کراچی: ہاکی لیجنڈ اولمپیئن منظور حسین جونیئر حرکت قلب بند ہونے کے باعث لاہور کے نجی اسپتال میں انتقال کرگئے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور ہاکی لیجنڈ اولمپیئن منظور حسین جونیئر کو صبح چھ بجے اچانک دل کی شدید تکلیف کے باعث لاہور کے شالیمار اسپتال کے ایمرجنسی وارڈ میں لایا گیا تھا، جہاں وہ دوران علاج دم توڑ گئے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 64 سالہ ہاکی لیجنڈ اولمپیئن کو پہلے ہی تین اسٹنٹ ڈالے جا چکے تھے۔
اولمپیئن منظور حسین جونیئر پاکستان ہاکی کا سرمایہ تھے۔ ان کو اپنے زمانے میں گولڈن پلیئر کے خطاب سے نوازا گیا۔منظور حسین جونیئر کی قیادت میں پاکستان نے واحد جونیئر ورلڈ کپ 1979 میں جیتا ۔انہوں نے قومی ٹیم کی نمائندگی کرتے ہوئے 1984 کے لاس اینجلس اولمپکس میں گول میڈل کا اعزاز حاصل کیا۔منظور جونیئر نے بارسلونا اور لاس اینجلس اولمپکس میں بالترتیب کانسی اورسونیکے تمغے جیتے، وہ اینجلس اولمپکس میں قومی ہاکی ٹیم کے کپتان بھی رہے۔1978 اور 1982 کی فاتح قومی ہاکی ٹیم کا بھی حصہ رہے۔ 1982 کے ورلڈ کپ فائنل کے ہیرو کے طور پر دنیائے ہاکی آج بھی پہچانتی ہے.منظور جونیئر کو 1984 میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔
لاہور کے نجی اسپتال نے اولمپیئن منظور جونیئرکی میت 2 گھٹنے بل کی وصولی تک روکے رکھی اور 4 لاکھ وصول کرنے کے بعد لواحقین کو میت لے جانے کی اجازت دی گئی۔
لواحقین کے مطابق نجی اسپتال نے 4 لاکھ روپے وصول کرکے منظور جونیئر کی میت حوالے کی ہے۔لواحقین کا کہنا تھاکہ منظور جونیئر کا جسد خاکی 2 گھنٹے تک اسپتال میں پڑا رہا، اسپتال انتظامیہ کو پیسے دینے کا وعدہ کرکے باڈی دینےکا کہا تھا لیکن اسپتال انتظامیہ نے کوئی بات نہ سنی۔
لواحقین نے بتایا کہ بینکوں سے پیسے لانے میں وقت لگتا ہے اور میت 4 لاکھ روپے وصول کرکے حوالے کی گئی۔

