گزشتہ سے پیوستہ
بنیادی طور پر خان صاحب Reflexesکے آدمی تھے۔ روہیلہ پٹھان تھے اور پٹھان کی کھوپڑی گھومنے والے محاورے سے نہ صرف آشنا تھے بلکہ اس کی مجسم تصویر بھی تھے۔ دل چاہے تو بڑی سے بڑی بات کو بھی نظر انداز کر جاتے اور جہاں اڑ جائیں وہاں سے ان کو سرکانا قریب قریب ناممکن تھا۔ ادبی حلقوں میں ان کی معرکہ آرائی کے قصے زبان زد عام تھے اور بعض اوقات تو بے رحمی کی حد تک کٹھور ہو جایا کرتے تھے۔ان کی مشق ستم کے شکار لوگوں میں ابن فرید، آل احمد سرور، نثار احمد فاروقی، عرش صدیقی، مشفق خواجہ اور بالخصوص ڈاکٹر معین الرحمن نمایاں رہے۔ اتفاق سے ان تمام احباب سے ان کے دیرینہ مراسم رہے مگر جب برگشتہ ہوئے تو ایسے کہ پلٹ کر نہ دیکھا۔ مشفق خواجہ تو خیر ترکی بہ ترکی جواب دینے کے ماہر تھے مگر ڈاکٹر معین الرحمن کو انھوں نے کبھی معاف نہیں کیا۔ ممکن ہے دونوں میں غالب سے عشق اوررشید احمد صدیقی سے عقیدت کا مشترکہ حوالہ کسی رقابت کا باعث بنا ہو، تاہم جو بھی وجہ ہو انھوں نے معین صاحب کو کبھی معاف نہیں کیا۔ خاص طور پر ”دیوانِ غالب“ نسخہ خواجہ والے معاملے کو لے کر خان صاحب نے انہیں خوب زچ کیا اور دوسرے لوگوں سے کروایا بھی۔ بہت سے لوگوں نے خان صاحب کو اس معاملے کو درگزر کرنے کی سفارش کی مگر عبث۔ یہاں افسوس ہوتا ہے کہ خان صاحب کا اٹھایا ہوا معاملہ جب تحسین فراقی، عارف ثاقب اور صدیق جاوید تک پہنچا تو انھوں نے اس معاملے کو اتنا ”سنجیدہ“ لے لیاکہ وہ بالآخر معین صاحب کی موت پر منتج ہوا۔
خان صاحب کو تھوڑا بہت بھی جاننے والوں کو علم ہے کہ خان صاحب نہایت خوش خط انداز سے خط لکھتے تھے۔ عموماً صاف کاغذ اور کٹی ہوئی نب کے ساتھ سیاہ روشنائی سے لکھتے اور لکھائی میں غالب کی پیروی کرتے تھے۔ ان کے ہاں ہر روز ڈاک میں چار یا پانچ خط آتے تھے جن کا اسی دن جواب لکھا جاتا تھا۔ میں جتنا عرصہ ان کے قریب رہا میں نے کبھی خط کا جواب دیر سے دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔لکھتے ہوئے لفظ نہیں کاٹتے تھے اور ایک ہی نشست میں لکھتے تھے۔ ایک مرتبہ مجھے کہنے لگے۔”میاں آپ ہمیں خط نہیں لکھتے اور نہ ہی جواب دیتے ہیں۔“ میں نے عرض کی کہ چلیں آئندہ سے ہم ایک دوسرے کو خط بھی لکھیں گے اور جواب بھی۔ اس سے اگلے ہی دن ان کا خط مجھے موصول ہوا۔ اب مکتوب نگاری کا ایک سلسلہ چل نکلا۔ اکثر خط تو دستی دیئے جاتے تھے۔ کوئی مہینہ دو مہینہ یہ سلسلہ چلا بعد ازاں اپنی سست روی کے سبب مجھے یہ سلسلہ بند کرنا پڑا۔وہ خط اب بھی نظر سے گزرتے ہیں تو بہت سی بھولی بسری کہانیاں یاد آنے لگتی ہیں۔ شعر وادب، فکشن، رسائل کی صورت حال اور جدید افکار پر ان خطوط میں بہت سے مباحث شامل تھے۔
بعض اوقات وہ میرے رویوں سے دل برداشتہ ہو کر ناراض ہو جاتے تھے۔ ناراضی کا سلسلہ اگرچہ بہت طویل نہ ہوتا تھا پھر بھی بعض دفعہ ہفتہ دس دن لگ جاتے تھے۔ ناراضی ان کی طرف سے ہو یا میری طرف سے دو نوں صورتوں میں ایک ایک عمل انجام دیا جاتا۔ میں صبح سویرے اچار کے ساتھ خستہ پراٹھا اور چائے انھیں پیش کرتا جواباً وہ دو تین کتابوں کا تحفہ دیتے اور یہ صلح اگلی ناراضی تک اسی طرح جاری رہتی۔ جن دنوں خان صاحب غالب کے فارسی خطوط اور غالب کی تصنیف ”مہر نیم روز“ کا اردو ترجمہ کر رہے تھے انھی دنوں نشستوں کے اوقات میں غیر معمولی اضافہ ہو جاتا تھا۔ میں کالج سے فارغ ہو کر سیدھا ان کے گھر پہنچتا اور دوپہر کا کھانا کھا کر پروف کا کام شروع ہو جاتا۔ ان دونوں کتابوں کی پروف ریڈنگ بہت تکلیف دہ تھی۔ اس کام کو مکمل کروانے میں انھیں وہ شاندار سگار بھی دان کرنا پڑے جو انھیں امریکہ سے کسی دوست نے بطور تحفہ بھیجے تھے۔ ان تراجم کا قصہ بھی بہت طویل ہے جسے کسی اور موقع پر اٹھا رکھتے ہیں۔
بلاشبہ خان صاحب کے دوستوں کا ایک بہت وسیع حلقہ بھارت اور پاکستان میں موجود تھا۔اردو دنیا کا شاید ہی کوئی بڑا شاعر و ادیب ہو جس سے ان کی ملاقات اور خط کتابت نہ ہو۔بھارت اور ہندوستان سے جب بھی کوئی مہمان ملتان آتا وہ خان صاحب کے آستانے پر ضرور حاضری دیتا اور خان صاحب ہی کے توسط سے مجھے بھی ان کی نیاز مندی کا شرف حاصل ہو جاتا۔ علامہ طالب جوہری سے بھی ملاقات کا شرف انھی کے گھر ہوا۔ اس کے علاوہ شمیم حنفی، محمد علی صدیقی اور دیگر مشاہیر کو دیکھنے اور بات کرنے کا موقع ملا۔
فروری 2007ء کو مجھے روزگار کے سلسلے میں سرگودھا جانا پڑا اور یہیں سے ملاقاتوں کاسلسلہ تعطل کا شکار ہوا۔ خان صاحب ہفتہ میں ایک پوسٹ کارڈ ضرور لکھتے جو میں اور میرے دوست مل کر پڑھتے تھے۔میں جب ہفتہ دس دن کے بعدجب ملتان آتا، ان کے ہاں حاضری ضرور ہوتی۔ ہر ملاقات میں مجھے یہ احساس شدت سے ہوتا کہ خان صاحب پہلے سے زیادہ کمزور ہو چکے ہیں۔ رفتہ رفتہ انھیں اٹھنے بیٹھے میں تکلیف ہونے لگی۔ اگرچہ آواز اور لہجے کی کھنک بدستور قائم تھی تاہم قویٰ مضمحل ہوتے جا رہے تھے۔ لکھنے پڑھنے کے کام میں بھی مشکل پیش آتی تھی۔ ان دنوں میں ڈاکٹر ابرارعبدالسلام،خان صاحب کے نہایت قریب تھے، اکثر اوقات ان سے بھی خان صاحب کی خیریت دریافت ہو جاتی تھی۔ڈھلتا سورج جب غروب ہونے کے قریب ہوتا ہے تو اس کی تمازت لطافت میں بدلنے لگتی ہے اور وہ پورے کا پوراآنکھ کی پتلی میں سمانے لگتا ہے۔ خان صاحب بھی ان دنوں سچ میں لطیف ہو گئے تھے۔ ان سے چند آخری ملاقاتیں شاکر حسین شاکر اور ابرار عبدالسلام کے ہمراہ ہوئیں اور ہر ملاقات مجھے رنجیدہ تر کرتی رہی۔ انھوں نے رفتہ رفتہ خود کو سمیٹنا شروع کر دیا تھا۔ ذخیرہ غالبیات اور دیگر کتب زکریا یونیورسٹی جانے کے لیے تیار تھیں اور خان صاحب اس سے بھی کہیں آگے کی تیاری کیے بیٹھے تھے۔
خان صاحب زندگی کے بہت سے معاملات میں صاف ذہن رکھنے والے انسان تھے۔ نہایت مشکل حالات میں زندگی کا مقابلہ کرنے والے انسان کی طرح انھوں نے پر عزم زندگی بسر کی۔ بطور استاد نہایت ایمان داری سے اپنا فرض نبھایا۔ مذہبی معاملات میں بھی سیدھے سادے مسلمان تھے جو اللہ سے تومحبت کرتا ہے مگر مسلمان سے خوفزدہ رہتا ہے۔ خان صاحب کھری اور کھُری بات کرنے والے ایک جمہوریت پسند اور صاف گو انسان تھے۔ ایوب خان ہو یا ضیا الحق یا کوئی اور طالع آزما خان صاحب ہمیشہ ان کرداروں کی نفی کریں گے۔ایوب خان کو“عیوب خان“ کہتے تھے اور ضیا الحق کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ اُس کا نام لینے سے اس ملک پر چالیس دن کا رزق بند ہو جاتا ہے۔ غرض وہ جو اندر سے تھے وہی باہر سے بھی تھے۔خان صاحب سے ملنے والا ہر شخص ان کے مزاج میں پائے جانے والے تلون سے بخوبی آگاہ تھا۔ ان کے واقفانِ حال ان کے جلال و جمال کی انتہاؤں کو سمجھتے تھے تاہم نو واردوں کے لیے اُن کی گفتگو بے حال اور کسی حدتک بد حال کر دینے کے لیے کافی تھی۔ یوں لوگ اُن کے قائل کم اور گھائل زیادہ ہوتے تھے۔ خان صاحب اگرچہ لطیفہ ساز تھے مگر وقت کے ساتھ ساتھ اُن کے یہاں حالات و اقعات کے بیان میں اعادہ بہت آ گیا تھا۔ وہ کسی ایک واقعہ کو یا اپنی زندگی کے کسی ایک خاص باب کو بیان کرتے اور وقت کے ساتھ ساتھ اُسے دوہراتے رہتے یہاں تک کہ سننے والے کو اِن کی تمام باتیں اور جملے از بر ہو جاتے تھے۔
ملتان میں واقع گلگشت کالونی ایک زمانے میں متوسط طبقے کے لیے ڈیزائین کی گئی ہاؤسنگ سکیم تھی جو اپنی دلکشی اور پر سکون ماحول کے سبب ہر آنے والے کا خواب ہوتی تھی۔ چونگی نمبر نو سے شمال کی طرف جاتے ہوئے پرانی تحصیل سے گزرکر سڑک جیسے ہی بل کھا کر سیدھی ہوتی ہے اے بلاک کا پوش علاقہ شروع ہو جاتا ہے وہاں سے یہ سڑک سیدھی گلگشت ڈاک خانہ سے گزرتی ہوئی مقبوضہ جسٹس کالونی سے بائیں بل کھا کر پھر سے سیدھی ہو جاتی ہے۔جہاں آج مقبوضہ جسٹس کالونی ہے وہاں ایک زمانے میں بہت بڑا کھیل کا میدان ہوا کرتا تھا جہاں کالونی کے لڑکے بالے کرکٹ، فٹ بال وغیرہ کھیلا کرتے تھے آج وہاں کنکریٹ کے انصافی مکان استادہ ہیں۔ یوں لگتا ہے کہ یہ علاقہ بلی ماراں ہو اور جسٹس کالونی سے بل کھا کر سیدھے نکلتی ہوئی سڑک گلی قاسم جان ہو۔ اسی سڑ ک پر خراماں خراماں چلتے جائیں تو پانچ منٹ کی مسافت پر نیم کے دو بڑے پیڑ یک جان مگر دو نیم ہوتے دکھائی دیں گے۔ نیم کے بالکل ساتھ گھر کے تین دروازے استادہ نظر آئیں گے۔ لوہے کا گیٹ ایک مختصرسی راہداری میں کھلتا ہے جو چار پانچ قدم پر صحن میں شامل ہو جاتا ہے۔ صحن میں پھولوں اور پودے سے لدے پھدے گملے، صحن میں چارلوہے کی کرسیاں، ایک ملحقہ برامدہ جس میں ایک میز جس پر کتابیں، کاغذ اور قسم قسم کے قلم دھرے ہیں۔ باہر کی طرف سے دوسرا دروازہ ڈرائنگ روم میں کھلتا ہے جس میں صوفہ،میزاور ایک آدھ کرسی رکھی ہے جبکہ تیسرا درواز بیڈ روم میں کھلتا ہے۔ صحن ہی میں بائیں ہاتھ کچن اور سامنے کی دیوار کے ساتھ سیڑھیاں جو سیدھی خان صاحب کے کتب خانے تک جاتی ہیں۔ کتب خانے میں چاروں طرف لکڑی کے سادہ تختے اور ان میں ایک خاص ترتیب سے رکھیں کتابیں۔ یہ ساری کتابیں موٹے خاکی کاغذ کے ڈسٹ پیپر میں لپٹی ہوئیں، کتاب کے پشتے پر کالی روشنائی سے لکھا کتاب اور مصنف کا نام جو خان صاحب نے خود لکھا ہوتا تھا۔ کتب خانے میں ایک طرف چھوٹا میز جو کاغذات، تصاویر اور مٹی سے اٹا پڑا تھا جبکہ درمیان میں رکھے دوسرے میزپر کاغذ، قلم،روشنائی اور کتابیں ترتیب وار رکھی گئی تھی۔ اسی کتب خانے میں ایک عہد طلوع ہوا اور اسی میں وہ غروب بھی ہوا تھا۔
نیم خمیدہ کمر، سر پر جھالر کی صورت سفید بالوں،چوڑے ماتھے، نسبتاً موٹے ناک، متناسب ہونٹوں، کتابی چہرے، کھلتی رنگت اورسفید کرتا پاجاماپہنے ایک عکس تھا کہ جو چلتا پھرتا، بولتا چالتا اور قہقہے لگاتا نظر آتا تھا مگرآج26/ دسمبر 2013ء کو ملتان کینٹ کے پوش اور پر سکون علاقے میں واقع گھر کے خاموش کمرے میں اُن کی میّت گزرے دنوں کا خلاصہ بیان کر رہی تھی۔ کیا واقعی اِس شخصیت کے ساتھ میں نے زندگی کے تیس برس عقیدت، احترام، محبت، دوستی اور عداوت ایسی ہمہ رنگی میں گزارے تھے؟ نہ آنکھوں پر یقین آتا ہے اور نہ ہی دل مانتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

