ایم ایم ادیبکالملکھاری

بھلا تھیا گڑ مکھیاں کھادا۔۔!: کرچیاں/ ایم ایم ادیب

اقتدار کی سیاست کی پلی پوسی مسلم لیگ ن یہ کس مصیبت میں دھنس گئی ہے کہ اس کے چاروں اور پہرے دار کھڑے ہیں جو اسے آسانی سے سانس لینے کی مہلت بھی لینے دینے کے روادار نہیں ،اچھا بویا ہوتا تو اچھا کاٹتے بھی ،مڑکر پیچھے دیکھنے کی عادت نہ ہو تو پیچھے والے ریکارڈ مرتب کرتے رہتے ہیں اور اب ریکارڈ مرتب کرنے والے بھی اتنے تنگ آگئے کہ حساب کرنے پر مجبور ہوگئے ۔انہیں حساب دینے کی عادت نہیں تھی ،جسے دیا آنکھیں بند کر کے دیا اور جس سے یا جہاں سے لیا ،بے حساب لیا ،مگر یہ بھول گئے کہ لکھنے والے تو کندھوں تک پر بیٹھے ہوتے ہیں ،اور ایک محتسب وہ بھی ہے جو شہ رگ کے قریب ہے ،وہ ایساخالق ہے جسے اپنے بندوں سے ماں سے بھی ستر گنا زیادہ پیار ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کل تک جو ان کے ترجمان تھے ،اُن کی قوت کو خدائی طاقت کا پرتو ثابت کرنے میں اپنی قلم کاری کے ہنر کے وہ وہ جوہر دکھاتے تھے کہ سوچ کے مثبت پہلو تلاش کرنے والے بے بس اور دنگ رہ جاستے تھے اور آج وہی کہنے پرمجبور ہیں کہ ’’ جوہری تبدیلی آئی ہے ،جس نے اُن لوگوں کو خوف زدہ کر رکھا ہے،جو اس وقت جماعتی قیادت کے منصب پر فائز ہیں (مراد شہباز شریف‘‘ ،وہ زبانِ حال سے یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس بوجھ کے متحمل نہیں ہوسکتے ،جو ان کے کندھوں پر ڈال دیا گیا ہے ،مقتدر قوتوں سے برسرِ پیکار ہونا ان (یعنی موجودہ قیادت مسلم لیگ ن)کے خمیر میں نہیں اور نواز شریف نے پارٹی کو آزمائش میں ڈال دیا ہے ،وہ اب نواز شریف صاحب سے اظہارِلا تعلقی کرسکتے ہیں نہ ان کے بیانئے سے وابستگی کا عملی اظہار ،گویا وابستگانِ مسلم لیگ ن (بمعہ) شہباز شریف سب چوری کھانے والے میاں مٹھو ٹھہرے ،چوری بند ہوئی تو پیٹھ پھیر لی ،رہی سہی کسر وہ لکھاری پوری کر رہے ہیں ،جو کبھی اُن کے وظائف پر پلتے تھے،ملکوں ،ملکوں کے دورے اور نشریاتی اداروں پر اجارہ داری الگ۔ خبر نہیں نواز شریف کا وہ کونسا بیانیہ ہے کہ جاوید غامدی کے ایک فکری محافظ تبلیغ کرتے نہیں تھکتے ،ان کا بس چلے تو نواز شریف کی تصویر گلے میں لٹکا کر شہرِ اقتدار کا وریہ قریہ گشت کریں اور لوگوں کو چیخ چیخ کر باورکرائیں کہ نواز شریف ہی ہر مسئلے کا حل ہیں ،وہی ایسے لیڈر ہیں جو دیگر ادرے تو کیا فوج سے ٹکرانے اور اسے سبق دکھانے کی سکت رکھتے ہیں ۔ مداہنت کا اندازہ لگائیں کہ موصوف اس ساری صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کی ہمت جس شخصیت میں دیکھتے ہیں وہ مریم نواز ہے ،جس کی ضمانت کے غم میں وہ گھائل ہوئے جاتے ہیں کہ وہی نواز شریف کو اس کا کھویا ہوا اقتدار واپس دلا سکتی ہیں ، شہباز شریف ،حمزہ شریف یا کوئی اورلیگی رہنما یہ سکت نہیں رکھتا کہ مسلم لیگ ن یا نواز شریف کے تشخص کو بحال کر سکے۔

قرآن کہتا ہے ’’شریکِ جرم اتنا ہی گنہگار ہوتا ہے ،جتنا کہ جرم کرنے والاـ‘‘مریم صفدر اپنے باپ میاں نواز شریف کے قومی جرائم میں برابر کی شریک ہیں ،جہاں جہاں نواز شریف نے قومی خزانے میں نقب لگائی ،مریم نواز نے نقب والے مقام پر اپنا دوپٹہ ڈال دیا کہ جرم چھپ جائے ،مگر فطرت کا ایک اٹل اصول ہے کہ برے کام کا انجام برا ہوتا ہے اور دنیا مکافات عمل کا گھر ہے ،فقط آخرت کے انجام پر ہی موقوف نہیں ،دنیا میں بھی اس شخص کے اعمال پر سے پردہ اٹھا لیا جاتاہے جو خالق مطلق کی محبوب مخلوق کے حقوق پر ڈاکہ ڈالے۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ قوم نواز شریف بیانئے سے مکمل طور پر نجات کی آرزو مند ہے ،تبدیلی قوم کی اول آخر خواہش اور ترجیح ہے ،مسلم لیگ ن بڑی سیاسی جماعت رہنے کے باوجود چاروں صوبوں کی زنجیر کبھی نہیں رہی ،بے نظیر شہید کے حق میں یہ نعرہ ضرور گونجتا رہا ’’ چاروں صوبوں کی زنجیر ،بے نظیر بے نظیر ‘‘ مگر ان کا یا ان کی جماعت کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا،یہ پی ٹی آئی ہے جس کا یہ خواب شرمندہ تعبیر ہوا ۔ پاکستان تحریکِ انصاف نے ایک خواب دیکھا اور بائیس سال میں اسے حقیقت میں ڈھال کر دکھایا ،کسی بھی خواب کی تعبیر کی راہ کے کانٹے ایک جنون کے ساتھ چننا عمران خان اور اس کی ہمسفر نئی نسل کا ایک تاریخی کارنامہ ہے جو کل کلاں کسی سازش (خاکم بدہن) کا نشانہ بھی بن گیا تو مصحفِ تاریخ کا بہر حال سنہری باب ٹھہرے گا ،کہ بد خواہوں کا ایک انبوہِ کثیر ابتدا ہی میں ایسی سازشوں پر مامور ہوچکا ہے ،جو پی ٹی آئی کو کسی معمولی غلطی پر بھی عبرت نگاہ بنا سکتا ہے ۔ اچھی اور مضبوط عمارت کے دیر تک کھڑے رہنے کا انحصار اس کی بنیادوں پر ہوتا ہے ،بنیاد میں ایک اینٹ بھی ٹیڑھی ہو تو عمارت کے منہدم ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ شاہ حسین کا ایک شعر بھلا تھیا گُڑ مکھیاں کھادا اساں بھنڑبھنڑتوں بچیو سے
(بشکریہ: روزنامہ اوصاف)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker