شاکر تمہارے لیے دعائیں
ملتان ریلوے اسٹیشن سے جمعرات کو تمہیں ایک خط پوسٹ کیاجو میں نے لاہور سے لکھنا شروع کیاتھا۔ آج منگل ہے اور آج کل میں تمہارا خط آنے والا ہے۔ پہلی دعا تو یہ کہ خط لائٹ آف ہونے سے پہلے مکمل ہوجائے کہ یہاں سب سے بڑا المیہ اور سانحہ بجلی کا ہی ہے۔ جو سانحہ کربلا کے برابر تو نہیں کہہ سکتا لیکن سانحہ ضرور ہے۔ کربلا کی اصطلاح میں نے اس لیے استعمال کی کہ بجلی کے بغیر یہاں پانی کی بھی بہت قلت ہے۔ سو وہی ماحول بن جاتا ہے ۔آج شام ایک ہوٹل سے کھانا کھایا تو پانی بھی نصیب نہ ہوا۔ ہوٹل والے کاکہناتھا کہ گردونواح میں پانی موجودنہیں ہے۔ سو مجھے چار میل دور جا کر پانی پیناپڑا جب تک وہاں پہنچا پانی کی ضرورت بھی نہیں رہی تھی۔
ملتان میں اس مرتبہ تین روز قیام کیا ۔دلچسپ واقعات ہوئے ۔سب سے دلچسپ یہ کہ اطہر ناسک سے ملاقات ہوئی ۔اس کاکہنا ہے کہ اسے ایس ای کالج بہاولپور میں لیکچرر شپ مل رہی ہے۔ میں نے مبارکباد دی ۔معلوم ہوا ہے کہ کسی اور کو اس نے رحیم یارخان کالج ،عدیل کو صادق آباد کالج اورمحسن گردیزی کو ڈی جی خان کالج میں سلیکشن کا مژدہ سنایا۔ اسی طرح اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ لیکچرر شپ کے لیے جب انٹرویو میں بلایا گیا تو انٹرویو کے دوران میں نے تمہارے (یعنی میرے) شعر سنائے اور انٹرویو لینے والا بہت متاثر ہوا۔ غرض آج کل اس کے بہت سے قصے اور لطیفے گردش کررہے ہیں۔ یار یہ جیسا بھی ہے مجھے اس کے ساتھ آوارگی میں بہت لطف آتا ہے۔ جیب میں پیسے نہ بھی ہوں تو بھوکا نہیں رہنے دیتا۔ایک مرتبہ تو کسی سے سلام دعا لے کر چار سگریٹ بھی مانگ لایاتھا۔ اس کاکہنا ہے ” اخلاق اچھا ہونا چاہیے بندہ بھوکا نہیں مرتا“۔ جمعے کی شام نیشنل سنٹر میں اردو اکادمی کے زیراہتمام علی تنہا کے مجموعے کی تعارفی تقریب تھی۔میں اطہر ناسک کے ہمراہ پہنچا تو وہاں ایک لمبے بالوں والا نوجوان تھا۔ میں تو پہلی نظر میں پہچان نہ سکا لیکن قریب جا کر دیکھا تو وہ حضرت اظہر سلیم مجوکہ تھے ۔بہت ”جپھیاں پا “ کے ملے ۔اور
جب گلے سے لگ گئے سارے گلے جاتے رہے
اسے سات آٹھ ماہ بعد دیکھا۔ فون نمبر اور ایڈریس کاتبادلہ ہوا کہہ رہا تھا کہ لاہور آکر رابطہ کروں گا۔ وہیں قمر رضا بھی آگیا ۔اتفاق ہے میں جب بھی ملتان جاﺅں قمر سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ ہم نے کہا یارہماری تمہاری لڑائی آذر کی وجہ سے ہوئی تھی ۔وہ چلا گیا تو جھگڑا بھی ختم ۔
ڈاکٹر انور سدید بتارہے تھے کہ ان کا ادبی جائزہ بہت طویل ہے ۔شاید دوقسطوں سے بھی زیادہ ہوجائیں ورنہ حسن رضوی کانٹ چھانٹ کردے گا۔ آئندہ ماہ ”اردو زبان“ کا جائزہ نمبر آ رہا ہے جس میں یہ سارا جائزہ شائع ہوجائے گا۔اس مرتبہ امروز میں میری خوشبو والی غزل شائع ہوئی۔ اگلے جمعے کو پیشگوئیوں والا مضمون بھی آجائے گا۔ باتیں تو بہت ہیں لیکن اب لائٹ بند ہونے والی ہے۔ خط ادھورا رہ گیاتو کل تک پڑارہے گا۔ کل یاپرسوں دوبارہ ملتان جاﺅں گا ، گھرپیسے دینے ہیں ۔آج تنخواہ ملی ہے۔ یہاں فائدہ یہی ہے کہ ٹھیک سات تاریخ کو پیسے مل جاتے ہیں ۔بشری رحمان موجود ہوں یا نہ ہوں۔ بھائی طاہر اور مظاہر سمیت تمام احباب کوسلام ۔
تمہارا اپنا رضی
7جنوری 1986
ملتان ریلوے اسٹیشن سے جمعرات کو تمہیں ایک خط پوسٹ کیاجو میں نے لاہور سے لکھنا شروع کیاتھا۔ آج منگل ہے اور آج کل میں تمہارا خط آنے والا ہے۔ پہلی دعا تو یہ کہ خط لائٹ آف ہونے سے پہلے مکمل ہوجائے کہ یہاں سب سے بڑا المیہ اور سانحہ بجلی کا ہی ہے۔ جو سانحہ کربلا کے برابر تو نہیں کہہ سکتا لیکن سانحہ ضرور ہے۔ کربلا کی اصطلاح میں نے اس لیے استعمال کی کہ بجلی کے بغیر یہاں پانی کی بھی بہت قلت ہے۔ سو وہی ماحول بن جاتا ہے ۔آج شام ایک ہوٹل سے کھانا کھایا تو پانی بھی نصیب نہ ہوا۔ ہوٹل والے کاکہناتھا کہ گردونواح میں پانی موجودنہیں ہے۔ سو مجھے چار میل دور جا کر پانی پیناپڑا جب تک وہاں پہنچا پانی کی ضرورت بھی نہیں رہی تھی۔
ملتان میں اس مرتبہ تین روز قیام کیا ۔دلچسپ واقعات ہوئے ۔سب سے دلچسپ یہ کہ اطہر ناسک سے ملاقات ہوئی ۔اس کاکہنا ہے کہ اسے ایس ای کالج بہاولپور میں لیکچرر شپ مل رہی ہے۔ میں نے مبارکباد دی ۔معلوم ہوا ہے کہ کسی اور کو اس نے رحیم یارخان کالج ،عدیل کو صادق آباد کالج اورمحسن گردیزی کو ڈی جی خان کالج میں سلیکشن کا مژدہ سنایا۔ اسی طرح اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ لیکچرر شپ کے لیے جب انٹرویو میں بلایا گیا تو انٹرویو کے دوران میں نے تمہارے (یعنی میرے) شعر سنائے اور انٹرویو لینے والا بہت متاثر ہوا۔ غرض آج کل اس کے بہت سے قصے اور لطیفے گردش کررہے ہیں۔ یار یہ جیسا بھی ہے مجھے اس کے ساتھ آوارگی میں بہت لطف آتا ہے۔ جیب میں پیسے نہ بھی ہوں تو بھوکا نہیں رہنے دیتا۔ایک مرتبہ تو کسی سے سلام دعا لے کر چار سگریٹ بھی مانگ لایاتھا۔ اس کاکہنا ہے ” اخلاق اچھا ہونا چاہیے بندہ بھوکا نہیں مرتا“۔ جمعے کی شام نیشنل سنٹر میں اردو اکادمی کے زیراہتمام علی تنہا کے مجموعے کی تعارفی تقریب تھی۔میں اطہر ناسک کے ہمراہ پہنچا تو وہاں ایک لمبے بالوں والا نوجوان تھا۔ میں تو پہلی نظر میں پہچان نہ سکا لیکن قریب جا کر دیکھا تو وہ حضرت اظہر سلیم مجوکہ تھے ۔بہت ”جپھیاں پا “ کے ملے ۔اور
جب گلے سے لگ گئے سارے گلے جاتے رہے
اسے سات آٹھ ماہ بعد دیکھا۔ فون نمبر اور ایڈریس کاتبادلہ ہوا کہہ رہا تھا کہ لاہور آکر رابطہ کروں گا۔ وہیں قمر رضا بھی آگیا ۔اتفاق ہے میں جب بھی ملتان جاﺅں قمر سے ملاقات ہوجاتی ہے۔ ہم نے کہا یارہماری تمہاری لڑائی آذر کی وجہ سے ہوئی تھی ۔وہ چلا گیا تو جھگڑا بھی ختم ۔
ڈاکٹر انور سدید بتارہے تھے کہ ان کا ادبی جائزہ بہت طویل ہے ۔شاید دوقسطوں سے بھی زیادہ ہوجائیں ورنہ حسن رضوی کانٹ چھانٹ کردے گا۔ آئندہ ماہ ”اردو زبان“ کا جائزہ نمبر آ رہا ہے جس میں یہ سارا جائزہ شائع ہوجائے گا۔اس مرتبہ امروز میں میری خوشبو والی غزل شائع ہوئی۔ اگلے جمعے کو پیشگوئیوں والا مضمون بھی آجائے گا۔ باتیں تو بہت ہیں لیکن اب لائٹ بند ہونے والی ہے۔ خط ادھورا رہ گیاتو کل تک پڑارہے گا۔ کل یاپرسوں دوبارہ ملتان جاﺅں گا ، گھرپیسے دینے ہیں ۔آج تنخواہ ملی ہے۔ یہاں فائدہ یہی ہے کہ ٹھیک سات تاریخ کو پیسے مل جاتے ہیں ۔بشری رحمان موجود ہوں یا نہ ہوں۔ بھائی طاہر اور مظاہر سمیت تمام احباب کوسلام ۔
تمہارا اپنا رضی
7جنوری 1986
فیس بک کمینٹ

