2018 انتخاباتایم ایم ادیبکالملکھاری

بنے گا نیا پاکستان : کرچیاں / ایم ایم ادیب

یہ بعید از قیاس نہیں تھا، یہ ایک معروضی حقیقت ہے ، یہ آوازخلق تھی،جو نقارہء خدا بن گئی، ہر رات کا ایک سویرا تو ہوتا ہی ہے ، آمریت کی باقیات کی یہ سیاہ چادر آخر کب تک ہمارے سروں پر تنی رہتی! نوجوان نسل نے اپنے ووٹ کی قوت سے اسے نوچ کر پرے پھینک دیا۔ اب نسلِ نو کے معمر مگر جواں جذبوں کے حامل قائد کا امتحان ہے ،اسے حکمرانی کا تجربہ تو کیا ،سیاسی ،سو جھ بوجھ بھی زیادہ نہیں ہے اور اس کی جیب قائد اعظم ؒ کی جیب سے بھی زیادہ کھوٹے سکّوں سے بھری ہوئی ہے ۔ ہمارا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارا دانشور سفّاک ہے،وہ ہر موڑ پر دونمبری کرتا ہے ،منافقت سے لتھڑا سچ اگلنے کی کوشش کرتا ہے مثلاََ غامدی فکر کے پرچارک ایک دانشور جو نواز شریف کے قصیدے لکھنے میں یدِطولیٰ رکھتے ہیں،پورے پانچ سال تک سرکاری ٹی وی سے کمایا رزق کھاتے رہے اور سرکار کے گن گاتے رہے ،آج وہ ن لیگ کو بتا رہے ہیں ’’ن لیگ کو یہ بھی پیش نظر رکھنا چاہیئے کہ عمران خان اس کا اصل حریف نہیں ،اس لئے سامنے کھڑی دیوار پر پتھر برسانا عقل مندی نہیں ،اگر تصادم بیانیوں کا ہے تو کر دار غیر اہم ہیں ،بیانئے کو پہلے ذہنی سطح پر منوانا ہوگا ،یہ ایک تدریجی عمل ہے اور صبر طلب،عمران خان کو ہمیں مسلسل عمل کا حصہ سمجھنا چاہئے،اس کے ساتھ لڑائی بے معنی ہوگی ،وہ اگر کچھ اچھی باتیں کر گزرتے ہیں تو اس سے جمہوریت مضبوط ہوگی ۔اس سے نواز شریف کے بیانئے کو تقویت ملے گی ‘‘بین السطور اس کے معنی کیا ہیں ،یہ ہر کس و ناکس کو معلوم ہے ،نفرت ،شدید نفرت ،پاک فوج کے ساتھ اور محبت ان لوگوں کے ساتھ جن کی ہمدردی ملک و قوم کے ساتھ نہیں ان وسائل کے ساتھ ہے جو ان کی منفعت کا سبب ہوں اور ایک گائوں کی کچی کوٹھڑی سے اسلام آباد کے عالیشان مکان میں عیش وعشرت کی زندگی کرنے والے کے خوابوں کی تعبیر کی دائمی ضمانت۔ تمہید لمبی ہوگئی آج کا موضوع دراصل وہ تبدیلی ہے جو سفاک نظروں میں کانٹے کی طرح کھٹک ہی نہیں رہی،دل میں پھانس کی طرح چبھ اور کھب بھی گئی ہے ۔ عمران خان نے اپنی جیت کی خوشی میں میں اگر دل جیت لینے والے خوابوں کی جوت نہیں جگائی ،تو وہ سب ممکن ہے جو اس کے من میں ہے ،فقط اتنی سی شرط پر کہ وہ ایک بااصول ،دیانتدار کرکٹ کے کھلاڑی کی مثل بااصول بے لچک ،بے ریا حکمران بن کر ریاست کے امور کو چلائے،وہ اپنی حکومت کے کسی وزیر مشیر کو سیاست کے میدان کا منہ زور گھوڑا نہ بننے دے ،وہ سب کی سنے ،مگر کرے وہ جو اللہ اور اس کے رسولﷺ کے احکامات کی روشنی میں ہو،اس نے جس ریاست کو اپنے لئے نمونہ بنایا ہے اس کے سارے تقاضوں کو پورا کرے ،یہ عزت جو اس نے تیئیس سال کی جہدِ مسلسل سے حاصل کی ہے (مدینے کی ریاست کے خدوخال بھی تیئیس برس میں مکمل ہوئے تھے)اسے تشنہء تکمیل نہ چھوڑے ،اس کے لئے اسے مردِ آہن بن کر حکمرانی کرنا ہوگی ،کمزور فیصلے اس حکومت کے قویٰ مضمحل کر دینگے ،ادارے جو سابقہ حکمرانوں نے تباہ و برباد کئے ،انہیں اپنے اپنے دائرے میں رہ کر بھرپور کام کرنے کی قوت سے لیس کرنا ہوگا،ٹکرائو کی کوئی صورت برداشت کرنے کی گنجائش نہیں رکھنی ہوگی ،اس کیلئے اپنے ارد گرد پائے جانے والے دوست نما دشمنوں پر نظر رکھنا ہوگی ،جو وعدے اس نے قوم کے ساتھ کئے ہیں انہیں پورا کرنے کی راہ میں کھڑی ہر دیوار کو بے دردی سے گراناہوگا ،اقربا پروری کے زہر سے بچنا ہوگا ،اس کی آستینیں سانپوں سے پاک نہیں ہیں ،جو قدم ،قدم پر پھن پھیلا کر کھڑے ہو جائینگے،ان کا تریاق اسے پہلے مرحلے پر تلاش کر لینا چاہئے ،انتخابات سے پہلے امیدواروں کے چنائو میں جو جو غلطیاں ہوئیں اور جنہوں نے ان غلطیوں کے ارتکاب میں ذرا بھر حصہ ڈالا ان پر کڑی نظر رکھنا ضروری ہے ،جبکہ اپنے پاس کسی غلطی کی گنجائش مطلق رکھنی ہی نہیں چاہئے کہ یہی راستے کا اصل پتھر ہوگا جس کی ٹھوکر سنبھلنے نہیں دے گی ۔ پنجاب میں حکومت بنانا تحریک انصاف کا حق ہے کہ یہیں سے بربادی کی داستان کی ابتدا ہوئی ،اب کی بار اس دھرتی کے سینے پر کوئی نیا زخم نہ لگایا جائے ،اس کے لئے ضروری ہے کہ ملک کی پچاس فیصد سے زیادہ آبادی پر مشتمل اس صوبے کا حدوداربع کم کر دیا جائے ،یہ آپکا انتخابی وعدہ بھی ہے اور حالات کا تقاضہ بھی،اتنے بڑے حجم کا صوبہ بہ ساری حرومیاں اپنے اندر سمیٹے ہوئے ہے ،جن کا ازالہ حکومت کی اولین ترجیحات میں ہونا چاہئے ،ہاں مگر بہت سوچ بچار سے کہ نئے صوبے کی باگ ڈور ایسے ہاتھوں میں نہ چلی جائے جو ایک اچھے اور صائب فیصلے کو ہمیشہ رِستا رہنے والا ناسور بنادے۔ کابینہ وفاق کی ہو یا صوبوں کی ،اعتدال اور توازن ازحد ضروری ہے ،ہوسِ زر کے غلام تحریک انصاف کی صفوں میں بھی کم نہیں ،آسمان سے فرشتے بہر حال نہیں آنے انہی پر سب موقوف ہوگا ،مگر بس اتنا کر دیں کہ معافی کی گنجائش کسی لئینہ ہو غلط بال کھیلنے والے کھلاڑی کو دوسری بال کروانے کا موقع دینے کا مطلب ہوگا اپنی حکومت کے تابوت میں کیل ٹھوک دینے کی ابتداء ۔ غالباََ سیف الدین سیف کا شعر ہے اپنے لہو کی آگ ہمیں چاٹتی رہی اپنے بدن کا زہر تھا ساغر میں کچھ نہ تھا

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

مزید پڑھیں

Close

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker