ادبافسانےلکھاریمہر سخاوت حسین

بڈھا گھر سے چلا گیا ۔۔ مہر سخاوت حسین

آج پھر  فیکے نے اس کو گھر سے نکلنے کا کہا تھا ،جاڑے کی رات تھی اور شدید سردی ۔ہوا بھی بہت تیز تھی ۔اَسی (80) سالہ اللہ وسایا جس کو گاﺅں کے لوگ چچا وسو کہتے تھے عشاء کی نماز کے بعد تخت پوش پر بیٹھا اپنے آپ کو گرم چادر سے ڈھانپ رہا تھا جو بار بار پیروں سے سرک جاتی تھی جو سوچوں میں گم سم تھا اس کو تین دن پہلے اس کے بڑے بیٹے فیکے (رفیق)نے گھر سے نکل جانے کو کہا تھا وہ اس پر بے حد غمزدہ تھا یہ الفاظ اس کے ذہن پر ہتھوڑے کی طرح ضرب لگا رہے تھے اُس کی آنکھیں آنسوﺅں سے تر تھیں ۔ کاش میں اپنی اولاد کے نام رقبہ نہ کرواتا ،کاش میری بیوی زندہ ہوتی۔ اس کے دماغ میں طرح طرح کے سوالات تھے جو اس کی پریشانی میں مسلسل اضافہ کیے جارہے تھے ایک دم پھرتی سے وہ سیدھا ہوا اور دعا کیلئے ہاتھ اٹھائے “یا اللہ تو رحیم ہے تو کریم ہے اے میرے رب تو فرماتا ہے کہ سفید بالوں کا میں بہت لحاظ کرتا ہوں تجھے میرے سفید بالوں کا واسطہ تو مجھے سنبھال لے میں اور نہیں جینا چاہتا میں اولاد کے ہاتھوں پھر ذلیل و رسوا نہیں ہونا چاہتا اے مالک تو مجھے اپنے پاس بلا کیوں نہیں لیتا اچانک اس کے دل میں خیال آیا اگر میں کہیں اور مر گیا تو میری قبر اماں کے ساتھ نہیں ہو گی فیکے نے مجھے نکلنے کا کہہ رکھا ہے نہ جانے صبح میرا کیا ہو گا مجھے نکال دیں گے تو میرا کیا ہو گا؟ میں اس عمر میں کہاں جاﺅں گا؟ اگر میں باہر مر گیا تو مجھے ماں کے ساتھ قبر نصیب نہیں ہو گی پتہ نہیں لوگ لاوارث سمجھ کر کیوں دفن کر دیتے ہیں حالانکہ ان کے وارث بھی زندہ ہوتے ہیں ،کیوں نہیں وارث ڈھونڈتے شاید مسلمان ہونے کا فرض ادا کر تے ہیں ۔ میری قبر پر کوئی فاتحہ بھی پڑے گا کہ نہیں کیوں کہ وہ پچھلے کئی برسوں سے اپنے قبرستان میں ایسی قبروں کو دیکھ رہا تھا جن پر لوگ محرم میں پتے بھی نہیں پھینکتے تھے اس سال جب محرم میں وہ اپنی ماں کی قبر پر گیا تھا تو دیکھا کس طرح مولوی چودھری مقبول کے والدین کی قبر پر فاتحہ پڑھ رہاتھا دعا اس قدر لمبی مانگی جیسے تمام چودھریوں کے گناہ آج ہی اللہ میاں سے معاف کرا لے گا حالانکہ گاﺅں کا میراثی شیدا اس کے پیچھے پیچھے تھا کہ میری ماں کی قبر پر بھی فاتحہ پڑھ دے مجال تھی کہ مولوی پر اثر ہوتا مولوی تو ان لوگوں کی قبروں پر بھاگ بھاگ کر جا رہا تھا جہاں اس کو کھانے پینے کا اچھا مال نظر آتا ہے۔ یہ مولوی جو مسجدوں میں اتنی لمبی تقریر یں کرتے ہیں خدا کا خوف دلاتے ہیں خود کیوں نہیں عمل کرتے یہ لاوارثوں کی قبروں پر کیوں نہیں ختم پڑتے؟ لاوارث کا لفظ آتے ہی وہ چونک گیا نہیں نہیں میں لاوارث نہیں ہوں میرے چار بیٹے ہیں فیکے نے نہ تو پڑھوایا تو ذوالفا تو ہے اور اگر ذولفے نے نہ پڑھوایا تو عباسا تو ہے۔ عباسے کا نام آتے ہی اس کو پچھلے سال کا واقعہ یاد آگیا کہ کس طرح اُس کے بیٹے نے اُس کا کندھا توڑ ڈالا تھا جس سے اُس کو ابھی بھی کبھی کبھی درد ہوتا ہے عباسا تو اپنی بیوی کا مانتا ہے بیوی کا ذکر آتے ہی اُس کو اپنی بیوی یاد آ گئی جو بار بار تلقین کرتی تھی کہ ساری زمین ان کے نام نہ کروا کچھ زمین اپنے نام بھی رہنے دے کل کو پتہ نہیں یہ ہمارے ساتھ کیا کریں اگر میں مر گئی تو تیرے ساتھ کیا ہو گا؟ وہ کہتی تھی کہ فیکے کے ابا کچھ زمین اپنے نام رکھ لے تمہیں کیا فکر ہے تمہاری کوئی بیٹی تھوڑی ہے جو حصہ چلا جائے گا زمین اپنے نام ہو تو اولاد بھی خدمت کرتی ہے ورنہ اپنی بیویوں کی مانتے ہیں میری سن فیکے کے ابا میں نے ان کو اپنی کوکھ سے جنم دیا ہے میں ان کو اچھی طرح جانتی ہوں یہ تیری کبھی خدمت نہیں کریں گے تو نے ان کے نام زمین لگوا دی تو در در کی ٹھوکریں کھائے گا۔ میری مان تو باغ والی زمین رہنے دے دیکھ بھلا میں تمہارا کیوں بُرا سوچوں گی اگر تو اﷲ نہ کرے مر بھی گیا تو زمین انہی کے نام لگ جائے گی ۔ تحصیلدار نہ بھی اُس کو یہی مشورہ دیا تھا کہ باغ کی آمدن سے تیرا خرچ چلتا رہے گا۔ “فیکے کے ابا دیکھ کل نمبردار کی گھر والی بھی آئی تھی کہہ رہی تھی کہ چچا وسو کو سمجھاﺅ کہ وہ ساری زمین پُتروں کے نام نہ لگوائے کچھ اپنے نام بھی رہنے دے تا کہ بڑھاپے میں کام آئے” فیضو جو ساتھ کے گاﺅں میں رہتا تھا اس کا بچپن کا دوست تھا اُس نے بھی کچھ زمین اپنے نام رکھ لی تھی اُس کی اولاد اس ڈر سے خدمت کرتی تھی کہ کہیں ابا زمین چودھریوں کو نہ بیچ دے حالانکہ پورا گاﺅں ان کو حرامی اور لفنگا کہتا تھا کئی بار فیضو نے زمین فروخت کرنے کی بھی دھمکی دی تھی جو کارگر ثابت ہوئی تھی کاش میں بھی فیضو کی طرح کر لیتا اس طرح مجھے ذلیل تو نہ ہونا پڑتا۔ رات کافی گزر چکی تھی باہر کتوں اور گیڈروں کی ملی جلی آواز میں فیکے اور اُس کی بیوی کی آوازیں تھیں فیکے کی بیوی کہہ رہی تھی کہ تُو نے بڈھے کو گھر سے نہ نکالا تو میں گھر سے چلی جاﺅں گی۔ دوسری طرف فیکا کہہ رہا تھا فکر نہ کر میں نے کہہ دیا ہے وہ صبح ہوتے ہی چلا جائے گا اس کے اور بھی بیٹے ہیں اُن کے پاس کیوں نہیں جا کر مرتا جس طرح آوازیں بلند ہوئی تھیں اسی طرح کم ہوتی چلی گئیں لیکن بڈھے کی زندگی کا روگ بن گئیں وہ صبح کہاں جائے گا اولاد کے بغیر سوائے دور کے بھتیجے کے کوئی نہیں تھا پچھلی دفعہ بھی جب اس کی اولاد نے اُسے گھر سے نکالا تھا وہ اسی کے پاس جا کر رہا تھا۔
فیکے کو کیا ہو گیا ہے اس کے دماغ نے کروٹ بدلی ایک روٹی تو لوگ کتے کو بھی ڈال دیتے ہیں میں تو آخر ان کا باپ ہوں فیکا کیوں نہیں سوچتا وہ کتا سمجھ کے ہی مجھے روٹی ڈال دے میں پڑا رہوں گا تھی گنے کے کھیتوں سے ہوا کا شور بلند ہو رہا تھا اور دور کہیں مرغے کی بے وقت اذان سنائی دے رہی تھی مگر اﷲ وسایا اپنی سوچوں کے کرب میں مبتلا تھا اور ہھر صبح ہو گئی ۔ دن کافی چڑھ چکا تھا اُس کا کمرہ ابھی تک بند تھا کیوں کہ وہ صبح کی نماز مسجد میں ادا کرتا اور نماز کے بعد فوراً واپس کمرہ میں آ کر قرآن مجید کی تلاوت کرتا اور کمرے کا دروازہ کھول دیا کرتا آج دروازہ بند تھا فیکے کی بیوی نے شکر ادا کیا کہ بڈھا گھر سے خود ہی نکل گیا ادھر فیکے نے سکون کا سانس لیا ۔ کمرے میں داخل ہوا تو باپ چارپائی پر سو رہا تھا ۔وہ غصہ سے لال پیلا ہو گیا اور زور سے کہنے لگا “ابا توں ابھی تک یہی پڑا ہے نکلا نہیں تجھے میں نے کہا تھا کہ صبح تک نکل جانا پر تو سنتا ہی نہیں لگا ہے تجھے دھکے مار کر نکالنا پڑے گا” یہ کہتے ہوئے فیکے نے اپنے باپ کے کندھے کو جھنجھوڑا تو وہ کب کا اُس کے گھر سے نکل چکا تھا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker