کالملکھاریمسعود اشعر

گاندھی جی کے بندر اور ہماری نیک نامی۔۔آئینہ/مسعود اشعر

مہاتما گاندھی کے تین بندر مشہور تھے۔ یہ بندر ساتھ ساتھ بیٹھے ہیں۔ ایک بندر نے دونوں ہاتھوں سے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ دوسرے نے دونوں ہاتھوں سے اپنے کان بند کئے ہوئے ہیں۔ تیسرے نے دونوں ہاتھوں سے اپنا منہ بند کیا ہوا ہے۔ اس کے معنی یہ کہ برا نہ دیکھو، برا نہ سنو اور برا نہ بولو۔ یعنی گاندھی جی اپنی قوم کو یہ سبق دے رہے تھے۔ ہندوستان میں گاندھی جی کے ان بندروں کا بہت حوالہ دیا جاتا رہا ہے۔ پچھلے دنوں یہ حوالہ ششی تھرور نے بھی دیا لیکن کسی اور ہی معنی میں۔ اب یہ ششی تھرور کون ہیں؟ پہلے ان کے بارے میں بات ہو جائے۔ ان کا تعلق ہے تو جنوبی ہندوستان کی ریاست کیرالہ سے لیکن اپنی شکل و صورت اور چہرے کے تیکھے تیکھے نقوش کی وجہ سے وہ شمالی ہندوستان کے نظر آتے ہیں۔ انہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ جنوبی ہندوستان کے بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے جب دو سال پہلے دلی کے ایک ہوٹل میں ان کی بیوی کی خود کشی یا قتل کی خبر آئی تو اس میں ہماری ایک پاکستانی خاتون کو بھی ملوث کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ وجہ شاید یہ تھی کہ ہماری یہ خاتون ششی تھرور کو ٹیلی فون کرتی رہتی تھیں۔ لیکن شکر ہے جلد ہی ان کا نام اس واقعے سے نکل گیا۔ قتل یا خود کشی کامقدمہ اب بھی چل رہا ہے۔ ششی تھرور سے ہمارا پہلا تعارف آج سے تیس چالیس سال پہلے مرحوم ستار طاہر کے توسط سے ہوا تھا۔ ستار طاہر کتابوں کے رسیا تھے۔ بہت پڑھتے تھے۔ اور جو کتاب انہیں پسند آتی وہ اپنے دوستوں کو بھی پڑھواتے تھے۔ ان دنوں ششی تھرور کا ناول The Great Indian Novel شائع ہوا تھا۔ یہ شاید ان کا پہلا اور آخری ناول تھا کیونکہ بعد میں انہوں نے سیاست وغیرہ پر کتابیں لکھیں۔ ان کی تازہ کتاب ہندوستان میں انگریزوں کے طرزِ حکمرانی کے بارے میں ہے۔ خوب خبر لی ہے انہوں نے انگریزوں کی۔ جب ان کا پہلا ناول شائع ہوا‘ اس وقت وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ وہ ناول اس وقت کے سیاسی حالات پر تھا۔ اندرا گاندھی اس میں واضح طور پر نظر آتی تھیں۔ یہ کوئی اچھا ناول نہیں تھا مگر اس سے ششی تھرور مشہور ہو گئے۔ آج کل وہ کانگریس میں ہیں اور ہندوستانی پارلیمنٹ کے رکن ہیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اور نریندر مودی کے سخت مخالف ہیں۔ ان کے خلاف وہ مضامین لکھتے رہتے ہیں۔ ہندوستان کی تازہ صورت حال کے حوالے سے انہوں نے ان بندروں کا ذکر کیا ہے۔ گاندھی جی اور ان کے بندر پرلوک سدھار چکے ہیں۔ ایک دن گاندھی جی بھگوان سے پوچھتے ہیں ”ہے پرمیشور، میرے بندر کس حال میں ہیں؟‘‘۔ بھگوان جواب دیتے ہیں: وہ بڑے مزے میں ہیں‘ اندھا بندر عدلیہ بن گیا ہے‘ کانوں سے بہرہ بندر حکومت بن گیا ہے اور گونگے بندر نے عوام کی شکل اختیار کر لی ہے۔


یہ تو تھی ششی تھرور کی اپنی حکومت اور اپنے ملک کے سیاسی حالات کے مطابق تشریح۔ اب اگر آپ چاہیں تو اسے اپنے اوپر بھی منطبق کر سکتے ہیں۔ لیکن یہ سوچ لیجئے کہ ہندوستان میں بھی اس قسم کی تشریح پر ملک دشمنی اور غداری کے مقدمے بن جاتے ہیں۔ پچھلے ہی دنوں پچاس کے قریب دانشوروں، مصنفوں، فلم پروڈیوسروں ڈائریکٹروں اور اداکاروں نے اپنے وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک کھلا خط لکھا۔ اس خط میں انہوں نے اپنے وزیر اعظم کو یاد دلایا کہ آپ کے ملک میں برسر عام مسلمانوں اور دلتوں (نیچی ذات کے ہندوؤں) کو جان سے مارا جا رہا ہے۔ کسی پر گائے کا گوشت کھانے کا الزام لگایا جاتا ہے تو کسی پر ممنوعہ مندر میں داخل ہونے کا۔ پہلے اس کی افواہ اڑائی جاتی ہے۔ اس کے بعد جنونی ہندوؤں کا ہجوم ڈنڈے اور لاٹھیاں لے کر اس شخص پر پل پڑتا ہے اور اسے جان سے مار کر ہی دم لیتا ہے۔ ہریانہ اور جھاڑ کھنڈ جیسی ریاستوں میں یہ واقعات عام ہو چکے ہیں۔ ہریانہ میں پہلو خاں کا قتل اس کی واضح مثال ہے۔ جنونی ہندوؤں کے ہجوم نے اس بوڑھے شخص کو ڈنڈے مار مار کر ہلاک کر دیا۔ اور جب عدالت میں اس کا مقدمہ چلا تو کئی سال کی سماعت کے بعد ملزموں کو بری کر دیا گیا‘ کیونکہ پولیس اس واقعے کے گواہ ہی پیش نہیں کر سکی تھی۔ بھارت میں یہ واقعات عام ہو رہے ہیں۔ عدالت اندھا بندر بن چکی ہے اور حکومت کانوں سے بہرا بندر۔ عوام کی زبان بند ہو گئی ہے۔ ان پچاس دانشوروں کے کھلے خط کا یونانی المیہ ڈرامے والا حشر یہ ہوا کہ ان کی شکایت پر کان دھرنے کے بجائے الٹا ان کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا گیا ہے۔ الزام یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے ملک کو بدنام کر رہے ہیں۔ گویا وہ جنونی لوگ جو انسانوں کو جان سے مار رہے ہیں، وہ تو اس ملک کو نیک نام کر رہے ہیں مگر ان کے خلاف احتجاج کرنے والے ہندوستان کو بدنام کر رہے ہیں۔ حکومت کے اس جابرانہ اقدام کے خلاف وہاں احتجاج تو شروع ہو گیا ہے مگر دیکھیے موجودہ حالات میں ہوتا کیا ہے۔ ان دنوں تو نریندر مودی کی گڈی چڑھی ہوئی ہے۔ کچھ ہوتا نظر تو نہیں آتا۔


ادھر ہمارے وزیر اعظم عمران خان پاکستان کی نیک نامی کے لیے دنیا بھر میں اس کی شہرت کو چار چاند لگانے میں مصروف ہیں۔ جہاں بھی جاتے ہیں سب سے پہلے وہاں کے لوگوں کو یہی بتاتے ہیں کہ کرپشن اور بدعنوانیوں میں ان کا ملک ساری دنیا میں اول نمبر پر ہے۔ یہ کرپشن ہمارے سماجی ڈھانچے کی رگ رگ میں پیوست ہو چکی ہے۔ اگر ہم نے آج تک ترقی نہیں کی تو اس کی وجہ یہی کرپشن ہے۔ عمران خان کی اس محنت شاقہ کی وجہ سے دنیا کا شاید ایک آدھ ہی ملک ایسا ہو گا جو ہماری اس خوبی اور اس نیک نامی سے اب تک واقف نہ ہو گیا ہو۔ عمران خان آج کل چین کے دورے پر ہیں۔ اول تو انہوں نے دل کھول کر چین کی تعریف کی ہے کہ اس نے تین تین چار چار دن میں کرپشن کرنے والوں کا قلع قمع کر دیا ہے (اس کے باوجود وہاں ایک آدمی کے گھر سے کئی کلو سونا برآمد ہو گیا) پھر افسوس کیا کہ اب تک وہ خود ایسا نہیں کر سکے ہیں۔ انہوں نے کہا، وہ اپنے ملک میں پانچ سو آدمیوں کو جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ حکومت میں آنے کے بعد انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ پچاس آدمی جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ اب وہ پچاس سے پانچ سو ہو چکے ہیں۔ ہو سکتا ہے حالات کے ساتھ ان کی تعداد اور بھی بڑھ جائے کیونکہ پچاس کے قریب تو اب تک جیل کی ہوا کھا ہی رہے ہیں۔ جنہیں وہ کرپشن کا سب سے بڑا مجرم سمجھتے تھے وہ تو سارے کے سارے ہی جیلوں میں بند ہیں۔ اب چین سے واپس آنے کے بعد انہیں یہ پانچ سو افراد بھی تلاش کرنا پڑیں گے۔ ہم تو یہ سوچ سوچ کر ہی دہشت زدہ ہو جاتے ہیں کہ عمران خان حکومت سنبھالنے کے بعد جن ملکوں میں بھی گئے ہیں‘ وہاں اپنے ملک کی کرپشن اور بدعنوانیوں کا اتنا چرچا کیا ہے کہ وہاں کا عام آدمی بھی پاکستان کی حالت زار پر آٹھ آٹھ آنسو بہاتا ہو گا۔ اس لحاظ سے ہمارے وزیر اعظم اپنے وطن عزیز کی خوب نیک نامی کر رہے ہیں۔ وہ مانتے ہیں کہ چین میں بھی کرپشن تھی (بلکہ عالمی ادارے آج بھی چین میں ہونے والی کرپشن کا ذکر کرتے ہیں) لیکن کیا چین نے کبھی دوسرے ملکوں میں جا کر اس کا اتنا تذکرہ کیا؟ اس کا تذکرہ کرنے کا مطلب ہے اپنے ملک کی بدنامی۔


اب گاندھی جی کے تیسرے بندر کا ذکر ہو جائے۔ یہ بندر ہیں ہمارے ملک کے گونگے عوام۔ انہیں کھلونے دے کر بہلایا جا رہا ہے۔ پہلے ان کے لئے پناہ گاہیں قائم کی گئیں کہ جس کے پاس سر چھپانے کی جگہ نہ ہو وہ ان پناہ گاہوں میں آ جائے۔ یہ پناہ گاہیں چند دن آباد رہیں۔ اس کے بعد ویران ہو گئیں۔ اب جناب وزیر اعظم کے ذہنِ رسا نے لنگر خانے کا راستہ دکھایا ہے۔ یہ لنگر خانے شہر شہر بنائے جائیں گے حالانکہ ایسے لنگر خانے ایدھی اور دوسرے مخیر اصحاب نے پہلے ہی محلے محلے اور شہر شہر بنا رکھے ہیں۔ اور آپ نے وہ لطیفہ تو سنا ہی ہو گا کہ ایک صاحب نے نوکر رکھا۔ نوکر نے پو چھا، سر جی، میرا کام کیا ہو گا؟ جواب ملا: صبح‘ دوپہر اور شام داتا صاحب جاؤ گے اور لنگر سے میرے اور اپنے لئے کھانا لاؤ گے۔ تو صاحب، بھک منگا بنا دیجئے سب کو۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker