میں کئی دن سے اس موضوع پر لکھنے کا سوچ رہا تھا۔ مجھے کسی سے ڈر نہیں لگتا لیکن میں بےمقصد مہم جوئی کے خلاف ہوں۔ ہمارا معاشرہ مذہبی طور پر ایک تنگ نظر معاشرہ ہے ۔ اس لیے اس موضوع پر لکھتے ہوئے احتیاط لازم ہے۔ مذہب روح کو کائنات کی سب سے بڑی حقیقت مانتا ہے یعنی روحانیت پسند ہے۔ روحانیت پسندی کا مطلب یہ بھی ہے کہ روح ہمیشہ باقی رہنے والی ہے۔ مذہب میں پرستش لازم ہے۔ یعنی کسی خدا کی عبادت۔ ہمارے ملک میں رائج سب سے بڑے مذہب کے پیروکار یکتا پرست ہیں یعنی وہ ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اسے وحدہ لاشریک مانتے ہیں۔ ہر روحانیت پسند اپنے خدا کی پرستش کے بارے میں کوئی نہ کوئی عقیدہ رکھتا ہے۔دوسری طرف اشتراکیت عقیدہ نہیں بلکہ ایک سائنسی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی نظریہ ہے۔
اہل مذہب کا خیال ہے کہ اشتراکیت ایک عقیدہ ہے یعنی اشتراکی لوگ مادے کی پرستش کرتے ہیں جو بالکل غلط ہے۔ مادہ پسندی اور مادہ پرستی میں بہت فرق ہے۔ اشتراکی ہونے کے لیے روح کی حقیقت سے انکار کرنا ضروری نہیں ہے۔ اہل مذہب کی جانب سے اشتراکیت پر تنقید ہمیشہ اسی نقطہء نظر سے کی جاتی ہے۔ کارل مارکس ملحد تھے لیکن کسی مارکسسٹ کے لیے ملحد ہونا ضروری نہیں ہے ۔ مارکسزم چونکہ ایک عقیدہ نہیں ہے، ایک مارکسسٹ اپنے اور دوسروں کے نظریات کو ہمیشہ ایک تنقیدی نظر سے دیکھتا ہے۔ دوسری طرف اہل مذہب کی اکثریت کے ہاں ان کے عقیدے پر تنقید کا مطلب توہین ہوتا ہے۔ توہین کا معیار اہل مذہب کے ہاں مختلف ہے لیکن یہ ہے۔ اس لحاظ سے اہل مذہب کی اکثریت تنگ نظر ہوتی ہے۔ دوسری جانب اشتراکی ہمیشہ کشادہ دل ہوتے ہیں۔
اہل مذہب چونکہ تعصب کی عینک لگا کر اشتراکیت کا جائزہ لیتے ہیں اس لیے وہ ہمیشہ اشتراکیت اور الحاد کو گڈمڈ کر دیتے ہیں۔ اینگلز نے کہا تھا کہ مذہب، سیاست اور فنون لطیفہ سے پہلے ہمیں انسان کی معیشت کو درست کرنا ہو گا۔ یہ ایک جائز مطالبہ ہے۔ دور حاضر میں اشتراکی جدوجہد کا مطلب طبقاتی جدوجہد یعنی طبقات کا خاتمہ کرنے کی جدوجہد ہے۔ طبقاتی تقسیم آفاقی حقیقت ہے۔ میرا تعلق بچوں کے کینسر سے ہے۔ میں روزانہ ہر دوسری سائنسی تحقیق کینسر کے علاج میں طبقاتی تقسیم کے مسائل پر پڑھتا ہوں۔ اہل مذہب مارکسزم کو جھٹلاتے وقت طبقاتی تقسیم کو بھی جھٹلا دیتے ہیں اور اصرار کرتے ہیں کہ طبقاتی تقسیم سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی۔ یہ بہت بڑی خودفریبی ہے۔
اہل مذہب کیپیٹلزم یا سرمایہ داری کو برائی نہیں سمجھتے۔ ان کے نزدیک سرمایہ داری کا مطلب محض پیسوں کی سرمایہ کاری ہوتا ہے جس سے پیسہ حرکت میں رہتا ہے، خودبخود ترقی ہوتی رہتی ہے اور معاشی خوشحالی رونما ہو جاتی ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ مذہب میں سرمایہ داری ہمیشہ سے رائج ہے اس لیے یہ قابل قبول ہے۔ یہ بہت بڑا مغالطہ ہے۔ مارکس کے نزدیک سرمایہ داری کا مطلب محنت کش طبقے کا استحصال ہے۔ آج دنیا میں چند فیصد امیرترین افراد کے پاس دنیا کی تمام دولت مجتمع ہو چکی ہے اور اہل جہاں کی اکثریت بنیادی مادی ضروریات سے محروم ہے۔ اس حقیقت سے انکار کرنے والا یقیناً کوئی فاطر العقل شخص ہو گا۔
مذہبیوں کی اکثریت مباحثے کو پسند نہیں کرتی اگرچہ مباحثہ کرنے کی دعویدار ضرور ہوتی ہے۔ ان کے ہاں دوسروں کو قبول کرنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک دوسرے کو بھی بدعقیدہ سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف مارکسزم خود کو مادیت تک محدود رکھتا ہے اور دنیا کے مسائل کو مادی لحاط سے حل کرنے کا خواہاں ہوتا ہے۔ وہ سرمایہ داری کے خلاف ہوتا ہے لیکن متعصب ہرگز نہیں ہوتا اور کھلے ذہن کے ساتھ مکالمہ کرتا ہے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ معاشرتی تنگ نظری سرمایہ دارانہ یا طبقاتی نظام کی پیدا کردہ ہے۔ مذہبی افراد سرمایہ داری کا تحفظ کر کے سرمایہ داروں کے ہاتھوں میں کھیلتے ہیں۔انہیں سرمایہ داری کی حقیقت کو سمجھنے اور نظریہ ء اشتراکیت پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے انہیں تعصب کی عینک اتارنا ہو گی۔
فیس بک کمینٹ

