ادبتجزیے

تیاگ کا فلسفہ اور راجہ بھر تری ہری ۔۔ ماہ طلعت زاہدی

ہندو مت میں ، صدیوں سے ، دُنیا میں رہتے ہوئے ،دُنیا کو ترک کردینے کا عمل رہا ہے۔ عیسائیت میں بھی رہبانیت موجود ہے ،مگر اُس میں اور ہندو مت کے سنیاس میں بہت فرق ہے۔ راہبوں اور راہباﺅں کے لئے مخصوص خانقاہیں بنائی جاتی ہیں ، جہاں وہ جتھوں کی صورت میں زندگی گزارتے ہیں۔ سردی ، گرمی سے بچاﺅ کا سازو سامان رکھتے ہیں۔ کھانے پینے کا لطف لیتے ہیں۔ موسیقی اور فنونِ لطیفہ کی راحتوں کا مزہ اُٹھاتے ہیں۔ صرف شادی کرنا یا جنسی تلذذ اُن پر ممنوع ہے!
تیاگ یا سنیاس بالکل جداگانہ اور حیرت انگیز عمل ہے اور ہندو مت کی تاریخ میں ایسے حیرت انگیز واقعات بھرے پڑے ہیں ،جن میں بڑے بڑے بادشاہوں ، راجاﺅں ، شہزادوں ، امیروں اور عالموں نے سنیاس لیا ہے۔
تیاگی یا سنیاسی کے لیے باقاعدہ کچھ ضابطے ہیں جن کے تحت وہ دُنیا چھوڑتا ہے۔ مرد کے لیے پیچھے ایک بیٹا یا پوتا ہونا لازم ہے ، جو گھر والوں کی دیکھ بھال کرسکے۔ تیاگی مرد پر دُنیا کا کوئی قرضہ واجب الادا نہیں ہونا چاہئیے۔ جو آدمی تیاگ لے لے گا ، وہ جنگلوں اور پہاڑوں کی گھپاﺅں میں گم ہوجائے گا۔ اُس پر دُنیا کو واپسی کے تمام دروازے بند ہیں۔ تیاگی یا سنیاسی ،آگ کے رنگ جیسے (نارنجی ، گیروا) کپڑے (عموماً ایک چادر) پہنے گا۔ تیاگی پر پکا ہوا کھانا ممنوع ہے۔ وہ ہر طرح کی لذت سے ہاٹھ اٹھا لے گا۔ صرف جنگلوں کے پھل ، جڑی بوٹیوں اور چشموں کا پانی اُس کی بھوک پیاس مٹائے گا۔ شاستروں اور ویدوں میں درج ہے کہ کسی زمانے میں اصل تیاگیوں کو بعد از مرگ دفنایا جاتا تھا کیونکہ وہ اپنی جسمانی خواہشات کو پہلے ہی آگ لگا چکے ہوتے تھے۔ تیاگی کے لیے کسی مقام پر تین دن اور رات سے زیادہ ٹھہرنا ممنوع ہے۔ نہ ہی تیاگی کسی دوسرے مرد ، عورت تیاگی کے ساتھ کہیں قیام کرسکتا ہے سوائے لمحاتی گفتگو کے ، جو مراحلِ سفر میں حاصل ہوگئی ہو۔ عورتوں کا سنیاس لینا بھی ہندو مت میں رہا ہے مگر اسے زیادہ تر منع ہی کیا گیا ہے اور پھر میرا بائی جیسی ، جی دار راجکماریاں بھی خال خال ہی جنم لیتی ہیں۔
تیاگ ، سنیاس ،بیراگ ، جوگ …. ان میں بھی درجہ بندی ہے۔ کچھ جوگی جتھوں کی صورت میں کہیں پڑاﺅ ڈال لیتے ہیں۔ کچھ کے ہاں بھیک میں ملا کھانا جائز ہے۔
لیکن یہاں جس شاعر / راجہ کے تارک الدُنیا ہونے پر قلم اٹھایا گیا ہے وہ تیاگ خالصتاً دنیا کی ہر شے ، ہر یاد ، ہر عمل سے ہاتھ اُٹھا لینا ہے۔ یہ بڑا کٹھن ،دشوار ، حیران کن اور موت سے بھی زیادہ بھیانک طرز حیات ہے۔ جس میں تن تنہا مرتے دم تک خود کو زندہ رکھنا ہوتا ہے۔ سردی ،گرمی ، برسات ہی نہیں جنگلی جانوروں کی سختیاں ، ننگے بدن پر سہنا ہوتی ہیں۔ چیتھڑوں اور دھجیوں میں پھرنا اور بیماریوں کے حملے کو بغیر دواﺅں کے برداشت کرنا ہوتا ہے۔ اس تیاگ میں (ویدوں کے مطابق) مذہبی رسومات کی ادائیگی بھی لازم نہیں رہتی۔ ایک اکیلی جان اور کائنات کے مسائل کا گیان ، دھیان ہی تیاگ ہے۔ یہ مراقبے یا Meditation کی وہ خالص صورت ہے ، جس کے تصور سے بھی عام آدمی دہل کے (شاید) مر جانے کو فوقیت دے۔ کہتے ہیں فوجی سزاﺅں میں سب سے بڑی سزا قید تنہائی سمجھی جاتی ہے۔ تیاگ یہی سزا ہے ، جسے ایک تیاگی خود اپنے لئے ، بہ رضا و رغبت قبول کرتا ہے۔ پھر نہ صرف اسے نبھاتا ہے ،بلکہ غور و فکر ، سیر و سفر ، تنہائی اور فطرت کی ہمراہی میں اس پر علم و ادراک کے وہ وہ دروازے وا ہوتے ہیں جن میں سے گزر کر وہ دُنیا والوں کو فلسفہ ،روحانیت ، جڑی بوٹیوں سے علاج ، نفسِ مطمئنہ حاصل کرنے کے ایسے راز بتاتا ہے کہ دنیا والے اسے اوتار ،مہاتما کہنے لگتے ہیں اور بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے اُستاد ان مہاتماﺅں پر تحقیق کرنے میں اپنی پوری پوری زندگی وقف کردیتے ہیں۔ اس کے باوجود یہ معمہ حل نہیں ہوپاتا کہ کوئی کیسے اور کیوں محض فطرت کی انگلی تھام کر جی سکتا ہے؟
شاید یہ راشی یہ منی ایک مخصوص نظام فکر لے کر پیدا ہوتے ہیں اور ایک مخصوص طرزِ حیات کو اپنا لینا ہی ان کا مقصدِ حیات ہوتا ہے۔ جسے ہم (Mission Impossible)ناممکن العمل سمجھتے ہیں ، ان بڑے بڑے ذہنوں کے لیے وہی مقصد ، ہدف خاص ہوتا ہے ، جسے یہ پورا کر کے ہی دم لیتے ہیں۔ چنانچہ عجب اتفاق ہے کہ ”سدھارتھ“ لفظ کا مطلب ہی یہ ہے ”وہ جس نے اپنا مقصد پالیا ہو۔“ اور جب یہی سدھارتھ ”مہاتما گوتم بدھ“ بنتا ہے تو ساری دُنیا انگشت بدنداں رہ جاتی ہے۔ اندھیرے کو دور کرنے والی (گوتم) اس ذہین عظیم روح (مہاتما بدھ) پر ”ہرمن ہیسے“ جرمن ناول نگار اور شاعر فریفتہ ہوجاتا ہے اور ایک ناول (سدھارتھ) اس مہاتما کے چرنوں میں بھینٹ کر دیتا ہے۔
پہلی صدی عیسوی میں ، اُجین کے دارلخلافہ ، مالوہ میں جنم لینے والا راجہ بھرتری ہری بھی ،اسکاٹ لینڈ کے ایک قانون دان اور سنسکرت کے عالم Arther Berridale Keithکا موضوع تحقیق بن گیا۔ آرتھر بیری ڈیل کیتھ ، ایڈن برگ کی یونیورسٹی میں سنسکرت کا پروفیسر رہا ہے۔ اُس کا عرصہ حیات ،اُنیسویں سے بیسویں صدی (1944ء 1879-ء ) کے درمیان رہا ہے۔
بھرتری ہری پر دوسرا اہم نام Swami Vivikanada ہے ویویک آنند (1863-1902ء ) مذاہب کے فلسفے میں ماسٹر ڈگری رکھتا ہے۔ شکاگو اور امریکہ میں جا کر لیکچر دیتا ہے۔ وہاں اُس کے نام کے ڈنکے بجتے ہیں لیکن بہت جلد وہ دنیا چھوڑ دیتا ہے اور اپنی موت کے بارے میں پیشین گوئی کرتا ہے کہ اسے چالیسواں سال نہیں ملے گا اور دنیا دیکھتی ہے کہ ایسا ہی ہوتا ہے۔
ان دو محققین کی بدولت جو معلومات حاصل ہوئیں۔ ان کا خلاصہ یہ ہے کہ چھٹی ، ساتویں صدی میں ، ہندوستان میں ایک اور بھرتری ہری نامی شاعر گزرا ہے۔ مگر تاریخ کے اوراق اُس کا کلام فراہم نہیں کرتے۔ ہمیں جس بھرتری ہری (پہلی صدی عیسوی) کا کلام تاریخ میں ملتا ہے وہ راجہ ہے ، جس کے بھائی کا نام Vikramaditiyaتھا۔ راجہ بھرتری ہری کی بہت سی رانیاں تھیں اور چہیتی رانی کا نام پنگالا تھا۔ ایک دن ایک برہمن نے راجہ بھرتری ہری کو ایک پھل درازی عمر کی دعا کے ساتھ ، کھانے کو دیا ، راجہ اُسے اپنی محبوب بیوی پنگالا کے لیے تحفتاً لے گیا۔ پنگالا نے راجہ کو ٹال دیا اور بعد میں یہ پھل اپنے محبوب کو دیا جو شاہی اصطبل کا رکھوالا تھا۔ اس نے یہ پھل درباری رقاصہ (جو ایک پاک طینت عورت تھی) کو دان کردیا۔ رقاصہ نے سوچا کہ پھل کا صحیح حقدار راجہ بھرتری کے سوا کون ہوسکتا ہے ،چنانچہ بھرے دربار میں جب رقاصہ نے راجہ کو وہ مقدس پھل بھینٹ کیا تو راجہ دم بخود رہ گیا۔ اُس نے رقاصہ کے ہاتھ کا دیا پھل فوراً کھا لیا اور سابقہ واقعات کی روشنی میں تاج و تخت سے دستبرداری کی۔ راجہ کے جس بھائی وکرم ادیتا کورانی پنگالا نے شہر بدر کرادیا تھا۔ اس لیے کہ وکرم ادتیانے راجہ بھرتری ہری کو خبردار کیا تھا کہ پنگالا بے وفا ہے ، اور راجہ نے اپنی محبت کی شان میں بھائی کی یہ گستاخی برداشت نہ کرتے ہوئے پنگالا کا کہا مان کر بھائی کو جلا وطن کردیا تھا۔ اب راجہ بھرتری ہری نے اُسی بھائی کو سلطنت سونپی اور جنگلوں کی راہ لی اور تاریخ میں درج ہے کہ راجہ بھرتری ہری ، پھر شاعر بن گیا۔
بھرتری ہری سنسکرت کا کلاسیکل شاعر سمجھا جاتا ہے۔ وہ ”شیو“ کا بھگت رہا تھا۔ اس لیے اس کی شاعری میں ”شیو“ کا ذکر بجا ملتا ہے۔ چنانچہ ایک چینی سیاح ”Yi.Jing“جس نے اسے بدھسٹ کہا ہے غلط ثابت ہوتا ہے۔ راجہ بھرتری ہری کا کلام تین حصوں میں موجود ہے۔ لذت دُنیا ، اخلاقیات اور ترک دُنیا۔ یاد رہے کہ علامہ اقبال نے بھرتری ہری کے شعر سے ماخوذ شعر لکھا ہے:
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
مگر یہ واضح نہیں ہوسکا کہ یہ کس بھرتری ہری کے کلام سے ماخوذ ہے۔ آرتھر بیری ڈیل کیتھ اور سوامی وویک آنند کی تحقیق سے جو کلام سامنے آتا ہے وہ راجہ بھرتری ہری کا ہے اس میں بھی وہ نظمیں مل سکیں جو تیاگ کے بعد لکھی گئیں مگر چونکہ تاریخ میں درج ہے کہ پہلی صدی عیسویں کے اس شاعر بھرتری کے ہاں لذاتِ دُنیا /اخلاقیات /ترکِ دنیا پر شاعری کے تین حصے موجود ہیں سو گمان غالب ہے کہ مذکورہ شعری خیال شاید اخلاقیات والے حصے سے لیا گیا ہو۔ راجہ بھرتری ہری نے تیاگ پر جو نظمیں کہی ہیں وہ Poems on Renunciation کے نام سے موجود ہیں۔ میں نے ان نظموں کو انگریزی سے اردو میں ”نظمیں تیاگ کی“ کے عنوان سے یوں منتقل کیا ہے۔

”نظمیں تیاگ کی“

اُٹھو ! چلو جنگل میں چلتے ہیں
جہاں خالص جڑی بوٹیاں اور پھل ہماری غذا ہوں گے
شفاف پانی ہمارا واحد مشروب ہوگا
تازہ پتے ہمارا بستر ہوں گے
اور وہاں ،
وہ نہیں ہوں گے ، جن کے ذہن چھوٹے اور بے فہم ہیں
اور جن کی دولت نے اُن کے دلوں کو تنگ کردیا ہے
وہاں وہ نہیں ہوں گے !
٭٭٭٭٭

آہ!اس زندگی میں مسرت کہاں ہے؟
زیادہ سے زیادہ یہ عرصہ حیات سو سال رہ سکتا ہے
جس کا آدھا حصہ سونے میں گزر جاتا ہے
بقایا آدھے کا نصف بڑھاپے کی فرسودگی اور تکلیف میںِ!
رہ کیا جاتا ہے؟
آدھا بچپن
اور آدھا دوسروں کی خدمت گزاری!
آہ اے آدمی!
اسی لاحاصل ، پانی کی لہر جیسی حیات میں
مسرت کہاں ہے؟
٭٭٭٭٭

کیا ہمالیہ میں ایسی جگہیں ناپید ہوگئی ہیں؟
کہ آدمی دوسروں کے دروازوں پر بھیک مانگنے جائے
کیا پہاڑوں میں جنگلوں کی ساری جڑیں غائب ہوگئی ہیں؟
تمام بہاریں مُرجھاگئی ہیں
تمام میٹھے رس دار پھلوں والے درخت سوکھ گئے ہیں؟
کہ آدمی خوفزدہ ہو کر احمقوں کی طرف دیکھے!
اُن کی طرف ،جن کی گردن دولت سے اکڑ گئی ہے!؟
٭٭٭٭٭

لذت کوشی میں بیماری کا خوف ہے
اونچی ذات کا ہو کر ، ذات کھو دینے کا خوف ہے
دولت میں لٹیروں کا خطر ہے
عزت میں ، عزت جاتے رہنے کا ڈر ہے
طاقت میں دشمنوں کا خطرہ ہے
خوبصورتی میں جنس مخالف کا کھٹکا ہے
علم میں ہار جانے کا ڈر ہے
نیکی میں رُسوائی کا خطرہ ہے
بدن میں موت کا خوف ہے
اس زندگی میں ہر طرف خوف بھرا ہوا ہے
صرف تارک الدُنیا ہوجانے میں کوئی خوف نہیں
٭٭٭٭٭

تم بادشاہ ہو گے
لیکن ہم نے یوگیوں کی خدمت کی ہے
جن کا علم بہت زیادہ ہے
تم اپنی دولت سے ،بادشاہ کی حیثیت میں جانے جاتے ہو
ہم اپنے گیان سے!
تمہارے،ہمارے بیچ نامختتم فاصلہ ہے
اسی لئے
اے بادشاہو!ہم وہ نہیں ، جو تم پر انحصار کریں!
٭٭٭٭٭

پھل مکمل غدا ہیں
اور پہاڑوں کا نتھرا پانی مشروب
زمین بہترین بستر ہے
اور لباس درختوں کی چھال
یہ سب قابلِ قبول ہیں
مگر میں ، احمقوں کی پُر غرور باتیں نہیں سہہ سکتا!
جن کے اعضائے بدن ٹیڑھے میڑھے ہوچکے ہیں
نو دولتی کی شراب سے….
٭٭٭٭٭

صرف حیات ڈر ہے ،جو پیدائش اور مرگ لاتی ہے
نہ دوستوں کی محبت رکھو ، نہ ہوس ، نہ وابستگی
اکیلے!صرف جنگل میں اکیلے رہو….
پھر اس ترکِ دنیا سے زیادہ
اور کس چیز کی تمنا کی جاسکتی ہے!
٭٭٭٭٭

میں نے بدزبانوں کی بدزبانیاں برداشت کیں
احمقوں کی خوشی کی خاطر جب میرا دل رو رہا تھا ، میرے ہونٹ مسکراتے رہے
احتساب کو چھوڑ کر ،میں تابعداروں کے سے بندھے ہاتھ لیے ، ناقدروں کے آگے کھڑا رہا
پھر بھی اے میری خواہش ،تو کیوں چاہتی ہے کہ میں بیوقوفوں کی طرح رقص کروں؟
٭٭٭٭٭

حتیٰ کہ جب بھیک میں ملا ہوا کھانا بھی بدذائقہ ہو
جب بستر کھردری زمین ہو
جب اپنا کُل خاندان ،اپنا بدن ہو
اور دھجیاں ہی لباس ہوں
افسوس ،افسوس ، تب بھی لطف اٹھانے کی خواہش آدمی کو پیچھا کرتی ہے!
٭٭٭٭٭

جیسے پتنگا آگ کی تپش سے ناواقف ہوتے ہوئے آگ میں کود پڑتا ہے
مچھلی کیڑے کو نگل لیتی ہے ، نہ جانتے ہوئے کہ اُس کے ساتھ کانٹا بھی ہے
لیکن ہم دُنیا کے غرور اور خطرات سے اچھی طرح آگاہ ہوتے ہوئے بھی
اسے چھوڑ نہیں سکتے
فریب کی طاقت ایسی ہی ہے….!!
٭٭٭٭٭

یہ تمام کشادہ دھرتی میرا بستر
میرے خوبصورت تکیے ، میرے اپنے دو بازو
میرا شامیانہ شاندار ، نیلا آسمان
اور شام کی ٹھنڈی ہوا میرا پنکھا
چاند ، تارے ،میرے چراغ
اور تیاگ! جیسے ، میری خوبصورت بیوی ، میرے پہلو میں
کون بادشاہ ایسی آسودہ نیند سو سکتا ہے
جیسے میں….
٭٭٭٭٭

تمام کائنات صرف ایک دائرہ ہے
اس میں کیا آرزو کیا جاسکتی ہے؟
کیا سمندر لہروں میں بدل جائیں گے؟
ایک چھوٹی سی مچھلی کے اُچھلنے سے!
٭٭٭٭٭

ضعیف العمری ہماری تاک میں ہے
ایک شیرنی کی طرح
بیماریاں ، دشمنوں کی مانند اکثر
حملہ آور رہتی ہیں
زندگی ، ٹوٹے مرتبان سے ، پانی کی طرح بہہ رہی ہے
میری حیرت کی انتہا ہے
ایسی دنیا میں
لوگ پھر بھی بُرے کاموں پر آمادہ ہیں!
٭٭٭٭٭

پھر کیا ہوا! اگر تمہاری دولت تمہاری ہر آرزو پوری کردیتی ہے؟
اگر تمہارا پاﺅں ، تمہارے دشمنوں کے سر پر ہے ، پھر کیا ہوا؟
اگر تم نے اپنی محبت کو سونے ، چاندی میں نہلا دیا ہے
اگر تمہارا جسم لذت اور تخلیق کے مراحل میں رہتا ہے ،پھر کیا ہوا؟
اصل چیز جس کی خواہش کرنی چاہیے ،رہِ ترکِ دُنیا ہے!
یہی ”شِوا“ کی محبت کا حاصل ہے
٭٭٭٭٭

پہاڑوں کی ترائیوں میں تلاش کرنا
آسمانوں میں اُڑان بھرنا
تمام دُنیاﺅں کی سیاحت پر نکلنا
یہ محض دَھن کی تلوّن مزاجی ہے
آہ!دوست تم کبھی اُس مالک کو یاد نہیں کرتے
جو تمہارے اندر بستا ہے
تمہیں خوشی کیسے مل سکتی ہے؟
٭٭٭٭٭

وید ، پران پڑھنے سے
اور قربانیاں دینے سے کچھ حاصل نہیں ہوتا
آزادی ،
صرف اس خطرناک دُنیا کا بوجھ اُتار دینے میں ہے
تب ،
خودآسودگی ، اپنا جلوہ دکھاتی ہے
یہی سچائی ہے
باقی سب دکانداری ہے
٭٭٭٭٭

ایک وقت تھا ، جب اس دُنیا میں ،
سوائے عورتوں کے مجھے کچھ نظر نہ آتا تھا
اور اب ، جب میری آنکھیں کھل گئی ہیں
مجھے سوائے برہما (ابدی حقیقت) کے کچھ دکھائی نہیں دیتا!
٭٭٭٭٭

چاند کی کرنیں حسین ہیں
جنگلوں کے سبزہ زار فرحت بخش ہیں
اچھے لوگوں سے ملنا سکون آور ہے
شاعری جمیل ترین ہے
اور محبوب کا چہرہ بھی
لیکن اب مرے لیے کچھ بھی پُرکشش نہیں رہا
یہ جان کر ،
کہ یہ سب غائب ہوجانے والا ہے!
٭٭٭٭٭

وہ شاندار شہر
وہ صاحب جلال شہنشاہ
وہ طاقتور اشرافیہ
وہ عالمانہ صحبتیں
وہ چاند چہرہ عورتیں
وہ متکبر شہزادے
اور وہ قصیدہ گو ، جنہوں نے ان سب کی مدح کی
وہ سب کے سب آدمی کی یادداشت سے محو ہوگئے
میرا سلام وقت کے نام
جس نے یہ سب کر دکھایا ہے
٭٭٭٭٭

میں نے وہ گیان حاصل نہیں کیا
جو تمام مخالفین کو شکست دے سکے
نہ میں اس قابل ہوسکا ہوں
کہ تلوار کی نوک سے ہاتھی کی پشت کے ٹکڑے کردوں
نہ میں اپنی فتوحات کے جھنڈے آسمانوں میں گاڑ سکا
نہ ہی میں نے پورے چاند کی رات میں
محبوبہ کے کھلتے گلابوں جیسے ہونٹوں کا رس پیا
میری جوانی بے کار ہوگئی
جیسے خالی مکان میں دیا

بشکریہ :اجراء

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker