ملتان
5 جون 1992 ء
خاتونِ محترم تسلیم
میں 22 اپریل کو بخیریت تمام یہاں پہنچا۔ والدہ صاحبہ کی خدمت میں حاضری ضروری تھی۔ کراچی گیا۔ 9 مئی کو مشفق خواجہ صاحب کو آپ کا د یا ہوا ناو ل The Nautch Girl دے دیا۔ ان سے میں نے درخواست کی تھی کہ وہ آپ کو رسید سے مطلع فرمائیں ۔امید ہے انہوں نے ایسا کیا ہوگا۔ اس ناول کے پہلے صفحہ پر آپ نے میرا نام لکھادستخط کیے اور تاریخ18 اپریل 1992 لکھ دی دوسرے صفحہ پر مشفق خواجہ صاحب کا نام لکھ دیا۔ یہ بات مجھے اس وقت معلوم ہوئی جب میں نے خواجہ صاحب کو کتاب دی۔
میں نے آپ کا مضمون Landscape of Fear جو چار اپریل ۱۹۹۲ء کو دی سنڈے ٹائمنر آف انڈیا میں شائع ہوا تھا نہایت غور سے پڑھا۔ آپ نے انکار کیا ہے کہ آپ کی خاموشی کا سبب شرافت نہ تھی بلکہ اس کے اسباب کچھ اور تھے۔ میرا خیال تو یہی ہے کہ شریف انسان نا معقول باتوں کواپنی شرافت ہی کی بنا پر اہمیت نہیں دیتا۔ میر نے جب یہ کہا کیا تھا کہ۔
میر صاحب زمانہ نازک
دونوں ہاتھوں سے تھامیے دستار
ایک شریف انسان اپنی عزت بچانے کے لئے اور کیا کہتا کیا کرتا۔ یہ سو سال پرانی بات ہے۔ آج اس شعر کے معنی بدل گئے ہیں۔ اب لوگوں کے سروں پر دستار ہی نہیں تو تھا میں کیا ۔ اب زمانہ نازک نہیں بلکہ in different ہو گیا ہے۔ کوئی کسی کی پرواہ نہیں کرتا۔ وہ لوگ نا قابل ِ اعتبار ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ آپ ملنے والوں کو گھر سے نکال دیتی ہیں۔ یہ بھی غلط ہے کہ غیر ملک سے آنے والوں سے آپ نہیں ملتیں اور اس سے زیادہ غلط بات کا تصور میرے ذہن میں نہیں آتا کہ آپ کسی کو کھانے پر مدعو کر یں اور اپارٹمنٹ کو تالا لگا کر کہیں چلی جائیں ایسی بہتان تراشی کرنے والے غیر مہذب ہیں۔ آپ نے جن مشہور لوگوں کو اپنا دوست جانا انہوں نے بھی ایسی ہی باتیں کی ہیں تو وہ آپ کے دوست کب ہوئے؟ آپ کی بات درست ہے کہ زمانہ ایسا آگیا ہے کہ کسی شریف انسان کو گھر سے گھسیٹ کر نکال دیا جائے یا گھر میں مقید کر دیا جائے اور بدترین سلوک کیا جائے لیکن یہ تو ساری دنیا میں ہو رہا ہے۔ ایک جاہل تو یہ کہہ سکتا ہے کہ آپ کیا ہیں محض ایک مصنفہ لیکن حقیقت اس کےبر عکس ہے ۔ تعلیم یافتہ اور مہذ ب انسان ہمیشہ تعداد میں کم رہے ہیں ۔ان لوگوں کے دلوں میں جھانک کر دیکھئے جو کہتے ہیں کہ ادب ہی سے انسان ، انسان ہے۔ فیض صاحب واقعی یادہ گوئی کا جواب نہیں دیتے تھے ۔ مذہبی جنونیوں کا جواب کون دے وہ تو پھر فیض صاحب تھے ۔ آپ نے جب پہلی کہانی لکھی ہوگی کس نے یقین کیا ہوگا۔ عصمت آپا نے جب اپنے نام سے افسانہ شائع کرایا تو لوگوں کو کب یقین تھا۔ اب تو زمانہ بہت آگے آ گیا ہے۔ جن بلندیوں کو آپ نے چھولیا وہ کچھ لوگوں کے لئے باعث رشک اور زیادہ تر کے لیے باعث حسد ہے اور حاسد کے لئے کہا گیا ہے:۔
حاسد کو ایک دم نہیں راحت جہان میں
رنج حسد ہے جان ہے جب تک کہ جان میں
ایسے ہی حاسد پتھر پھینکتے ہیں۔ میں جانتا ہوں آپ نے کبھی کسی پر پتھرنہیں پھینکا۔ کسی کے بارے میں لغویات نہیں لکھیں ۔اگر آپ بھی وہی سلوک روارکھتیں تو ان حاسدوں میں اور آپ میں فرق کیا رہ جاتا ۔ مہذب اور غیر مہذب انسان میں یہی تو فرق ہے۔میں جانتا ہوں یہاں کئی ادارے آپ کی کتابیں بغیر آپ کی اجازت کے شائع کر دیتے ہیں کسی رسالے نے آپ کے ناول کو اقساط میں شائع کر دیا۔ یہ غلط بات ضرور ہے اور اسے ہر گز نہیں سراہا جاسکتا، ہاں قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے بشرطیکہ قانون کا التزام کہیں رہ گیا ہو ۔
” قرۃالعین حیدر – ایک مطالعہ“ کے مرتب ڈاکٹر ارتضی کریم اور ڈاکٹر قمر رئیس کےشاگرد اس کتاب کی تقریب پذیرائی شعبہ اردو دہلی یونیورسٹی میں میرے ہاتھوں ہوئی اگر مجھےعلم ہوتا کہ آپ مرتب سے ناراض ہیں تو میں گریز کرتا۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ پروفیسر قمر رئیس صاحب کے اعتراضات کا جواب میں نے بر ملا دیا۔ میں نے یہاں آ کر پروین شاکر کی نظم دوبارہ پڑھی ۔ حقیقتااس نظم کو کتاب میں شامل نہیں ہونا چا ہیے تھا۔ میں اس پر گفتگو نہیں کرنا چاہتا لیکن دوبارہ لکھتا ہوں کہ ارتضی کریم صاحب اگر مزاج کو پہچانتے تو اس نظم کو ہرگز شامل نہ کرتے آپ نے حضرت علی کا قول دہرا یا پھر شکایت کیسی اور کیوں ؟
پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسد
ڈرتا ہوں آئینہ سے کہ مردم گزیدہ ہوں
اس شعر میں لفظ ” آئینہ“ غور طلب ہے اور یہ بھی ذہن میں رہے کہ غالب نے آئینہ کو نہ جانے کتنے معنوں میں استعمال کیا ہے۔ آپ ناول لکھنے پر کتنا وقت صرف کرتی ہیں ، کتنا تحقیقی کام کرتی ہیں اس کے بارے میں تو آپ نے خود تحریر کیا لیکن میں تو آپ کا اسٹڈی روم دیکھ آیا ہوں کتنے رسائل و اخبارات کتنی کتا ہیں اور کس کس مضمون پر کتا ہیں ۔ ایسے ناول کو پڑھنا اور سمجھنا کیا آسان کام ہے؟ آپ کی قوت متخیلہ نے ہزار ہا انسانوں کی زندگی کو دیکھنے اور قاری کو دکھانے کا حوصلہ و ہمت دی۔ اسی قوت کا کرشمہ ہے کہ آپ نے زمان و مکان کی حدوں توڑ دیا۔اگر ایسا نہ ہوتا تو ”آگ کا دریا“ نہیں لکھا جاسکتا تھا۔ صرف اسی ناول میں نہیں بلکہ دوسرے ناولوں میں بھی گہرائی اور پہنائی نظر آتی ہے ۔ یہ گہرائی اور پہنائی بڑی معنی خیر اسلئے ہے کہ آپ نے مشاہدہ ، مطالعہ اور تجربہ سے تمام وسعتوں کو سمیٹ لیا ہے۔ساری پریشانی اس وقت ہوتی ہے جب ناقد اپنے نقطہ نظر سے آپ کی تحریریں پڑھتا ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہےکہ ناول نگار کا نقطہ نظر سامنے رکھے۔ ناقد یہ خیال نہیں رکھتا کہ الفاظ کے وہ بھی نہیں ہیں جو لغت میں اور اس کے ذہن میں ہیں ۔ ہر بڑافن کا رالفاظ کے استعمال کے معنی کاتعین کرتا ہے۔ ناقد یا قاری صرف اس صورت میں اس ناول سے لطف اندوز ہوسکتا ہے جب وہ ڈھائی ہزار سال کی تاریخ جانتا ہو وہ بدھ مذہب کی تعلیمات سے واقف ہو اور کہنا یہ چاہتا ہوں کہ تربیت یافتہ ذہن نہ ہوگا تو وہ ناول کو سمجھ ہی نہ پائے گا۔” آگ کا دریا “ابتدائی دوڈ ھائی سو صفحات میں جوڈ کشن آپ نے استعمال کیا ہے وہ بھی کتنے لوگوں کی سمجھ میں آتا ہے۔ جب ناقد یا قاری تہذیبی ورثہ سے نا واقف ہوگا تو انصاف نہیں کر سکے گا۔ میرا تو یہاں تک خیال ہے کہ صرف اردو جاننا کافی نہیں اس ناول کو سمجھنے کے لئے اور زبانوں کا علم بھی ضروری ہے ۔ وہ ذہن جسے ہم تعلیم یافتہ ذہن کہہ سکیں جو غیر شعوری طور پر تاریخ موسیقی مصوری اور فن تعمیر سے واقف ہو۔ ناقد آپ سے یہ بے جا مطالبہ کرتا ہے کہ آپ زندگی کو اس کے نقطہ نظر سے پیش کر یں
حالانکہ ضرور ت اس امر کی ہے کہ ناقد جب تک اسی طر ز احساس کو نہیں اپنائے گا جو آپ کا ہے اس وقت تک لطف اندوز نہیں ہو سکے گا ۔
سب سے زیادہ آگ کا دریا کے بارے میں لکھا گیا ہے لیکن کیا واقعی کوئی ایسا مضمون لکھا جاسکا ہے جو اس تجزیاتی مطالعے کا حامل ہو جو اور تحریروں سےبے نیاز کر دے میرا جواب نفی میں ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ ” کردش رنگ چمن “ پر بہت کم مضامین لکھے گئے اور ”چاندنی بیگم“ کو تو ابھی تک سمجھا ہی نہیں گیا۔
گردش ِ رنگ چمن کو جو ناقد ین فن صرف کرافٹ مین شپ تک محدود کر تے ہیں ۔ ادب سے واقف ہیں نہ آرٹ سے اور نہ ان دونوں کی جمالیات سے ۔ جب کوئی صاحب یہ کہتے ہیں کہ اس ناول میں اسٹائل بہت خوبصورت ہے یا زبان بہت اچھی لکھی کی گئی ہے تو وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ نہ موضوع ہے اور نہایت اور نہ ہیئت اور یہ بے حد ناقص بات ہے ۔ مواد اور ہیئت کو الگ الگ کر کے دیکھنا نالا ئقی نہیں تو بد توفیقی ضرور ہے۔یہ سب باہم ہم آمیز ہوں تو بڑافن پارو وجود میں آتا ہے۔ اس ناول کے کردار اور ان کی الجھنیں اس زمانے کی طوائف ، سماجی رو یہ اورآپ نے جس طرح تجزیہ کیا ہے اور آخر میں جو تجزیہ پیش کیا ہے وہ کمال فن کا نمونہ ہے۔ میں نے واقعہ نگاری یا تو ڈکنس کے ناول ڈیوڈ کو پر فیلڈ میں دیکھی یا پھرگردش رنگ چمن میں، تیسرا ناول مجھے یادنہیں آتا جوان رفعتوں کو چھونا تو در کنار اس کا چھوٹے سے چھوٹا حصہ پیش کرسکیں، کردار نگاری میں بھی اس ناول کا جواب نہیں ہے۔
یہ بات آپ کے علم میں ہے کہ انگریزی ادب میں بڑے ناول نگار گزرے ہیں اور اب بھی ان پر کتابیں لکھی جارہی ہیں ۔ اردو میں سوائے آپ کے ناولوں کے یہ مرتبہ کسی کونہیں ملا ۔ لوگ ہر طرح کی باتیں کرتے رہیں گے آپ کیوں خائف ہوں۔ پروین شاکر یا اور اسی سطح پر ناقدین آپ کے اس بلند مرتبہ کو کم نہیں کر سکتے جواللہ نے آپ کو دیا ہے۔
امید ہے آپ خیر یت سے ہوں گی۔ میں نے دلی میں کہا یہاں احباب سے کہا کرا چی میں کہا کہ میں نے آپ کو بے حد مہذب، بے حد با اخلاق اور باخبر پایا۔ وہ لوگ جو نا معقول باتیں کرتے یا لکھتے ہیں اس قابل نہیں ہیں کہ آپ توجہ دیں۔
مخلص
لطيف الزماں خاں
( کتاب : انشائے لطیف ۔۔ جلد دوم )
فیس بک کمینٹ

