کالمکتب نمالکھاریمسعود اشعر

یہ لاہور پر جان چھڑکنے والے۔۔آئینہ/مسعوداشعر

آج کل ہمارا شہر لاہور دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ ایک طرف کرکٹ کا میلہ سجا ہوا ہے تو دوسری طرف ادب اور ادیبوں کا میلہ۔ اور انہی دنوں اس شہر بے مثال پر ایک اور کتاب بھی سامنے آ گئی ہے۔ یہ کتاب شہر لاہور کی تاریخ، اس کے قدیم و جدید تاریخی آثار یا اس میں رہنے والوں کی بول چال اور ان کے رہن سہن کے بارے میں نہیں ہے، بلکہ اس بارے میں ہے کہ اردو ادب کی تین نامور ہستیوں نے اس شہر کو کیسے دیکھا‘ اور عمر بھر کس پیار اور کس چائو سے اسے یاد کیا۔ کتاب کا نام رکھا ہے ”لاہور: شہر با کمال‘‘۔ یوں تو پطرس بخاری نے لکھا تھا ”لاہور کے کاٹے کا علاج نہیں‘ یہ ہم سب کا معشوق ہے اور مرتے دم تک معشوق رہے گا۔‘‘ اور عصمت چغتائی ایک دو مرتبہ ہی یہاں آئیں، لیکن انہوں نے لکھا ”لاہور کتنا خوبصورت تھا۔ آج بھی ویسا ہی ہے، شاداب، قہقہے لگاتا ہوا۔ بانہیں پھیلا کر آنے والوں کو سمیٹ لینے والا۔ ٹوٹ کر چاہنے والے بے تکلف زندہ دلوں کا شہر۔ پنجاب کا دل۔ لاہور کتنا سلونا لفظ ہے۔ لاہور کی فضا میں نور گھلا ہوا ہے۔‘‘ اور اگر تاریخ میں دور تک چلے جائیے تو ملکہ نور جہاں کا وہ مشہور شعر بھی یاد آ جاتا ہے‘ جو ضرب المثل بن چکا ہے۔ اور بھی پیچھے جائو تو بقول شمس الرحمن فاروقی، مسعود سعد سلمان لاہور کی یاد میں آٹھ آٹھ آنسو بہاتا نظر آتا ہے۔ وہ اسے ”لھا نور‘‘ کہتا تھا۔ خود فاروقی صاحب بھی جب اس شہر کو یاد کرتے ہیں توجذبات پر قابو نہیں رکھ پاتے ۔ انہوں نے اس کتاب کا ”پیش لفظ‘‘ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ”یوں تو ہمارے ادب کے مراکز متعدد ہوئے ہیں اور ہر ایک کی اپنی متانت ہے اور اپنا طنطنہ بھی۔ ہمارے زمانے میں حیدر آباد، ہم سے پہلے رامپور، مرشد آباد، عظیم آباد اور کئی ان سے چھوٹے لیکن توانائی اور رنگ سے بھرے ہوئے‘ لیکن لاہور والی بات کسی میں نہ آئی۔ محمد حسین آزاد اور الطاف حسین حالی کے زمانے میں بھی لاہور ادبی مرکز تھا، نئی باتوں کا سرچشمہ تھا‘ لیکن اس لاہور میں وہ بات نہ تھی جو بیسویں صدی کی دوسری چوتھائی سے کچھ پہلے روشنی دینے لگی تھی۔ اور وہ روشنی کچھ معطر معطر سی بھی تھی۔ جس جس درجے میں وہ بات بڑھی اسی درجے میں لاہور کے عشاق میں اضافہ ہوتا رہا۔ اور جیسے عاشق لاہور کو نصیب ہوئے (اور میں تو کہتا ہوں کہ اب بھی ہیں) ویسے کم از کم ادب کے میدان میں دلی کو بھی نصیب نہ ہوئے۔ کچھ تو بات یہاں ہو گی جو ‘کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جاست ‘والا رمز رکھتی ہو گی؟‘‘
محمودالحسن نے اس شہر با کمال کے تین عشاق کو اس کتاب میں جمع کر دیا ہے۔ یہ عشاق ہیں کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور کنہیا لال کپور۔ یہ تینوں اس شہر سے والہانہ عشق رکھنے والے ہیں اور ان کا دکھ یہ ہے کہ ان کا یہ محبوب شہر ان سے چھوٹ گیا اور دوبارہ اسے دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ اس کتاب سے کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور کنہیا لال کپور کے اس شہر سے جذباتی لگائو کا پتا تو چلتا ہی ہے، ساتھ ہی تقسیم سے پہلے اس کھلے ڈلے، روادار اور کشادہ تہذیبی و ادبی ماحول کے وہ نقوش بھی ملتے ہیں جو اس شہر کا خاصہ تھے۔ اس کتاب میں جہاں ان نامور ادیبوں کی لاہور سے محبت کا ذکر آیا ہے، وہاں اس شہر کی وہ فضا بھی ہمارے سامنے آ جا تی ہے جس میں تخلیق کاروں کی بے مثل حوصلہ افزائی ہوئی۔ اس ضمن میں شاہد احمد دہلوی کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ”وہ جو کسی نے کہا ہے کہ آرٹسٹ کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ اس کی تصدیق لاہور میں ہوتی ہے۔‘‘
کرشن چندر نے اپنے افسانے ”دو فرلانگ لمبی سڑک‘‘ میں لاہور کو اردو ادب کا ایک لازوال کردار بنا دیا ہے لیکن ان کے کئی افسانوں میں لاہور کے کتنے ہی محلوں اور ان کی گلیوں کا ذکر اتنی چاہت کے ساتھ کیا گیا ہے کہ پڑھنے والا خود اپنے آپ کو بھی ان گلیوں میں گھومتا پھرتا محسوس کرتا ہے۔ خیر، افسانہ نگاروں کی تحریروں میں اپنے شہر کا حوالہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے کہ لکھنے والا بہرحال اپنے افسانے کا ماحول اسی شہر یا اسی مقام سے بنائے گا جس کا وہ ذکر کر رہا ہے۔ لیکن کرشن چندر تو بمبئی میں بیٹھے جیسے ہر وقت لاہور کو یاد کرتے رہتے تھے۔ وہ جسمانی طور پر تو بمبئی میں رہتے تھے مگر ان کا دل اور ان کی روح لاہور کے گلی کوچوں کی سیر کرتی تھی۔ وہ نقوش کے ایڈیٹر محمد طفیل سے ملتے ہیں تو ان سے لاہور کے بارے میں تابڑ توڑ اتنے سوال کرتے ہیں کہ محمد طفیل کو ایسا لگتا ہے کہ ابھی وہ رو نا شروع کر دیں گے۔
راجندر سنگھ بیدی کا بھی یہی حال تھا۔ ان کا یہ جملہ تو خاصا مشہور ہوا تھا کہ ”عشق کے لئے لاہور سے بہتر اور کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘ ان کے افسانوں میں بھی لاہور جگہ جگہ نظر آتا ہے۔ بیدی اس زندگی کو یاد کرتے ہیں جو انہوں نے لاہور میں گزاری۔ اس کے ساتھ ہی اس شہر کو بھی یاد کرتے ہیں۔ تقسیم کے ہنگاموں میں وہ برے حال جان بچا کر لاہور سے چلے گئے تھے لیکن لاہور ان کے اندر سے نہیں نکلا تھا۔ یہ لاہور ان کے افسانوں میں زندہ رہا۔ ان کے دوست ڈاکٹر نذیر احمد نے لاہور کے ساتھ راجندر سنگھ بیدی کا رشتہ اس طرح بھی برقرار رکھا کہ وہ بیدی کو لاہور کی تِلّے والی جوتی بھیجتے رہتے تھے‘ اور بیدی اس کے جواب میں لکھتے ”ڈاکٹر صاحب آداب، آپ کی جوتی ملی۔ سر تسلیم خم‘‘۔
کنہیا لال کپور عمر بھر لاہور کو ہی یاد نہیں کرتے رہے بلکہ وہ اپنے استاد پطرس بخاری کی اس محبت اور شفقت کو بھی یاد کرتے تھے جو انہیں پطرس بخاری سے ملی تھی۔ تقسیم کے بعد وہ لاہور سے مشرقی پنجاب کے جس شہر میں آباد ہوئے اس کا نام ہے موگا۔ اب کہاں ہنگامہ پرور لاہور اور کہاں سنسان بیابان موگا۔ وہ ان دونوں شہروں کا موازنہ ہی کرتے رہتے تھے۔ ان دونوں شہروں کا اور ان دونوں شہروں میں رہنے والوں کا۔ وہ آخر وقت تک لاہور سے جانا نہیں چاہتے تھے۔ اس لئے فکر تونسوی کے بقول انہوں نے کئی مرتبہ اپنا سامان باندھا اور کئی مرتبہ اسے کھول دیا۔
اس کتاب میں صرف ان تین نامور ادیبوں کی لاہور کے ساتھ بے پناہ محبت کی تفصیل ہی بیان نہیں کی گئی ہے بلکہ اس بہانے ان تینوں کے شخصی خاکے بھی کتاب پڑھنے والوں کے سامنے لا رکھے گئے ہیں۔ کرشن چندر کی شخصیت میں محبوبیت کی جو شان تھی‘ اسے مختلف لکھنے والوں کی زبانی بیان کیا گیا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی کا حلیہ بھی ایسے بیان کیا گیا ہے کہ وہ جیتے جاگتے ہمارے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ کنہیا لال کپور کا منحنی جسم اور لمبا قد پطرس بخاری کی حس مزاح کا سبب بن جاتا ہے۔ ان تینوں کی عادات و اطوار بھی مصنف کی نظروں سے دور نہیں رہتیں‘ جو ایک محقق کے طور پر بھی سامنے آتے ہیں۔ کرشن چندر کے بارے میں کس نے کیا لکھا؟ اور کہاں لکھا؟ راجندر سنگھ بیدی کی زندگی اور شخصیت کو کس نے کیسے پیش کیا؟ کنہیا لال کپور کو کس نے کیسے پہچانا؟ اس سے بھی ہم لطف اندوز ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب لاہور شہر کے بارے میںکرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی اور کنہیا لال کپورکی لازوال محبت کی داستان ہی نہیں ہے بلکہ ان محبت کرنے والوں کی اپنی زندگی کی کہانی بھی ہے۔ اس کے علاوہ کتاب میں خوشونت سنگھ، دیویندر ستیارتھی‘ اوپندر ناتھ اشک، فکر تونسوی اور کئی دوسرے ادیبوں سے بھی ہماری ملاقات ہوتی ہے۔
لاہور ایسا شہر ہے جو کسی نہ کسی بہانے ہمارے لکھنے والوں کو یاد آتا رہتا ہے۔ ذرا یاد کیجئے، اردو اور انگریزی میں اس شہر پر کتنی کتابیں لکھی گئی ہیں اور کس کس معروف اور غیر معروف لکھنے والے نے اس شہر پر نہیں لکھا ہے۔ اور اس شہر پر کسی نہ کسی پہلو سے آج بھی لکھا جا رہا ہے۔ یہ کتاب اس کی ایک مثال ہے۔ لاہور کے بارے میں پنجابی کی ایک کہاوت ہے ”جنھے لاہور نہیں ویکھیا، وہ جمیا ای نئیں‘‘۔ یہ محاورہ دہلی پہنچتا ہے اور ہندی کا ایک ادیب اصغر وجاہت اس نام سے ہندی میں ڈرامہ لکھ دیتا ہے۔ خاصا دلچسپ ڈرامہ ہے۔ دیکھیے ناں، یہ لاہور کی شہرت ہی تو ہے جو ایک ہندی کے ادیب سے بھی ایسا ڈرامہ لکھوا لیتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker