کچھ عرصہ قبل لاہورکی ایک بہت مشہوراورقدیم یونیورسٹی کے پروفیسر سے ملاقات ہوئی باتوں باتوں میں کہنے لگےکہ علامہ اقبال کی زندگی، شاعری، سیاست اورفلسفے کے کم و بیش ہرپہلو پرریسرچ ہوچکی ہےاوراب اس ضمن میں کرنے کوکچھ نہیں بچا۔ میں نے اچانک کہہ دیا کہ اقبال کی شاعری میں غیرمسلم کرداروں پر کام ہونا چاہیے۔میرے اس موضوع پروہ بہت خوش ہوئےاورکہنےلگے کہ میں کسی طالب علم کو یہ موضوع دیتا ہوں کہ وہ اس پرریسرچ پیپرلکھے۔کچھ بعد انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک طالب علم کو میں نے یہ موضوع سونپ دیا ہےاوروہ اس پر کام کر رہا ہے۔ ایک دن میں ان سے ملنے یونیورسٹی گیا۔ پروفیسرصاحب کے دفتر میں بیٹھا تھا کہ ایک لڑکا چائے لے کرآگیا انھوں نے بتایا کہ یہی وہ طالب علم ہے جو تمہارے تجویز کردہ موضوع پرتھیسس لکھ رہا ہے۔ اس دوران پروفیسرصاحب نےکہا کہ آپ بیٹھو میں ابھی کلاس پڑھا کر واپس آتا ہوں۔ وہ طالب علم بھی وہاں بیٹھ گیا۔ میں نے سرسری طورپرپوچھ لیا کہ تمہارا کام کیس چل رہا ہے۔ اس نے کہا بہت اچھا۔ کہنے لگا کہ میرا تھیسس تقریباً مکمل ہوچکا ہے بس دوایک رکاوٹیں ہیں۔ میں نے پوچھا وہ کیا ہیں، کہنے لگا کہ اقبال کی شاعری میں دوغیرمسلم کردار ایسے ہیں جن کے بارے معلومات میسرنہیں ہیں۔ میں نے پوچھا وہ کون سے ہیں۔ کہنے لگا کہ ایک توسپینوزا ہے۔ میں نے کہا کہ کوئی انسائکلوپیڈیا کنسلٹ کرنا تھا۔کہنے لگا کیا تھا لیکن اس بارے کچھ نہیں ملا۔ میں نے کہا یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ اس نے اپنے بیگ میں سے اردو کے دوصفحے نکالے جو فلسفیوں کے بارے میں تھے کہنا لگا اس کتاب میں کچھ نہیں ہے۔ میں نےانگریزی کاانسائکلوپیڈیا کنسلٹ کرو کہنے لگا کہ وہ تومجھے نہیں آتی۔ میں نے کہا دوسری کون سی رکاوٹ ہے کہنے لگا کہ اقبال نے اپنی شاعری میں یاجوج ماجوج کا بھی ذکر کیا ہے۔ میں نے بہت تلاش کیا ہے لیکن مجھے یاجوج ماجوج کی تاریخ پیدائش اوروفات کہیں نہیں ملی۔ یہ طالب علم اپنی کلاس کا ٹاپر تھا۔ یہ ہے ہمارے ماہرین اقبال کا حال۔ مستقبل قریب میں یہ طالب علم ماہراقبالیات کہلائے گا
بدھ, اپریل 29, 2026
تازہ خبریں:
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- تہذیبوں کے درمیان ایک مکالمہ : وجے پرشاد کا فکرانگیز مضمون
- اشرف جاوید کے ساتھ برسوں بعد ملاقات : طباق ، تپاک اور چشم نم ناک ۔۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری

