نہ خاک وہاں کی تھی ،نہ خمیر وہاں کا تھا پھر کسی کرشماتی شخصیت نے سب بدل کے رکھ دیا ۔اوپر والے دونوں کا بھلا ہوگیا ،مل کے محل بنائیں گے ، سونے کی طشتریوں میں کھائیں گے ،چاندی کے ظروف میں پئیں گے جو دیکھے گا اس پر ہنس پڑیں گے ،جو بولے گا اس پر برس پڑیں گے ۔مزاج میں بے نیازی ہوگی ،نگاہوں میں مزید کی پیاس ۔نواز شریف خاندان کو کتنے برس ہوگئے اقتدار کے مزے اڑاتے ،اتنے ہی سالوں سے بھٹو خاندان بھی سندھ پر حکومت کر رہا ہے ، دونوں آپس میں ایک ایک دمڑی پر لڑے ہیں ۔عوام کے حقوق کے لئے کسی کے دل میں درد نہیں اٹھا، کوئی نہیں تڑپا ،اس ملک کے افتادگان خاک کی بے بسی ، بے کسی اور بد حالی پر، کسی گھر میں بھوک نہیں ناچی اس کا رقص صرف مفلسوں اورناداروں کے صحنوں میں برپا ہوا ہے ۔شہید بھٹو اور اس کی شہید بیٹی نے فاقہ زدہ عوام کے گھر روشن کر نے ،انہیں روٹی ،کپڑا اور مکان دینے کا جو وعدہ کیا تھا اس کے پورا کرنے میں سر دھڑ کی بازی لگا دی ،انہوں نے جمہوریت کی حرمت کو پامال نہیں کیا،غریب کے بچوں کو پائی کا محتاج نہیں کیا ۔ لوہا پگھلانے اور گٹر کے ڈھکن بنانے والوں کی نظروں میں اچھائی کے سارے فارمولے کھٹکنے لگے ،ان کی نام نہاد لانڈریوں میں کام کرنے والے مزدوران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے لگے ،انہیں یہ سب برا لگا ،اب انہوں نے سازشوں کے آہنی جال تیار کئے اور اپنے
حق کی بابت بولنے والوں کی زبانوں کے لئے لوہے کے قفل بنائے ان کے پاؤں میں ڈالنے کیلئے زنجیریں ،اور پھر اپنے بنآئے جا نے والے تعمیراتی سامان کے ذریعے آمروں تک رسائی حاصل کی اور پھر ایک رات کے اندھیرے میں شب خون مارکر ایک آمر نے جمہوریت کو اپنے بھاری بوٹوں تلے روند ڈالا ، اس نے کہا ” آئین کیا ہے ؟ ایک کاغذ کا ٹکڑا ،اسے بھی پھاڑ پھینکتا ہوں ” اس نے دانشور وں کو ،صحافیوں اور جمہوریت پسندوں کی سوچ کو گھاس پھوس سے تعبیر کیا ،
علمائے امت کے بارے نفرت انگیز ، ناروا اور توہین آمیز الفاظ استعمال کئے ۔ یہ ایک تابندہ حقیقت ہے کہ جب آمر علم اور فکرو دانش سے خائف ہوجاتے ہیں ،تو قلم دشمنی پر تل جاتے ہیں اور عام طور پر محراب اور عدل و انصاف ان کے تابع ہوجاتے ہیں ۔ یہ دفعتا پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی قیادت میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کا خیال کس کے ذہن رسا میں گونجا ؟ یہ دونوں پہلے اقتدار کے شراکت دار نہیں تھے ؟ پی پی پی نے وفاقی اور صوبائی حکو متوں کو اتحاد کی کندھا نہیں دیا ہوا ؟اور اب پیپلزپارٹی نئے سرے سے حکومتی اختیارات میں براہ شریک ہونے پر تلی ہے ۔وفاقی کابینہ میں پیپلزپارٹی کے وزراء شامل ہونگے،پنجاب کابینہ میں بھی پی پی پی کو وزارتیں ملیں گی ۔یہ آخر کس امر کا شاخسانہ ہے ؟ یہی کہ انتخابات میں دونوں جماعتوں کو سادہ اکثریت بھی نصیب نہ ہوئی ؟ مسلم لیگ ن کو حکومت کی تشکیل کیلئے اتحادی درکار تھے
اور پی پی پی نے پخ کھڑی کی کہ حکومت میں شریک ہوئے بغیر حمایت عطا کرے گی۔اور اب پی پی پی کےوزیر ،مشیر فیصلوں میں شرکت کریں گے تو بات بن پائے گی ورنہ چوہے لنڈورے ہی رہیں گے۔
تو گویا وزارت صنعت و پیداوار اور،بین الصوبائی اور انسانی حقوق کی باگ ڈور وفاقی سطح پر پی پی پی کی دسترس میں ہوگی۔پنجاب میں وزارت خزانہ، ز راعت یا بلدیات کے محکمے پیپلزپارٹی کے پاس ہونگے ،شاید اتنی کچی گولیاں کب ن لیگ نے کھیلی ہیں جو اب کھیلے گی ہاں اگر بادشاہ گر کا سحر،اگر نہیں چل گیا تو۔۔۔۔! اسے جمہوری تقاضہ کہیں یا موقع پرستی اور واقفان سیاست تو اس ” سیاسی موقع پرستی ” کام دینے لگے ہیں ،کئی اور اسے "اتحادوں کے استحکام ” کے نام سے تعبیر کررہے ہیں ، ایک بات تو ہے کہ من وعن ایسا ہوجاتا ہے تو گویا بلاول کے وزیر اعظم بنائے جانے کی منصوبہ بندی ہو چکی تو پھر بڑے میاں صاحب کا ایک خواب تو ادھورا ہی رہ جائے گا کہ ان کی دھی رانی ۔۔۔۔۔؟ بہرحال چھوٹے میاں کا لاڈلا پھر کہاں کھپے گا ؟ پھر اس کے،لئے کسی کو پنجاب کھپے کے نعرے کی چوسنی پر سدھا لینا آسان ہو پائے گا ؟ کہیں پی ٹی آئی کی اپوزیشن کمزور کرتے کرتے اقتدار پر نواز خاندان کی گرفت کمزور نہ ہو جائے۔۔۔۔؟
فیس بک کمینٹ

