ادبخیبر پختونخواہماہ طلعت زاہدی

ایبٹ آباد، اشوکا کے کتبے، اورشیلے کی نظم .. ماہ طلعت زاہدی

ہم ایبٹ آباد کے جس ہوٹل میں ٹھہرے تھے اس کا نام تھا ًپائین ویو ً سامنے شملہ پہاڑی پر لگے پائین کے درختوں کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔ لیکن پاپا نے کمرے میں قدم رکھتے ہی انگریزی کے شاعر شیلے کو دھیمے لہجے میں دوہرانا شروع کر دیا تھا: we look before and after and pine for what is not,our sweetest songs are those that tell our sadest thought.
لفظ پائین کے دوسرے معانی ترَسنا نے انہیں کسی اور ہی دنیا میں پہنچا دیا تھا، آج سوچتی ہوں وہ کیسا رومانی مزاج رکھتے ہونگے۔۔ بچے تو نا واقف ہی رہ جاتے ہیں، آج یہ بھی خیال آتا ہے کہ غمِ معاش اور غمِ روزگار ایسے نفیس انسانوں کے ساتھ کیا ظالمانہ سلوک روا رکھتا ہے۔۔ ایبٹ آباد کے سینما میں ہم نے انگریزی فلم دیکھی ، love is a many splendid thing. میں چھٹی جماعت میں تھی اور پاپا نے اپنے عوامی نظریات کے مطابق مجھے گورنمنٹ کے اردو اسکول میں پڑھانا لازمی جانا تھا۔ وہ کہتے تھے عوام کے ساتھ رابطہ قائم رہنا چاہیے۔ خود وہ بھی میرٹھ کے گورنمنٹ اسکول میں ہی پڑھے تھے، مگر انگریزوں سے، چنانچہ ہر وقت بات ہی انگریزی میں کرتے، بھائی جان کے زمانے تک بھی گورنمنٹ اسکول کا معیار بہت بہتر رہا ہوگا، پر میرے وقت تک یہ حال ہوا کہ پانچویں تک کوئی انگریزی نہیں اور چھٹی میں انگریزی مضامین کی کتاب لاگو۔ چنانچہ میں ایک ایک لفظ پاپا یا بھائی جان سے پوچھتی اور مستقل ڈانٹ کھاتی۔ مرا مسئلہ کوئی اور تھا، ان کا مسئلہ کوئی اور تھا ،یہ کوئی نہیں سمجھ رہا تھا۔ وہ کہتے ہم بھی تو گورنمنٹ اسکول ہی کے پڑھے ہیں۔۔
خیر اب میں نے پاپا سے اس فلم کے عنوان کا مطلب پوچھا،اور پتہ چلا کہ
ًً ً محبت بڑی ہی شاندار شے ہےً۔
یہ بھی جانا کہ شیلے جو تیس سال کی عمر میں مر گیا تھا ،اُس نے اپنی نظم میں کہا ہے:
ہم کبھی ماضی میں اور کبھی مستقبل میں ڈھونڈتے ہیں، اُس شے کو ترستے ہیں جو کہیں نہیں، ہمارے شیریں نغمے وہی ہیں جو ہمارے اُداس خوابوں سے پُھوٹتے ہیں۔ میں اب سُنتی ہوں طلعت محمود کا وہ گیت، جو شیلندر نے لکھا تو مجھے کیا کچھ یاد آ جاتا ہے:
ہیں سب سے مدُھر وہ گیت جنہیں ہم درد کے سُر میں گاتے ہیں
جب حد سے گُزر جاتی ہے خوشی آنسو بھی نکلتے آتے ہیں.ایبٹ آباد کا ذکر ہو اور شملہ پہاڑی رہ جائے، جب میں بھاگتے ہوئے اُوپر تک چلی گئی اور ہواؤں کے شور میں پتہ چلا یہ جگہ ٹیبل لینڈ کہلاتی ہے، کچھ لمحے رُک کر ہم جب نیچے اُتر آۓ تو پاپا نے بتایا اس پہاڑی کی بلندی 1200فٹ تھی اور انہوں نے ایک گُپھا میں ڈھیر سارے سانپ دیکھے تھے لیکن وہ خاموش رہے ہمیں بتایا نہیں۔ نیچے سائکل لیئے ایک پیسٹری والا کھڑا تھا، ہم نے پیسٹریاں کھائیں اور ہوٹل میں آ کر سو گۓ۔
اگلے روز جس اہم شخصیت سے ملاقات رہی ،اُن کا نام تھا، نسیم حجازی۔ میری ایک دوست انکے ناول بڑے شوق سے پڑھتی تھی، مجھے تاریخی ناولوں کا قطعا ً کوئی شوق نہ تھا، ہاں دوست کی بدولت انکے ایک ناول کا نام ضرور یاد رہا، ً اور تلوار ٹوٹ گئی ً۔ تاہم نسیم حجازی اردو کے تاریخی ادب کا اہم نام ہے۔انہوں نے اپنی پرانی وضع کی کوٹھی میں ہم سب کی چاۓ اور دیگر لوازمات سے تواضع کی اور پاپا سے بڑے تپاک سے باتیں کرتے رہے، انکی بیگم امی سے مصروف ِ گفتگو رہیں،مجھے مزید کچھ نہیں یاد سواۓ سموسوں کے۔
پھر پاپا ہمیں مانسہرہ لے گئے، صرف اشوکا کے کتبے دکھانے کے لئے۔ بس نے ہمیں کسی ویران سی جگہ اُتار دیا، جہاں ہم چاروں کے علاوہ کوئی نہ تھا، بڑی بڑی چٹانیں پڑی تھیں جنکے بیچ میں چشمہ بہہ رہا تھا۔ پاپا نے ہمیں دکھایا چٹانوں پر کسی اجنبی زبان میں(شاید پالی میں) مہاتما گوتم بُدھ کے اَقوال لکھے ہوئے تھے۔اُس وقت محض پاپا کا شوق کام کر رہا تھا جو اِس وقت میرے رگ و پے میں دوڑ رہا ہے۔۔ آخری بات جو مجھے یاد رہ گئی وہ پاپا کا یہ جملہ تھا ً ایسی چٹانوں کے بیچ جہاں پانی ہو وہاں اکثر شیر آجاتا ہے، پانی پینے ً۔ اب کون اشوکا اور کیسا گوتم بدھ، ایک دھڑکا لگ گیا وہاں سے بھاگنے کا، اور واپس ہوٹل پہنچ کر ہی دم لیا۔

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker