کالمکشور ناہیدلکھاری

کشور ناہیدکا کالم۔۔کیا اسمگلر قومی ہیرو بن سکتا ہے؟

میری سمجھ میں یہ نہیں آرہا کہ میں پاکستان کے بہت بڑے خدمت گار، پاکستان کی معیشت کو سنوارنے والے، پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے سونے کے اسمگلر یا پھر دنیا بھر میں بدنام شخص پر کچھ لکھنے والی ہوں۔ پھر رک جائیں کہ یہ تو وہ شخص تھا جس کی وفات پر ہمارے وزیراعظم نے تعزیتی پیغام بھیجا۔ اس کی ملکی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس شخص نے شوکت خانم اسپتال کے لئے بھی مدد کی تھی۔ میں چاروں طرف نظر دوڑاتی ہوں۔ مجھے لاہور میں رہتے ہوئے لاہور کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ جو سونے اور دیگر اشیاء کے اسمگلر رہتے تھے، ان کے بارے میں علم تھا۔ مجھے بہت سے سیاست دانوں اور بلڈرز کے بارے میں بھی معلوم تھا کہ ان کو سیاسی سیڑھی کس طرح چڑھایا جاتا ہے۔ یہ بھی معلوم تھا کہ یہ لوگ عدالتوں سے بھی سودے بازی کرکے، اپنے بزنس چلاتے رہتے ہیں۔ اگر ذرا ڈر ہو تو ہمارے بہت سے دوستوں کو غیرممالک میں کوٹھی یا فلیٹ لیکر دیتے ہیں۔ ابھی چند روز ہوئے کھوکھروں میں کئی شرفا وفات پا گئے۔ چار سطری خبر لگی مگر ان صاحب کو بین الاقوامی شہرت حاصل تھی اور بھی کئی لوگ ہیں جو اسمگلنگ کا کام دوسروں کے سپرد کرکے، پراپرٹی بلڈرز بن جاتے ہیں۔ ریٹائرڈ افسران کو اپنا ملازم رکھ کر، دفتروں سے فائلیں نکلواتے اور غریبوں سے اونے پونے داموں زمینیں خرید کر نیا شہر بنانے کے دعویدار ہوتے ہیں اور سچ یہ بھی ہے کہ اب تو ملک بھر میں بلڈرز اور سونے کے بیوپاری اتنے ہیں کہ دکانیں گنتی میں نہیں آتیں۔
ذکر شروع ہوا تھا گولڈ کنگ کی وفات پر تعزیتی پیغامات سے اور بات پہنچی ان کی بچپنے کی تاریخوں تک جب اس نے پاکستان اور انڈیا میں اسمگلنگ کے ریکارڈ قائم کئے اور بقول کسے اس شخص نے تو انڈیا کو بھی اسمگلنگ میں پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ آپ آئے دن خبریں پڑھتے ہیں کہ 2من ہیروئن، چار من آئس، ایک ہزار بوتل اسمگلڈ شراب اور سونے کی لاکھوں اینٹیں برآمد ہوئیں۔ یہ بھی چھوٹی سی خبر ہوتی ہے پھر بعد میں جس طرح ساہیوال کیس یا موٹر وے پر خاتون کے ساتھ زیادتی کا کیس یا پھر کراچی میں کئی لڑکیوں کی خودکشی کے پیچھے کن جوانوں کی دلیریاں تھیں، یہ راز فاش ہی نہیں ہوتے۔ کمال یہ بھی کہ جن پولیس اہلکاروں نے 22گولیاں مار کر نوجوان کو ٹھنڈا کیا تھا۔ ان کو بس نوکری سے نکال دیا گیا ہے۔
آپ پڑھتے ہوئے سوچ رہے ہوں گے کہ کچھ دن پہلے ملک بھر میں بلیک آؤٹ ہوا تھا، مچھ کے شہیدوں کا المیہ زمین میں دفن کیا گیا تھا۔ میں یہ اسمگلر کا قصہ کیوں لے بیٹھی ہوں۔ میری آنکھوں میں تو خون اترا ہوا ہے کہ ٹرمپ کے کارندوں نے جس طرح امریکا کو رسوا کیا، میں وہ چھوڑ کر، ایک نیا موضوع کیوں لے بیٹھی ہوں۔ دراصل، پرانے زمانے سےاسمگلنگ کو یوں کہنے کو قومی تجارت کا درجہ نہیں حاصل تھا مگر حقیقت یہی ہے کہ اندر خانے آپ کی معیشت کو کھوکھلا کرنے کے لئے، تیل سے لے کر سونے کی اسمگلنگ تک دنیا میں پھیلے کاروبار میں بڑا حصہ ایسے ہی کاروبار کا ہوتا ہے۔ اب میں ذاتی شواہد بتاتی چلوں۔ میں نیپال سے واپس آرہی تھی، میرے ساتھ ایک نوجوان پاکستانی بیٹھا تھا۔ پوچھا ’’کیا کرتے ہو؟‘‘ فوراً بولا ’’اسمگلنگ‘‘ ’’وہ کیسے؟‘‘ اس نے کہا ’’آپ کیا کرتی ہیں‘‘، میں نے کہا ’’میں تو کانفرنس میں آئی تھی‘‘ وہ کہنے لگا ’’آپ سے ملاقات پہلے ہوتی تو کچھ سامان آپ کو دے دیتا‘‘ میں نے کہا ’’بس 20؍کلو سے زیادہ تو آپ لے جا بھی نہیں سکتے‘‘ اس نے ہنس کر کہا ’’یہ پابندی آپ جیسے لوگ کرتے ہیں، ہم تو مل بانٹ کر کھاتے ہیں‘‘ ۔ میں نے اس سے کہا ’’تم کتنا سامان لاتے لے جاتے ہو‘‘، اس نے کہا ’’اماں ہم تو منوں میں کام کرتے ہیں‘‘۔ حصہ کسی کو دیدو، کام چلتا رہتا ہے۔ پھر مجھے کراچی پورٹ پر اترنے والے ٹرالر یاد آئے، پھر ڈھاکہ ایئرپورٹ پر پان کے اسمگلر یاد آئے، چھالیہ کے اسمگلر اور گٹکا اسمگلر یاد آئے۔ ان میں سے ایک بھی تو کتابوں کا اسمگلر نہیں نکلا۔ نہ حکومت پاکستان کے پاس پیسہ ہے اور نہ لوگوں کے پاس۔ یہ ایک دم بھیڑ چال فلاں شہر بنانے اور فلاں دبئی بنانے کے لئے کن کے پاس کروڑوں ہیں کہ ان کے آگے لوگ سفارشیں لے کر جارہے ہیں کہ مجھے پلاٹ دلوا دیں، مجھے گھر دلوا دیں۔ دور کیوں جائیں۔ ابھی پچھلے دنوں سی ڈی اے نے کمرشل پلاٹوں کی نیلامی رکھی۔ افسران سب پریشان تھے کہ بولی دینے والے جیبوں میں نوٹوں کی گڈیاں لئے پھر رہے تھے۔ اگر پاکستان میں اتنے بڑے سرمایہ دار ہیں تو دوسرے ملکوں سے قرضے لینے کی کیا ضرورت ہے اور پھر ہماری دوست کو احساس پروگرام کے تحت ہر گھر میں دو بندوں کا کھانا فراہم کرنے کی سوچ کیوں آئی؟ ہمارے اوسط گھروں میں کم از کم دس بندے ہوتے ہیں تو آپ دو بندوں کا کھانا دیکر چھیڑ پڑوائیں گے۔ سچ مچ کام کرنا ہے تو ہماری پچاس 45فیصد، نوجوانوں کی آبادی کو، فنی صنعتی تعلیم دیں اور ان کو فیکٹریوں میں لگائیں، ان میں نوجوان لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ورنہ اسمگلنگ بلکہ انسانی اسمگلنگ میں کم نام کمایا ہےکہ اور کوئی راستہ بچا ہے کہ سرخرو ہوں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker