وطن عزیز میں بے موسمی موسلادھار بارشوں اور ہماری حکومتی ناقص حکمت عملیوں کی وجہ سے سے سیلاب نے اس بار خوب دھما چوکڑی مچا رکھی ہے۔ ساون کی بارشوں کی دعائیں مانگنے والے بھی بارشوں کو روکنے کیلئے اذانیں دیتے اور دعائیں مانگتے دکھائی دیتے ہیں۔ حالیہ سیلاب نے وسیع پیمانے پر تباہی مچائی ہے لوگوں کے کھیت کھلیان اور مال مویشی اموال کے ساتھ ساتھ ان کے گھر بھی بہہ گئے ہیں۔
بستیوں کی بستیاں تباہ و برباد ہو گئی ہیں جو اب بستے بستے بسیں گی۔ حکومتی امداد تو ہمیشہ سے اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہوتی ہے شکر ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کو بھی عقل آئی ہے اور وہ بھی سیلابی دوروں پر نظر آ رہے ہیں۔ اگرچہ اس قسم کے فضائی زمینی اور ہوائی دورے فوٹو سیشن تک ہی محدود ہوتے ہیں پھر بھی ”یہاں تک تو پہنچے یہاں تک تو آئے“ والی صورتحال حوصلہ افزائی قرار دی جا سکتی ہے۔
بعض سیاسی جماعتوں کے فلاحی ونگ خاصے فعال ہیں اور سیلاب زدہ علاقوں میں امدادی کام میں معاون ثابت ہو رہے ہیں الخدمت فاؤنڈیشن اس حوالے سے خاصی فعال ہے سماجی تنظیمیں اور این جی اوز بھی کہیں کہیں دکھائی دے رہی ہیں۔ تاہم جس لحاظ سے سیلاب نے تباہی مچائی ہے اس لحاظ سے ابھی ان متاثرین تک پوری طرح امداد نہیں پہنچ پائی ایک تو ان علاقوں تک پہنچنا کافی دشوار اور ناممکن ہے اور دوسرا امداد حاصل کرنے کیلئے پیشہ ور اور نو سربازوں کے گروہ بھی میدان میں اتر آئے ہیں جن کے فوری تدارک اور حوصلہ شکنی کیلئے انتظامیہ ہی کچھ کر سکتی ہے۔ ہمارے بعض بے حس تاجروں نے اس موقع پر مفت اشیاء متاثرین میں تقسیم کرنے کی بجائے ضروری اشیاء کی قیمتیں ہی بڑھا دی ہیں۔ سبزیوں کے ریٹ بڑھ گئے ہیں اور بہانہ سیلاب کی وجہ سے راستوں کی بندش کا بنایا جا رہا ہے اس وقت وقتی خیمہ بستیاں آباد کرنے کیلئے خیموں کی زیادہ ضرورت ہے اور تاجر برادری نے ان کی قیمتیں بھی ڈبل کر دی ہیں۔ کاش ہم لوگ دوسروں کی مصیبت اور پریشانی سے فائدہ اٹھانے کی بجائے ان کی مدد کیلئے کچھ کرتے تو آج ہمیں اس قسم کی قدرتی آفات کا بھی سامنا نہ کرنا پڑتا۔
سیلاب کو روکنے اور اس کی تباہی اور نقصانات کو کم سے کم کرنے کیلئے ڈیم بہت ضروری ہیں۔ قانون ساز اداروں میں کوئی اس قسم کی قانون سازی کرنی چاہیے کہ ہر دور حکومت میں ڈیم بنانے پر توجہ دی جائے اور آنے والی نئی حکومت بھی اس کام کو جاری و ساری رکھے اور ان منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ہمارے حکومتی اداروں اور وزراء کی وزارتوں کی کارکردگی بہتر کرنے کیلئے بعض دوسرے اداروں کی طرح ریٹنگ سے مشروط کر دیا جائے تاکہ ہمارے سیاستدان محض نعرہ بازی کی سیاست ہی نہ کرتے رہیں بلکہ حکومت میں آ کر کچھ کر کے بھی دکھائیں اگر آج ہماری موجودہ اور ماضی کی حکومتوں نے کوئی واضح حکمت عملی مرتب کی ہوتی تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتے اداروں اور وزارتوں کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار ان کے سربراہوں کو ٹھہرایا جائے اور آئندہ کیلئے ان کی خدمات سے پرہیز کیا جائے ناکہ یہ نااھل ہر حکومت کے ہدی خاں ہوں۔
ہماری اعلیٰ عدالتوں کو بھی متعلقہ اداروں اور ذمہ داروں کو فرائض میں غفلت برتنے پر کٹہرے میں لانا چاہیے کہ شاید اس طرح سے ہی مستقبل میں کچھ اچھی چیزیں سامنے لائی جا سکیں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط نے بھی حکومت اور عوام کے کڑاکے نکال دہیے ہیں اور مظلوم عوام مہنگی بجلی کے بلوں سے بلبلاتی نظر آ رہی ہے
اب بھی اصلاح احوال کی طرف توجہ نہ دی گئی تو یہ حادثات و سانحات اسی طرح رونما ہوتے رہیں گے اور بیچاری عوام اپنے جان و مال کی اسی طرح قربانی دیتے ہوئے ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کے مفادات پر قربان ہوتی رہے گی۔
آئے ہے بیکسی عشق پہ رونا غالب
کس کے گھر جائے گا سیلاب بلا میرے بعد
فیس بک کمینٹ

