کلٹ سے مراد ایک ایسا گروہ ہے جو ایک شخصیت کے گرد گھومتا ہو ، اس سے عشق کرتا ہو ، اس کے لیے محبت کرتا ہو ، اس کے لیے نفرت کرتا ہو۔ کلٹ مائنڈ سیٹ اگرچہ مغرب میں بھی ملتا ہے لیکن بنیادی طور پر یہ مشرق کا فینومینا ہے ۔ کلٹ لیڈر ایک کرشماتی اور طلسماتی شخصیت کا مالک ہوتا ہے ، وہ اپنی گفتگو، اپنی تقریر یہاں تک کہ اپنی حرکات و سکنات یا باڈی لینگویج سے لوگوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے ، وہ انہیں سہانے سپنے دکھاتا ہے ، خود کو خیر کا اور دوسروں کا شر کا نمائندہ ثابت کرتا ہے ۔
اس کے سحرزدہ لوگ اس کے لیے اپنے دوستوں عزیزوں یہاں تک کہ والدین کو بھی چھوڑ دیتے ہیں ان کے مخالف ہو جاتے ہیں۔ کلٹ لیڈر کا عموماً کوئی ذاتی مذہبی نظریہ ہوتا ہے لیکن یہ ضروری نہیں ، اس کا نظریہ سیاسی اور سماجی بھی ہو سکتا ہے ۔ مغرب میں کلٹ لیڈر کی ایک بڑی مثال ہٹلر ہے ۔
تاریخ اسلام میں اس کی بڑی مثالیں خوارج اور فدائین ہیں اور موجودہ دور میں اس کی مثالیں طا ل بان اور دا ع ش وغیرہ ہیں ۔۔۔ لیکن اگر آپ غور کریں تو مشرق میں اکثر بڑے سیاسی رہنما بھی کلٹ لیڈر ہیں اور ان کے کارکن ان کے فالور کلٹ مائنڈ سیٹ رکھتے ہیں۔
جمال عبدالناصر ، معمر قذافی، صدام حسین ، سوئیکارنو ، جناب ذوالفقار علی بھٹو کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ ہمارے ہاں یعنی مشرقی ممالک میں اگر کوئی کسی مغربی لیڈر یا فلاسفر کا فالور ہے تو وہ اسے بھی پیر اور پیغمبر سمجھتا ہے ، مارکس اور لینن کی مثال لیں ، یورپ اور روس میں ان کے فالور ان کے نظریات کو فالو کرتے ہیں لیکن ان کی شخصیت کی غلامانہ پیروی ہرگز نہیں کرتے اور نہ ہی ان پر کی گئی تنقید پہ سیخ پا ہوتے ہیں جبکہ ہمارے ہاں اگر آپ ان شخصیات پر تنقید کریں گے تو آپ سامراجی طاقتوں کے ایجنٹ گنے جائیں گے ، مغرب ہی کیوں چین کی مثال لیں وہاں ماؤ پر تنقید کی جاتی ہے بلکہ شدید تنقید کی جاتی ہے جبکہ ہمارے ہاں ایسا کرنا جرم ہے۔
اپنے ملک میں دیکھیں ایک کلٹ لیڈر تھے الطاف بھائی ۔۔۔ جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حق دار ہے۔۔۔ ۔ جون ایلیا جیسے درویش شاعر کو بھائی کا واجب احترام نہ کرنے پر سر عام پیٹا گیا ، جناب رئیس امروہوی نے بھائی کے حق میں بہت لکھا لیکن کسی نجی محفل میں کوئی ہلکی پھلکی گستاخی سرزد ہوئی جس کے لیے انہیں اپنی جان دینی پڑی۔
پاکستان کی سب سے زیادہ جمہوری اور لبرل روایات کی حامل جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے میں جناب حبیب جالب کو پیٹا گیا کیونکہ وہاں انہوں نے ایک نظم پڑھی تھی جس میں محترمہ بینظیر بھٹو سے امریکہ کے ساتھ قریبی تعلقات قائم رکھنے پر شکوہ کیا گیا تھا
نہ جا امریکہ نال کڑے
سانوں تیرا بہت خیال کڑے
اور تازہ مثال ڈاکٹر پرویز ہودبھائی کی ہے جو جناب ذوالفقار علی بھٹو پر تنقید کرنے کے جرم میں گردن زدنی قرار پائے ہیں۔
پاکستان مسلم لیگ میں میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ کلٹ لیڈر ہیں، یہاں تک کہ ان کے بعض عشاق میاں شہباز شریف کو بھی ان کی لائن سے انحراف کا مرتکب قرار دیتے ہوئے برا بھلا کہہ دیتے ہیں۔
سب سے بڑا اور شدت پسند کلٹ مائنڈ سیٹ پاکستان تحریک انصاف ہے ، انصافی اپنے لیڈر کے لیے دوست رشتہ دار تو کیا والدین کو بھی دھتکار دیتے ہیں ، ملکی اداروں کو تو کیا ریاست کو بھی گالیاں دیتے ہیں ۔
مذہبی سیاسی جماعتوں اور غیر سیاسی مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں پر تنقید کرنا تو صحابہ کرام اور تابعین پر تنقید کرنے کے مترادف ہے ۔
ہمارے ہاں شخصیت پرستی ہمیشہ سے رہی ہے، ہماری تاریخ بادشاہوں اور سپہ سالاروں کی تاریخ ہے ، ہمارا مزاج جمہوری ہے ہی نہیں ، ہمیں نظریے اور اداروں کی ضرورت نہیں ہوتی شمشیر بدست غازی کی ضرورت ہوتی ہے جو ہمیں چھوڑ کر باقی تمام مخلوق کی گردنیں اڑا دے ۔ مغرب میں لوگوں نے صدیوں جدوجھد کی ہے اور خود کو بادشاہت اور چرچ کے جبر سے آزاد کرایا ہے ، انہوں نے ادارے بنائے ہیں ، وہاں شخصیات نہیں ادارے ناگزیر ہوتے ہیں، ہم نے ان کی نقالی کرتے ہوئے جمہوریت کا پرچم اٹھا لیا ہے جبکہ ہمارے ہاں جمہوریت کے بنیادی عناصر اور لوازم سراسر مفقود ہیں اور اس کے لیے کوئی کام بھی نہیں کیا جا رہا بلکہ ہماری سیاسی جماعتیں ہماری درسگاہیں ہمارا میڈیا ہمارا سوشل میڈیا سب شخصیت پرستی اور کلٹ مائنڈ سیٹ کو فروغ دے رہے ہیں۔
فیس بک کمینٹ

