اختصارئےلکھاریماہ طلعت زاہدی

صادقین سے ملاقات .. ماہ طلعت زاہدی

1966 تھا شاید، بہار کے خوشگوار دن تھے ، لاہور پھولوں سے مہک رہا تھا دل بے فکر اور زہن آزاد تھا
ً مجھے دماغ ًبھی تھاً خندہ ہاۓ زیبا کا ً
جب صبح سویرے ، پاپا امی،بھائی جان اور میں، لاہور میوزیم پہنچے، پتہ چلا تھا صادقین صاحب آسمانی عبارتیں میوزیم کے درو دیوار پہ سجانے میں مصروفِ کار ہیں۔ پاپا نے ایک کارندے کو جَھٹ سے ایک پرزے پہ کچھ لکھ کے دیا اور کہا یہ صادقین صاحب کی خدمت میں پیش کر دو۔ میں نویں جماعت میں تھی، دو مصرعے جو میں نے اُوپر کو ہو کر پڑھے شاید وہ کچھ یوں تھے:
کہنے کو ہے صادقین سّید زادہ
کرتا نہیں کوئی کام بغیرِ بادہ
چند لمحے بھی نہ گزرے ہونگے کہ نظروں نے اپنے سامنے صادقین صاحب کو آتے دیکھا، سفید عرض کا پاجامہ، سیاہ شیروانی، اوپر کے تین چار بٹن کُھلے ہوئے، نیچے سے سفید کرتے کا گریبان جھانکتا ہوا ، سیاہ گھونگریالے بال، کالی لَٹیں پیشانی کو چھوتی ہوئی ،داہنے ہاتھ میں برش، بائیں ہاتھ کی انگلیوں میں سگریٹ، سیاہ فریم کی عینک سے جھانکتی بڑی بڑی روشن آنکھیں، آغوش وا کئے اے اور پاپا سے بغلگیر ہوگئے اور پھر خود کو الگ کر کے مسکراتے ہوئے بولے کہنے کو نہیں:
ہے واقعی صادقین سّید زادہ

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker