ایم ایم ادیبکالملکھاری

اسلام آبادآرٹ فیسٹیول اور میڈیا کی بے اعتنائی ۔۔ ایم ایم ادیب

فنونِ لطیفہ جاگتی زندگی کا اظہار ہوتے ہیں اور کسی تہذیب کے تاریخ میں امر ہوجانے کا ذریعہ بھی،جس معاشرے میں علوم و فنون کی قدر نہ ہو وہ مردہ اقداروروایات سے عاری معاشرہ کہلاتا ہے ۔بد قسمتی سے ہم ایسے ہی معاشرے میں سانس لے رہے ہیں ۔ہمارا میڈیا اور اس سے منسلک افراد اصل حقائق سے چشم پوشی اور بے اعتنائی روا رکھے ہوئے ہیں
ہوسِ زر نے ان کے دل و دماغ پر قبضہ جما رکھا ہے،تا ہم حکومتی ذرائع ابلاغ کی مہر بانی ہے کہ انہوں نے سرد مہری کا مظاہرہ کرنے کی بجائے ان تاریخی اور ثقافتی و تہذیبی تفریحات سے قوم کو محروم نہیں رکھا بلکہ اپنی بھر پور شرکت اور تعاون سے اس میلے کی رونق کو دوبالا کیا ۔
بین الاقوامی شہر اور ملک کے دارالحکومت اسلا م آباد میں سجنے والے فنون لطیفہ کے میلے میں دنیا بھر کے پینٹرزکی شہکار پینٹنگز ،روایتی جیولری ،ٹیکسٹائل ،سریمکس ،نقاشی،بلڈنگ پیٹرا ڈیورا کرافٹ ( لکڑی کے فرنیچر پرپتھرجڑنے کا کام)اور مجسمہ سازی یا پتھر پر کئے گئے نادر کام کی نمائش کے ساتھ ساتھ کیمرہ سے لی گئی زندگی سے بھر پور تصاویر کی نمائش شامل تھی، جسے دیکھنے والے اسلام آ باد کے ہزاروں لوگوں نے پسند کیا اور سراہا،مگر دیگر علاقوں کے عوام جو پی ٹی وی خال خال ہی دیکھتے ہیں وہ اس خوبصورت اور پر شکوہ فنونِ لطیفہ کی تفریح سے یکسر محروم رہے۔یہ ایک ندامت ا نگیز واقعہ تھا جو گزر چکا ،اب ان خوبصورت لمحات کو ہرگز ہرگز واپس نہیں لایا جا سکتا۔
بصری فنون اور ٹی وی ڈراموں کے حوالے سے جمال شاہ کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں ،یہ ایک ایسا نام ہے جس کی خدمات کے ذکر کے بغیر بیسویں اور ا کیسویں صدی کی تاریخ نامکمل رہے گی،جمال شاہ نے اداکاری ہی نہیں مصوری اور فنِ مصوری کے اسرارو رموز کو سمجھا اور سمجھانے پر بیش بہا کام کیا ۔نیشنل کالج آف آرٹ کے ہونہار طالب علم نے فقط اپنا نام ہی نہیں اپنی مادرِ گیتی کا نام بھی روشن کیا،ان کا یہ خاص وصف ہے کہ فنِ مصوری سے متعلق قومی اور بین الاقوامی ماہرین فن کے کام کوعام کرنے میں گہری دلچسپی کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔
اٹھارہ نومبر دو ہزار انیس سے تیس نومبر تک پورے تیرہ دن منعقد ہونے والا اسلام آباد آرٹ فیسٹیول بنیادی طور پر جمال شاہ ہی کی کاوشوں کا ثمر تھا جس کے سلسلے میں پاکستان کونسل آف آرٹ،سرسید میوزیم اور دیگر کئی مقامات پر فنِ رقص سے لیکر دیگر فنون کی نمائش کا اہتمام کیا ،اس پر مستزاد دنیا کے کئی ممالک سے آئے ہوئے لوگوں نے فنون لطیفہ سے متعلق موضوعات پر مقالے پڑھے،جن میں مختلف فنون کی کلاسیکی اہمیت کے ساتھ ساتھ کسی تہذیب و معاشرت میں ادب و آرٹ کی ضرورت اور تہذیبی و تاریخی احتیاج کو اجاگر کیا۔
اس سارے کارِ ادق میں جس چیز کی ضرورت تھی وہ میڈیا کا کردار تھا کہ وہ ان ساری کاوشوں کو بھر پور کوریج دیتا تاکہ نوجوان نسل جس کا تعلق نا صرف کتاب سے بلکہ فنونِ لطیفہ کی تمام اصناف اور اپنے ثقافتی ورثوں سے ٹوٹتا جا رہا ہے اسے نئے سرے سے جوڑا جائے۔مگر میڈیا اپنے فرض سے لاتعلق رہا ،سرکاری ذرائع ابلاغ کا تیرہ دن کی ان تقریبات میں مثالی کر دار رہا ،لیکن المیہ یہ ہے کہ گزشتہ دو تین عشروں سے فقط سرکارکے گیت گانے کی وجہ سے پی ٹی وی سے پڑھے لکھے طبقے کا اعتماد اٹھ چکا ہے ،اسکا اعتبار مٹ چکا ہے تاہم موجودہ حکومت نے سرکاری میڈیا کو کچھ آزادی ضرور دی ہے اسی آزادی کا نتیجہ ہے کہ فن سے متعلق اصناف کے اظہار کا موقع اسلام آباد کے لوگوں ہی کو سہی بہر حال فراہم تو کیا گیا۔
مجھے ان قیمتی لمحات کو حرزِجاں بنانے کا نادر موقع ملک کے نامور سرجن اور بین الاقوامی شہرت کے حامل مصور اور مجسمہ ساز ڈاکٹر خلیق الرحمن نے مہیا کیا کہ پتھر پر کام کے حوالے سے وہ نئی تاریخ رقم کرنے جارہے ہیں ،اس بین الاقوامی نمائش میں ان کے پتھر پر کئے گئے ورک کو خصوصی اہمیت دی گئی ،ڈاکٹر خلیق کی محبت نے کھینچ کر مجھے اسلام آباد جا پہنچایااور یہ بھی عجیب اتفاق ہے کی حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کے سیکٹری ،نامور افسانہ نگار منشا یا د کے سگے بھانجے معروف شاعر خلیق الرحمن ہی میرے میزبان تھے ،افسوس ناک امر ہے کہ انہیں بھی میں نے وہاں پہنچ کر یہ بتایا کہ اسلام آباد میں پاکستان ٹیلی وژن کے تعاون سے جمال شاہ نے پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اسلام آباد میں بارہ دن سے آرٹ میلہ سجایا ہوا ہے،بدقسمتی سے اس پر نجی چینلز اور پرنٹ میڈیا کی نظرِالتفات نہیں پڑی۔ہم کس قدر بے قدری قوم بنتے جارہے
ہیں۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker