھا کیا اور ہسپانوی فوج کی پیشقدمی روکنے کے لیے گوریلا جنگ شروع کر دی۔ یہ گوریلا جنگ میں ایک نئے عہد کا آغاز تھا۔ گوریلا جنگ کی تاریخ میں پہلی بار سرنگوں کی جدید حربی تکنیک استعمال کی گئی۔ گوریلا جنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی تکنیک بعد ازاں چی گویرا، ماؤزے تنگ اور ہوچی منہ نے استعمال کی۔ عبدالکریم الخطابی گوریلا جنگ میں اس تکنیک کے موجد تھے۔
جب ہسپانوی فوج نے ریف میں مزید پیش قدمی شروع کی تو عبدالکریم الخطابی نے ہسپانوی فوج کے جنرل مینول فرنینڈس سلوسٹری کو خط لکھا کہ اس کے فوجی دستے دریائے امیقران کو عبور نہ کریں بصورت دیگر اسے اعلان جنگ سمجھا جائے گا۔ طاقت اور اقتدار کے نشے میں ڈوبا ہوا تند خُوجنرل سلوسٹری بھڑک گیا۔ جنرل سلوسٹری تب سپین کے بادشاہ کارلوس ہشتم کا بڑا منہ چڑھا جرنیل تھا اور اسی وجہ سے خود سر تھا۔
عبدالکریم کی دریا پار کرنے پر جنگ کی دھمکی کا نہ صرف یہ کہ جنرل سلوسٹری نے مذاق اڑاتے ہوئے قہقہہ لگایا بلکہ فوری طور پر ساٹھ ہزار کے لشکر کو ریف کے علاقے کی طرف مارچ کرنے کا حکم دیا اور وہاں فوجی مستقر بنانے شروع کر دیئے۔ اس عمل پر عبدالکریم کے جنگجو ریف قبائل نے ان پر حملے شروع کر دیئے۔ ان گوریلا حملوں میں ہسپانوی فوج کا بہت سا جانی نقصان ہوا لیکن اصل معرکہ ابھی آگے در پیش تھا۔ عبدالکریم الخطابی نے اپنا لشکر اکٹھا کیا اور میڈیلا شہر کے جنوب مغرب میں اسی میل کے فاصلے پر واقع ایک چھوٹے سے قصبے انوال میں جمع ہسپتانوی فوجی معسکر پر حملے کیلئے چل پڑا۔ ہسپانوی فوج نے صبح دس بجے کے قریب چھاؤنی سے نکل کر دفاعی حکمت بناتے ہوئے میدان جنگ ترتیب دیا۔ عبدالکریم کے ساتھ تقریباً تین ہزار قبائلیوں پر مشتمل لشکر تھا جو پرانی بندوقوں، بھالوں اور تلواروں سے مسلح تھا۔ دوسری طرف بیس سے تئیس ہزار پر مشتمل جدید اسلحہ سے لیس فوج تھی۔ یہ اعداد و شمار کسی جذباتی قسم کے مسلمان مؤرخ کے نہیں بلکہ مستند ترین انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا میں درج ہیں۔
جنگ کے آغاز میں ہی ریف قبائل کے لشکر نے عبدالکریم کی قیادت میں ہسپانوی فوج کے چھکے چھڑا دیے۔ دن بھر کے خونریز معرکے کے بعد ہسپانوی فوج کو شکست فاش ہوئی۔ اس معرکے میں ریف قبائل کے آٹھ سو جنگجو شہید ہوئے جبکہ ہسپانوی فوج کے مرنے والوں کی تعداد تیرہ ہزار سے زائد تھی۔ خود سپین والے اسے ڈیزاسٹر آف انوال یعنی انوال میں تباہی و بربادی سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اس جنگ میں گیارہ ہزار رائفلیں، تین ہزار کاربائینز، ایک ہزار مسکٹ بندوقیں، ساٹھ مشین گنیں، دو ہزار گھوڑے، ڈیڑھ ہزار خچر، سو توپیں اور بے شمار گولہ بارود عبدالکریم کے ہاتھ لگا۔ جنرل سلوسٹری اس جنگ میں مارا گیا۔ یہ معرکہ ہسپانوی عسکری تاریخ کا سب سے بدترین اور سیاہ باب ہے تاہم مغربی مورخین اس شکست کے لیے گرم موسم کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ ہسپانوی انوال سے بھاگ کر میلیلہ پہنچے اور مزید کمک حاصل کرنے کے بعد ساٹھ ہزار فوجیوں پر مشتمل لشکر اکٹھا کیا گیا جسے تیس ہزار پر مشتمل ریف قبائل کے لشکر نے فیصلہ کن شکست سے دوچار کیا۔
18 ستمبر 1921 کو جمہوریہ ریف کے قیام کا اعلان ہوا۔ عبدالکریم الخطابی نے اس کے پہلے صدر کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ وہ ستائیس مئی 1926 تک جمہوریہ ریف کے صدر رہے۔ عالم کفر امت واحد ہے، لہٰذا فرانس نے سپین کے ساتھ مل کر ریف پر بمباری شروع کر دی جو مسلسل دس ماہ تک جاری رہی۔ اس دوران بے تحاشا کیمیائی اسلحہ استعمال کیا گیا۔ مغربی مورخین کے مطابق کوئی ایسا جنگی جرم نہ تھا جو روا نہ رکھا گیا ہو۔ اڑھائی لاکھ سے زائد سپین اور فرانس کی مشترکہ فوج نے زمینی حملہ کیا۔ عبدالکریم کو گرفتار کرکے بحرہند کے جزیرے ری یونین میں قید کر دیا گیا۔ وہاں وہ اکیس سال قید رہا۔ 1947ء میں اسے مصر منتقل کیا گیا جہاں اسے شاہ فاروق نے پناہ دے دی۔ 1956 میں مراکش آزاد ہو گیا۔ عوام کے مطالبے پر اسے مراکش کے بادشاہ محمد پنجم نے واپس مراکش بلایا مگر اس نے فرانسیسی اور ہسپانوی فوج کی موجودگی میں واپس جانے سے انکار کر دیا۔ مصر میں اس نے مغربی عرب کی آزادی کیلئے لبریشن کمیٹی بنائی۔ جولائی 1962 میں الجزائر بھی آزاد ہو گیا‘ عبدالکریم کا خواب پورا ہو گیا۔ چھ فروری 1963 کو اسی سالہ عبدالکریم اپنے مالک کے ہاں حاضر ہو گیا۔ مراکش میں لوگ اسے آج بھی اسدالریف (ریف کا شیر) کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ عبدالکریم الخطابی قاہرہ کے شہدا کے قبرستان میں محو استراحت ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker