ایم ایم ادیبکالملکھاری

نیاپاکستان نئے افق کی جانب رواں : کرچیاں / ایم ایم ادیب

پی ٹی آ ئی کی حکومت کیابنی ہے کہ سب نے اپنے پیٹ ہولے کرنے شروع کر دیئے ہیں ،جیسے عمران خان کے وزیر اعظم بننے سے پہلے نیب تھی ہی نہیں ،نہ وہ لوگ جو لوٹ مار میں ملوث تھے،ان کا کہیں وجود تھا،جونہی عمران خان کی کابینہ میں شامل ہوئے ہر طرف سے ان پر پتھر برسنا شروع ہوگئے ہیں ،یہ زرد صحافت نہیں تو اور زرد صحافت کیسی ہوتی ہے؟ وہ صحافی جنہیں صحافت میں آئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں ،من گھڑت ،سنسنی خیز خبریں تلاش کرنے اور حکمرانوں کی قربت کے مزے اُڑانے کے بل بوتے پر بڑے اخبارات کا ناجائز پیٹ بھرتے بھرتے ،آج ناموری کے زعم میں مبتلا ہو کر ہر ایک کی پگڑی اچھالتے ہیں اور حظ اُٹھاتے ہیں،کبھی اردو بول رہے ہوں تو لگتا ہے سرائیکی میں بات کر رہے ہوں اور جو انگریزی بولیں تو منہ میں کف بھر بھر آئے،خود کو بقراط تصور کرتے ہیں ،انجمن ستائشِ باہمی ان کا بڑا پلیٹ فارم ہے ،کہنے کو سچ کے سِوا کچھ نہیں بولتے ،مگر آئینہ دیکھنے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے دوسروں کی نظروں میں گر کربھی اپنی نظر میں ’ہیرو‘ کیا برا وقت آگیا ہے نگوڑی صحافت پر۔ زبیدہ جلال اور فہمیدہ مرزا کے خلاف دور کی کوڑیاں لانے والوں کو عمران خان کی کابینہ میں جگہ پالینے کے بعد وہ باتیں یاد آئیں جن کا پہلے کسی فسانے میں ذکر ہی نہ تھا اور تھا بھی تو پردوں کے پیچھے ،برسوں بعد ظہور ہوا تواس موقع پرجب عمران خان نے پذیرائی بخشی،آخر قائدِ اعظم کی جیب میں بھی تو کھوٹے سکّے تھے،حیات کی رسّی دراز ہوتی تو ثیقل فرماکر دکھاتے،اور واثق امید ہے عمران خان جلد یہ مہم سر کر لیں گے ،ویسے کھوٹے سکّوں کی سیاست مسلم لیگ کا طرہء امتیاز رہا ہے ،اسے شروع دن سے کوئی کھرا سکّہ نصیب ہی نہیں ہوا ۔ عمران خان اگر بادشاہ ہوتا تو‘ تو شاہی محل یعنی گیارہ سو کنال کے وزیر اعظم ہاؤ س میں قیام کرتااور اگر راہب ہوتاتو اقتدار کے حمام میں قدم نہ دھرتا جس میں سارے ننگے ہیں ،مگر وہ پہلی جست میں ان سب کا لباس بن گیا ہے ،وہ اپنی اچھی روایات سے ان سب کی یادوں کو ہمارے ذہنوں سے محو کر دیگا جنہوں نے ہماری رسوائی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی،مگر یہ ہمیں عزت و وقار کے اس مقام پر جا کھڑا کریگا کہ تاریخِ اقوام کے سنہری باب میں ہمارا نام رقم ہوگا۔ معروف دانشور ابو سعد ایمان نے اپنی ایک پوسٹ میں کیا خوب لکھا ہے ’’عمران خان فرشتہ ہے نہ شیطان ،ایک گنہگار انسان ہے ،وہ اتنا ہی عملی مسلمان ہے جتنا کہ پاکستان کی اکثریتی آبادی کے عوام،پِیر اور مُلّا،ہمارے لئے دلچسپی کی بات یہ ہے کہ وہ اپنے بہترین ارادوں اور منشور کے ساتھ اقتدار میں آیا ہے۔کامیابی یا ناکامی تو اللہ کے ہاتھ میں ہے ،لیکن آنے والا وقت یہ ضرور ثابت کریگا کہ وہ اپنے عزائم کے ساتھ مخلص تھا ،یا مجھ جیسے لاکھوں لوگوں نے محض دھوکا کھایا ہم اس کی کامیابی کے لئے دعا گو ہیں ،کیونکہ اس کی ناکامی درحقیقت پوری پاکستانی قوم کی ناکامی ہے میڈیا ہے کہ نئی منتخب حکومت کے پاؤ ں نہیں جمنے دے رہا،اس کا بس چلے تو نظام کو لپیٹ کے رکھ دے ،جو حق میں ہیں وہ مبالغہ آرائی کی روش پر اور جو انتشار کی فضا کے قائل ہیں انہیں خود چین ہے نہ سکون سے کام کرنے کی راہ ہموار ہونے دے رہے ،ایک وہ ہیں جو اسمبلیوں کے وجود سے منکر مگر قومی اسمبلی کا حلف اٹھانے سے اپنے لختِ جگر تک کوروک نہیں سکے ،یارانِ سر پل کسی فیصلے پر پہنچ نہیں پا رہے،نظریاتی بُعد اور فکری تضادات کی انتہا ،پھر جوڑتوڑ کا منطقی جواز کیاہے۔؟ فقط بغض اور عناد ،یہ ہے ان کی سیاست کا معیار،کوئی اپنے مالی مفادات پر نوحہ کناں ہے کوئی اپنے اندوختہ کو لاحق خطرے بارے پُر ملال ،سب اپنی اپنی جان کے دکھوں پر سوختہ جان ہیں ،ملک کا خیر خواہ کوئی ہوتو ۔۔! وہ جو تبدیلی کے خدوخال جانتے ہیں اور اسی پہلو پر نظریں گاڑے ہیں ،ان کا نقطہ نظر الگ ہے ،وہ بہتری کے آثار نمایاں دیکھتے ہیں اور بجا کہتے ہیں جب تک تعصب کی عینکیں اتاری نہیں جائیں گی،آگے پیچھے اندھیرا ہی اندھیرا دکھائی دے گا جو سرِ فہرست ہونا چاہئے ہفتے بھر کی تگ و دو میں عیاں ،زیادہ شتابی دکھانا بھی اچھی نہیں ،حد سے بڑھ کر تیز بھاگے والوں کو منہ کے بل گرنے کا خطرہ ہوتا ہے ،اور بھاگنے دوڑنے کی باریکیوں سے عمران خان سے بڑھ کر کون آشنا ہوگا ،ایک زمانہ اس کے مزاج سے بھی اچھی طرح آگاہ ہے اور اس کی صلاحیتوں سے بھی۔کچھ اور طرح کی منصوبہ بندی کے ذریعے نئی منتخب حکومت کے راستے میں دیواریں کھڑی کی جانے کوشش،مگر یاد رہے اب وہ دور گیا جب پاکستان دوسروں کی خاطر اپنے مفادات کی قربانی سے گریز نہیں کرتا تھا ،چین اور اب تو روس بھی اپنے پائوں پر کھڑا ہوچکاہے ،اب پاکستان کسی ایک سپر پاور کی چاکری کا چغہ اتار کر ہی خود کفالت کی منزل کے حصول میں کامیا ب و کمران ہوسکتا ہے ،باقی سب ماضی کے قصے ہیں جو پارینہ ہوچکے،نیا پاکستان ،نئے افق کی جانب رواںِ ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker