دولہا بھائی مبارکاں
میں تو یہ خبر ملتان سے بھی سن آیاتھا ۔خبر ذرا اڑتی اڑتی سی تھی اس لیے غیریقینی بھی تھی ۔ سوچا تھا کہ تمہیں خط لکھ کر تفصیل پوچھوں گا۔ اسی اثناءمیں تمہارا خط آگیا اور مہرتصدیق ثبت ہوگئی۔ توگویا بیٹا جی کی شادی ہورہی ہے۔ اچھی بات ہے یار ہم بھی چچا بننا چاہتے ہیں۔ میں نے تو دوچار ماہ پہلے یہی مشورہ دیاتھا جواب میں تم نے لمبی آہ بھر کہ کہا تھا ابھی تین چارسال کمائی کروں گا ۔ اور اب میرے خدشات درست ثابت ہوگئے۔ چشم تصور میں دیکھو کہ میرا کوئی بھتیجا ہوگا اور جب میں اسے گود میں اٹھاﺅں گا تو وہ میری عینک اتارے گاکیونکہ ہوگا جوتمہارا بیٹا۔
مجھے اس خبر سے جوخوشی ہوئی اس کا تم اندازہ نہیں کرسکتے۔
آج تمہاراخط ملا تو بشری رحمان کوبھی یہ خوشخبری سنائی ۔ان کاکہنا تھا سعودی عرب جانے کایہی تو فائدہ ہے۔ تم بھی چلے جاﺅ شادی ہوجائے گی۔ میں نے کہا میں لنڈورا ہی بھلا۔ باجی طاہرہ کاکہنا تھا بیگم مل گئی تو شاکر تم سے بھی جائے گا۔میں نے کہا میں اس کی پرانی بیگم ہوں۔ وہ میر ا اوربھی خیال رکھے گا۔میری معلومات کے مطابق تمہاری شادی اکتوبر یا نومبر میں ہوگی۔اس اعتبار سے تمہیں ستمبر یا اگست میں واپس آنا چاہیے۔ میرے لیے تو اصل خوشی یہی ہے کہ تم پاکستان واپس آجاﺅ گے۔پچھلے سال رمضان میں ہم شام کو واک کرتے تھے ۔سٹیشن کا راﺅنڈ ہوتاتھا یاکبھی کبھار اسلام تبسم کے گھر جاتے تھے۔ہر سال چاندرات کی آوارگی بھی ہوتی تھی۔ اب تو میرا معمول ہے سر شام سوجاتا ہوں۔ایک دن تو چار بجے شام کا سویا اگلی صبح چھے بجے جاگاپھریاد آیا کہ رات کھانا بھی نہیں کھایاتھا۔ آج کافی دنوں بعد ایسا ہوا کہ رات کے دوبجے ہوئے ہیں اور میں ابھی جاگ رہا ہوں۔ آج کی روداد یہ ہے کہ دفتر سے واپسی اور افطاری کے بعد میں انور سدید صاحب کے ہاں چلا گیاتھا ۔کافی دنوں سے ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ وہاں صابر لودھی صاحب بھی بیٹھے تھے۔ پھرشام کو ڈاکٹر صاحب میرے ساتھ عموماً چہل قدمی کرتے ہوئے اقبال ٹاﺅن میں نکل آتے ہیں۔ ذرا واک کرتے کرتے دور نکل آئے تو میں نے کہا آئیں آج آپ کو اپناگھردکھا دوں۔طویل راستہ تھا آدھ گھنٹے کی پیدل مسافت کے بعد ڈاکٹر صاحب میرے کمرے میں پہنچے تو بہت تھک چکے تھے۔کچھ دیر بیٹھے پھرکہنے لگے تم بہت کٹھن زندگی گزار رہے ہو۔ مجھے تمہارے یہ حالات دیکھ کر بہت دکھ ہوا،وغیرہ وغیرہ۔ میں نے کہاسر اب تو یہ سب کچھ میری زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔ پھر میں انہیں واپس ان کے گھر چھوڑ کرآیا۔ اس طرح کم وبیش دوگھنٹے پیدل چلا ہوں۔ واپس آکرمضمون لکھناتھا وہ لکھا اور اب تمہارے خط کاجواب حاضر ہے۔ ملتان میں سحر صاحب اور اقبال ارشد سے ملاقات ہوئی۔ میں اگلا انٹرویو انور سدید صاحب کاکررہاہوں ۔ تمہارے ہائیکو کاتراشہ اور منور جمیل کے ایک کالم کی فوٹوکاپی ارسال کررہا ہوں ۔اب اجازت تین بجنے والے ہیں ۔صبح اٹھ کر دفتر بھی جانا ہے۔
والسلام
تمہارا رضی
21مئی 1986
فیس بک کمینٹ

